سیلاب متاثرین کیلئے ناکافی فنڈنگ، اقوام متحدہ کا دوبارہ امداد کی اپیل کا فیصلہ

سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے درکار مزید فنڈز کے لیے پاکستان اور اقوام متحدہ آئندہ ماہ کے اوائل میں دوبارہ ہنگامی اپیل کریں گے۔

 رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ریزیڈینٹ اور انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر جولین ہارنیس نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ 16 کروڑ ڈالر فنڈنگ کی ابتدائی اپیل سیلاب کی تباہ کاریوں کے حجم کو دیکھتے ہوئے ناکافی محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ 10 روز میں اقوام متحدہ اور پاکستان دوبارہ ہنگامی اپیل کریں گے کیونکہ اب ہمیں مزید فنڈز کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بیماریوں کے ساتھ ساتھ غذائی قلت کی دوسری آفت کا بھی سامنا ہے، مزید فنڈز کا مطالبہ ان اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ سیلاب کے سبب جمع ہونے والے پانی کی وجہ سے جلد اور آنکھوں میں انفیکشن، ڈائریا، ملیریا، ٹائیفائیڈ اور ڈینگی بخار کے بڑے پیمانے پر کیسز سامنے آئے ہیں۔

جولین ہارنیس نے کہا کہ ’ 4 اکتوبر کو جنیوا میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کو پاکستان میں سیلاب سے متعلق بریفنگ کے ساتھ ہم اس اپیل کو دہرانے کا ارادہ رکھتے ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’اگرچہ عالمی امداد کے وعدے 16 کروڑ ڈالر سے زیادہ تھے لیکن اقوام متحدہ کو اب تک صرف 6 کروڑ ڈالر ملے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ہمیں رکن ممالک کی جانب سے مناسب تعاون مل رہا ہے لیکن ان وعدوں کو تیزی سے امداد میں بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ منصوبوں پر عملدرآمد کیا جا سکے‘۔

جولین ہارنیس نے کہا کہ اس وقت ترجیح صحت کے بحران سے نمٹنا ہے جو اب سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے، صحت کے مؤثر نظام کے بغیر لوگ محفوظ نہیں رہ سکتے اور پانی سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا بہت مشکل ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو آلودہ پانی اور مچھروں کے غول سمیت مختلف مسائل کا سامنا ہے، یہ سب سے بڑے چیلنجز ہیں جن پر اقوام متحدہ کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے کوآرڈینیٹر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی مالیاتی ٹریکنگ سروس سے پتا چلتا ہے کہ تعلیم، لاجسٹکس اور تحفظ کے شعبے اب تک فنڈز سے محروم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب نے سندھ اور بلوچستان میں فصلوں کو تباہ کر دیا جس سے غذائی تحفظ کا خطرہ لاحق ہو گیا لیکن ان شعبوں میں بحالی کے اقدامات کے لی درکار 4 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مقابلے میں صرف 66 ڈالر ملے ہیں، صحت کے شعبے میں درکار فنڈنگ کا تخمینہ 2 کروڑ 28 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا تاہم اس کے لیے صرف 34 لاکھ ڈالر ملے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے لیے غذائیت ایک اہم عنصر ہونے کی وجہ سے 90 لاکھ ڈالر کی ضرورت تھی تاہم اس کے لیے بھی صرف 23 لاکھ ڈالر فنڈز فراہم کیے گئے۔

پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ موجود یونیسیف کے فیلڈ آپریشنز کے سربراہ اسکاٹ ہولری نے کہا کہ سیلاب میں 500 بچے جاں بحق ہوئے اور اب سیلاب کے بعد جن حالات کا سامنا ہے اس میں ہم سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں افراد کے زندگیوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔

دریں اثنا سیلاب زدہ علاقوں میں ملیریا کے کیسز تیزی سے پھیل رہے ہیں، بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد 324 تک پہنچ گئی ہے، اس حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ اگر ضروری امداد جلد نہ پہنچی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ’گلوبل فنڈ برائے انسداد ایڈز، تپ دق اور ملیریا‘ نے پاکستان میں ادویات اور صحت کی سہولیات تک رسائی اور تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کی منظوری دی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.