سیاسی جماعتوں کا عوامی مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں

روزمرہّ زندگی کے مسائل سے پریشان ہوئے پاکستانیوں کی اکثریت کی طرح مجھے بھی عمران حکومت کے استحکام یا عدم استحکام میں خاص دلچسپی نہیں۔ تمام عمر صحافت میں گزارنے کی وجہ سے مگر سیاسی امور کے مشاہدے کے بعد اپنی رائے کو اس کالم کے ذریعے بیان کرنے کو مجبور ہوں ۔میرے رزق کا واحد وسیلہ صحافت ہی ہے۔ اندھی نفرت وعقیدت کے موجودہ دور میں اگرچہ اس دھندے سے وابستہ رہنا مشکل تر ہوتا جارہا ہے۔

حکومت فقط اپنے بیانیے کو بہت شدت سے فروغ دینا چاہ رہی ہے۔تنقید برداشت نہیں کرتی۔آزادمنش صحافیوں کو بکائو ٹھہراتی ہے جن میں سے اکثر پر وطن عزیز میں جھوٹی خبروں کے ذریعے انتشار پھیلانے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے۔اپوزیشن میں بیٹھی جماعتیں بھی صحافیوں سے خوش نہیں۔وہ انہیں حکومتی دبائو سے سہم جانے کے طعنے دیتی ہیں۔اس تصور کو ہم میں سے اکثر ’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ والے رویے سے رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کافی دنوں سے اکثر اکیلے بیٹھ کرنہایت سنجیدگی سے وطن عزیز میں جاری سیاست نامی شے کو سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں۔سنا تھا کہ ایک حکومت ہوتی ہے اور اس کے مخالف اپوزیشن جماعتیں۔حکومت اپنی توجہ ایسے اقدامات لینے پر مرکوز رکھتی ہے جو عوام کو استحکام اور خوش حالی کی جانب بڑھنے کا گمان فراہم کریں۔ حکومت مخالف جماعتیں اس کے برعکس عوامی مسائل اجاگر کرنے میں مصروف رہتی ہے۔ اس کے علاوہ شاید کوئی نظریہ نام کی شے بھی ہوتی ہے۔

سیاسی اُفق پر چھائی سیاسی جماعتوں کی ساخت اور رویے پر غور کرتا ہوں تو ان کی ’’نظریاتی‘‘ پہچان یا تخصیص کاتعین دشوار محسوس ہوتا ہے۔حکمران جماعت سمیت اپوزیشن میں بیٹھی دونوں بڑی جماعتیں بھی بنیادی طورپر نام نہاد الیکٹ ایبلز پر مشتمل ہیں۔ایسے خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہیں جو برطانوی دور سے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے لئے سرکاری سرپرستی کو یقینی بنانے کے لئے انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کے طاقت ور دھڑے ہیں اور ڈیرے داری کی روایت بھی نبھانا ہوتی ہے۔مہنگائی اور بے روزگاری ایسی اشرافیہ کا حقیقی مسئلہ نہیں۔وہ اس سے ہرگز پریشان نظر نہیں آتے۔ووٹروں کو مطمئن رکھنے کے لئے عام آدمی کے مسائل پر جالب کے بقول البتہ فقط تقریر (ہر صورت) کرتے ہیں۔

پارلیمان میں بیٹھے افراد خواہ حکومتی بنچوں پر بیٹھے ہوں یا اپوزیشن میں اگر واقعتا عوام کے حقیقی مسائل کے بارے میں فکر مند ہوتے تو ڈاکٹر حفیظ شیخ جیسے ٹیکنوکریٹ عالمی معیشت کے نگہبان ادارے یعنی آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ نہ کرپاتے جو واضح انداز میں روزمرہّ ضرورت کی اشیاء اور بجلی اور گیس کے نرخوں میں ناقابل برداشت اضافے کو یقینی بنارہا تھا۔ان کی جگہ آئے شوکت ترین صاحب بھی قومی اسمبلی یا سینیٹ میںپیش ہوکر تفصیل سے یہ بتانا لازمی محسوس نہیں کرتے کہ آئی ایم ایف نے ہماری معیشت کو توانا رکھنے کے لئے 500ملین ڈالر کی جو قسطیں دینا تھیں وہ ابھی تک کیوں نہیں ملیں۔وہ مل رہی ہوتیں تو ہمارے خزانے میں اب تک ایک ارب ڈالر آچکے ہوتے۔یہ ڈالر چند شرائط کی وجہ سے رکے ہوئے ہیں۔حکومت ان پر عملدرآمد سے ہچکچارہی ہے۔میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کو مگر خبرہی نہیں کہ وہ شرائط کیا ہیں اور ان پر عملدرآمد سے حکومت کیوں گھبرارہی ہے۔

