سیالکوٹ واقعے کے بعد لنکن لیگ میں شریک پاکستانی کرکٹرز کی سیکیورٹی میں اضافہ

سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں سری لنکن منیجر کے قتل کے بعد لنکا پریمیئر لیگ میں شریک پاکستانی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے سری لنکن منیجر کو توہین مذہب کا الزام عائد کرتے ہوئے قتل کرنے کے بعد لاش کو آگ لگادی تھی۔

شعیب ملک اور محمد حفیظ سمیت ایک درجن پاکستانی کرکٹرز لنکا پریمیئر لیگ میں شرکت کے لیے سری لنکا میں موجود ہیں۔

سری لنکن کرکٹ کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جمعہ کو پیش آنے والے واقعے کے بعد اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں گی کیونکہ اس واقعے کے سبب سری لنکا بھر میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ صرف پاکستانی کھلاڑیوں کی نہیں بلکہ تمام کرکٹرز اور عملے کی سیکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔

اگوکی پولیس تھانے کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) ارمغان مقط کی درخواست پر راجکو انڈسٹریز کے 900 ورکرز کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 302، 297، 201، 427، 431، 157، 149 اور انسداد دہشت گردی قانون کے 7 اور 11 ڈبلیو ڈبلیو کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس 131 افراد کو گرفتار کرچکی ہے جس میں 26 مرکزی ملزمان بھی شامل ہیں جنہوں نے اس واقعے میں بہیمانہ کردار ادا کیا تھا۔

مقتول فیکٹری منیجر کی میت پیر کو سری لنکا روانہ کردی گئی اور سری لنکن حکام نے واقعے میں ملوث افراد کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

پانچ ٹیموں پر مشتمل لنکا پریمیئر لیگ کا آغاز اتوار سے ہوا ہے اور ایونٹ کا اختتام 23دسمبر کو ہو گا۔