سینٹ انتخاب: حقیقت اور دعوے

عمران خان صاحب کو تشہیر کے جدید ترین ذرائع کی بدولت ’’برانڈ عمران(Brand Imran)‘‘ بنانے کا سلسلہ تو ان دنوں ہی شروع ہوگیا تھا جب وہ اپنی والدہ کی یاد میں کینسر جیسے موذی مرض کے علاج کا ہسپتال تعمیر کرنے کے لئے چندہ جمع کرنے کی مہم میں مصروف ہوئے تھے۔1996میں تحریک انصاف بنائی تو کئی برسوں تک سیاسی پیغام پھیلانے میں البتہ کامیاب نہ ہوئے۔مشرف دور میں تاہم ’’آزاد‘‘ ٹی وی چینل متعارف ہوگئے۔ خان صاحب نے پوری لگن اور توانائی سے انہیں استعمال کیا۔ سوشل میڈیا کی اہمیت کو بھی ان کی ہی جماعت نے متاثر کن انداز میں دریافت کیا تھا۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا بنیادی مسئلہ مگر یہ ہے کہ ان کے ذریعے فقط ہمارے جبلی رویوں ہی کا مؤثر اظہار ہوسکتا ہے۔غصہ اور نفرت ان رویوں میں اہم ترین ہیں۔ تحریک انصاف نے ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کے خلاف عوام کے دلوں میں کئی دہائیوں سے اُبلتے غصے کو اظہار کے راستے فراہم کئے۔ صحافیوں کی اکثریت کو ’’لفافہ‘‘ بنایا۔سیاست کو ’’موروثی‘‘ دکھایا۔ آصف زرداری اور نواز شریف کی جماعتوں میں موجود افراد ’’ذہنی غلام‘‘ قرار پائے اور ایم کیو ایم جیسی جماعتوں کے کارکن ’’زندہ لاشیں‘‘۔ اپنے مخالفین کی بھداُڑانے کے بعد وہ بالآخر 2018میں وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔

حکومت سنبھالنے کے بعدبھی لیکن وہ انہیں نکات پر تکیہ کئے ہوئے ہیں جن کی تکرار نے انہیں اقتدار تک پہنچایا تھا۔ایسا کرتے ہوئے وہ اور ان کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج یہ حقیقت فراموش کرچکی ہے کہ خلقِ خدا کی حکومت سے قطعاََ مختلف نوعیت کی توقعات ہوتی ہیں۔وہ پوری ہوتی نظر نہ آئیں تو لوگ مایوس ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ عمران خان صاحب کی طرح برطانیہ کے بورس جانسن اور امریکہ کے ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ’’نفرت اور غصہ‘‘ کے مسلسل اظہار سے اقتدار حاصل کیا تھا۔ٹرمپ ا ور بورس جانسن کو مگر کرونا نے ’’وختا‘‘ ڈال دیا۔خان صاحب خوش نصیب رہے کیونکہ ہمارے ہاں ربّ کے کرم سے وباء نے وہ تباہی نہیں مچائی جس نے دُنیا کے کئی حکمرانوں کو بوکھلادیا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری مگر پاکستان میں ناقابل برداشت حد تک بڑھ رہی ہیں۔عمران حکومت اس تناظر میں ٹھوس حکمت عملی سوچتی اور اس پر عملدرآمد کی کاوشوں میں مصروف نظر نہیں آرہی۔ ماضی کی حکومتوں کو آج کی ہر مشکل کا ذمہ دار ٹھہرانا اب ناممکن ہوچکا ہے۔ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لئے موجودہ حکومت ہی کو پیش قدمی دکھانا ہوگی۔ اس جانب اگرچہ توجہ مبذول ہوتی محسوس نہیں ہورہی۔

اقتدار میں دو سے زیادہ برس گزارنے کے بعد عمران حکومت کو اب آئندہ ماہ سینٹ کی خالی ہونے والی 48نشستوں پر انتخاب کے مرحلے سے گزرنا ہوگا۔قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کی ٹکٹ پر 2018میں منتخب ہوئے لوگوں کی جو تعداد ہے اسے نگاہ میں رکھیں تو یہ جماعت 48میں سے 14نشستیں بآسانی جیت سکتی ہے۔اس کے بعد ایوان بالا میں اس کے اراکین کی تعداد 28ہوسکتی ہے۔یہ تعداد تحریک انصاف کو اکثریت فراہم نہیں کرے گی مگر اسے سینٹ کی سب سے بڑی جماعت ضرور بنادے گی۔بلوچستان عوامی پارٹی اور ایم کیو ایم جیسے اتحادیوں کی بدولت حکومت ایوان بالا میں اس کی وجہ سے Comfortableمحسوس کرنا شروع کردے گی۔