آئی ایم ایف کے خلاف اپوزیشن میں بیٹھے لوگ تقاریر تو مسلسل جھاڑتے ہیں۔اپنے دور اقتدار میں لیکن وہ اکثر عطار کے اسی لڑکے سے شفایابی کی امیدباندھتے رہے۔اپنے تجربے کو بنیاد بناتے ہوئے ایسی حکمت عملی کی نشاندہی کرتے نظر نہیں آتے جو آئی ایم ایف پر انحصار کو مکمل ختم کرنے کے بجائے اسے کم سے کم تر بنانے کی راہ دکھائے۔

عوام سے حقیقی رابطہ قائم رکھنا ہماری سیاسی جماعتوں کا اب مسئلہ ہی نہیں رہا۔ کئی دہائیوں سے یہ طے کرلیا گیا ہے کہ اقتدار کا حقیقی منبع چند ریاستی ادارے ہیں۔انہیں خوش رکھو اور اقتدار میں حصہ لینے کی کوششوں میں مگن رہو۔سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کی داستان اسی لئے مقبول ہوئی تھی۔ یہ طے کرلیا گیا ہے کہ عمران خان کو حیلے بہانوں سے وزارت عظمیٰ کے آفس پہنچادیا گیا ہے۔’’مالکوں‘‘ کا مبینہ فیصلہ عملی اعتبار سے مگر سرجھکاکر مان لیا گیا۔ اس کے بعد امید یہ باندھنا شروع ہوگئے کہ پیا بالآخر عمران خان صاحب سے ناراض ہوجائیں گے۔ وہ ان سے خفا ہوئے تو اپوزیشن جماعتوں کی لاٹری بھی نکل آئے گی۔

اکتوبر کے پہلے ہفتے سے بالآخر ایک اہم ریاستی ادارے میں تعیناتی کے عمل میں تاخیر ہوئی تو ’’تھا جس کا انتظار ‘‘والا ماحول بن گیا۔بلاول بھٹو زرداری اور شہباز شریف قومی اسمبلی میں متحرک ہوگئے۔ان کی کوششوں سے حکومت کو دوبار قومی اسمبلی میں ہوئی گنتی کی وجہ سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست کے بعد یہ بھی فرض کرلیا گیا کہ عمران خان صاحب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کی ہمت نہیں دکھائیں گے۔ان قوانین کو لاگو کرنے کی ضد بھلادیں گے جنہیں وہ صاف شفاف انتخابی نظام کے لئے لازمی سمجھتے ہیں۔

سیاست کا طالب علم ہوتے ہوئے اس کالم میں لیکن میں اصرار کرتا رہا کہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر جو شخص بھی بیٹھا ہو اپنے چل چلائو کا ماحول برداشت نہیں کرسکتا۔پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ایک بار مؤخر کرنے کے بعد عمران خان صاحب کے لئے لازمی ہوگیا ہے کہ وہ اسے جلد از جلد طلب کرتے ہوئے لوگوں کو یہ پیغام دیں کہ وہ کہیں نہیں جارہے۔پارلیمان میں اکثریت کی حمایت انہیں اب بھی میسر ہے۔واضح دِکھتی اس منطق کے روبرو سرجھکاتے ہوئے وزیر اعظم نے گزشتہ دو ہفتوں سے اپنی جماعت کے ناراض اراکین اور نخرے دکھاتے اتحادیوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ریاستی اداروں نے بھی ان پر کڑی نگاہ رکھی اور پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بالآخر بلوالیا گیا۔میں یہ کالم اس اجلاس کے انعقاد سے قبل لکھ رہا ہوں۔ذاتی طورپر مجھے اس اجلاس سے کسی دھماکہ خیز خبر کی توقع نہیں۔دیکھ  لینے میں تاہم کوئی حرج بھی نہیں۔

error: