سیمی فائنل سے قبل محمد رضوان کے ’آئی سی یو‘ میں رہنے کا انکشاف

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے خلاف سیمی فائنل سے قبل قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں داخل رہنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ایونٹ کے ناک آؤٹ میچ کے بعد پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے قومی ٹیم کے ڈاکٹر نجیب نے بتایا کہ ’محمد رضوان کو 9 نومبر کو سینے میں شدید انفیکشن ہوگیا تھا، جس کے بعد انہیں ہسپتال میں داخل کرایا گیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’محمد رضوان نے دو راتیں ہسپتال میں گزاریں جس دوران ان کی صحت میں بہت بہتری آئی اور انہیں میچ سے قبل فِٹ قرار دیا گیا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ان کا عزم دیکھ سکتے ہیں جو انہوں نے ٹیم کے لیے پرفارم کرنے کے لیے ظاہر کیا اور ہم نے دیکھا کہ آج کے میچ میں انہوں نے کیسی کارکردگی دکھائی‘۔

ڈاکٹر نجیب نے کہا کہ ’محمد رضوان کی صحت سے متعلق ٹیم منیجمنٹ نے اس لیے کسی کو آگاہ نہیں کیا تاکہ ٹیم کا مورال نہ گرے‘۔

دوسری جانب پاکستان کے سابق فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر محمد رضوان کی ہسپتال میں موجودگی کی تصویر شیئر کردی۔

اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے وکٹ کیپر بلے باز کو ’ہیرو‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’کیا آپ تصور کرسکتے ہیں کہ اس شخص نے اپنے ملک کے لیے کھیلا اور اپنا بہترین کھیل پیش کیا‘۔

انہوں نے بتایا کہ محمد رضوان گزشتہ دو روز ہسپتال میں رہے۔

واضح رہے کہ دو روز قبل اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ قومی ٹیم کے دو کھلاڑی شعیب ملک اور محمد رضوان فلو میں مبتلا ہوگئے تھے جس کی وجہ سے ان کی آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شرکت مشکوک ہوگئی تھی۔

رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ انہیں معمولی بخار ہے تاہم ان کی کورونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آئی تھی جبکہ ڈاکٹروں نے انہیں آرام کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

تاہم گزشتہ روز میچ سے چند گھنٹے قبل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے میڈیکل پینل نے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان اور آل راؤنڈر شعیب ملک کو میچ کھیلنے کے لیے فٹ قرار دے دیا تھا۔

محمد رضوان نے طبیعت بہتر نہ ہونے کے باوجود آسٹریلیا کے خلاف میچ میں شاندار بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا اور 52 گیندوں پر 67 رنز اسکور کیے۔

میچ کے دوران ایک موقع پر آسٹریلوی باؤلر مچل اسٹارک کی تیز گیند ان کے ہیلمٹ پر بھی لگی جس کے بعد ان کی دائیں آنکھ کے نیچے سوجن نظر آئی، لیکن محمد رضوان نے ہمت نہ ہاری اور عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔

تاہم سپر 12 راؤنڈ میں ایک بھی میچ نہ ہارنے والی پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل میں 5 وکٹوں سے شکست ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.