عمران خان صاحب اور ان کے Imageیا برانڈ کو توانا دکھانے کو بے چین ترجمان تاہم سینٹ کے ا نتخابی مرحلہ تک پہنچنے سے کئی ہفتے قبل ہی حواس باختہ ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ فرض کرلیا گیا ہے کہ ’’چور اور لٹیرے‘‘ دولت کے بے دریغ استعمال کے ذریعے تحریک انصاف کو نشستوں کی وہ تعداد جیتنے نہیں دیں گے جو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجودہ تعداد کی بنیاد پر اس کا ’’حق‘‘ نظر آرہا ہے۔اپنے ’’حق‘‘ پر ممکنہ ’’ڈاکہ‘‘ کی وقت سے بہت پہلے دہائی مچاتی تحریک انصاف سمجھ نہیں پارہی کہ سیاست میں تاثر یعنی Perceptionحقیقت سے کہیں زیا دہ اہم ہوتا ہے۔سینٹ کے آئندہ انتخاب میں ’’خریدوفروخت‘‘ کی دہائی مچاتی تحریک انصاف درحقیقت یہ پیغام دے رہی ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اس کی نشستوں پر بیٹھے کئی افراد ’’وفادار‘‘ نہیں رہے۔ ’’بکائو‘‘ ہوچکے ہیں۔اپنی ہی جماعت کے اراکین کی نیتوں کے بارے میں شک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے تحریک انصاف بلکہ تاثر پھیلارہی ہے کہ عمران خان صاحب کی شخصیت کا جادو اب بااثر نہیں رہا۔ڈیروں اور دھڑوں کی بنیاد پر روایتی سیاست کرنے والے افراد اس جماعت میں چند روز گزارنے کے بعد ’’خودمختار‘‘ ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔

ایسے اراکین کی ’’خودمختاری‘‘ سے تحریک انصاف کو جو نقصان پہنچ سکتا ہے اس کے تدارک کے لئے حکومت نے سینٹ کی خالی ہونے والے نشستوں پر خفیہ کے بجائے کھلے ووٹ کا تقاضہ شروع کردیا۔ پارلیمان سے تاہم ابتداء میں رجوع کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔صدر مملکت کے ذریعے سپریم کورٹ سے فریاد کردی ہے کہ وہ ان انتخابات کو Openکرنے کا حکم صادر کرے۔ سندھ حکومت نے حکومتی استدعا سے تحریری اختلاف کا اظہار کیا ہے۔اس کی مخالفت کے برعکس ’’خودمختار‘‘ الیکشن کمیشن کی رائے کہیں زیادہ اہم ہے۔ سپریم کورٹ کو اس نے صراحتاََ عرض کردیا ہے کہ ہمارا تحریری آئین سینٹ کی خالی ہونے والی نشستوں پر کھلے انتخاب کی اجازت نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ سے لہٰذا تحریک انصاف کو شفابخش دوا ملتی نظر نہیں آرہی۔

ممکنہ ناکامی کو بھاپنتے ہوئے تحریک انصاف نے انتہائی عجلت میں اب ایک آئینی ترمیم تیار کی ہے۔بدھ کی صبح یہ کالم لکھ رہا ہوں۔منگل کی رات قومی اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس کا ایجنڈا جاری ہوچکا ہے۔وہ عندیہ دے رہا ہے کہ قواعد کو معطل کرنے کی درخواست کرتے ہوئے مشیر پارلیمانی اُمور آئینی ترمیم کا بل پیش کردیں گے۔پارلیمانی امور کی باریکیوں سے نابلد شخص بھی یہ جانتا ہے کہ دو تہائی اکثریت کے بغیر آئین میں ترمیم ممکن نہیں۔تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کوایسی اکثریت میسر نہیں۔ اپوزیشن جماعتیں ڈٹ کر مجوزہ ترمیم کے خلاف ووٹ دیں گی۔

تحریک انصاف مگر جان بوجھ کر شکست سے دو چار ہونا چارہی ہے۔ ہنرتشہیر کے اپنے تئیں نورتن شمار ہوتے کئی ترجمانوں نے وزیر اعظم کو مائل کردیا ہے کہ سینٹ کی نشستوں پر ہونے والے انتخابات کو ’’خفیہ‘‘ کہنے پر ا صرار کرتے ہوئے ’’چور اور لٹیرے‘‘ عوام کے روبرو مزید بے نقاب ہوجائیں گے۔ان کے رویے کی بدولت تحریک انصاف اپنے ’’حق‘‘کے مطابق نشستیں حاصل نہ کرپائی تو حکومت بآسانی لوگوں کو یہ باور کردے گی کہ تحریک انصاف کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود کئی اراکین کو ’’خرید‘‘لیا گیا۔ایسا کرتے ہوئے اگرچہ وہ ’’چوروں اور لٹیروں‘‘ کو نہیں بلکہ اپنی ہی جماعت کے کئی افراد کو مشکوک دکھاکر بدنام کرے گی۔

تحریک انصاف کے ایک طاقت ور وزیر سے اکیلے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تو وہ مسکرادئیے۔نہایت خلوص سے میری’ ’سادگی‘‘ پر حیرانی کا اظہار کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نون) کے کئی اراکین قومی وصوبائی اسمبلی تحریک انصاف کے نامزد کردہ لوگوں کو ووٹ دینے پر آمادگی کا اظہار کرچکے ہیں۔اس کی وجہ سے سینٹ کی خالی ہونیوالی 48نشستوں میں سے حیران کن اکثریت تحریک انصاف کو مل جائے گی۔خوداعتمادی کے نشے سے مسحور ہوئے موصوف نے نہایت فخر سے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کی حیران کن جیت مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کو شسدر بنادے گی۔وہ حکومتی دبائو یا خریدوفروخت کا واویلا مچائیں گے۔ حکومت مگر انہیں ’’ہورچوپو‘‘ کی مانند یاد دلانے میں کامیاب ہوجائے گی کہ اسی باعث ’’کھلے‘‘ انتخاب کی تجویز پیش ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی اس کے لئے مگر تیار نہ ہوئیں۔اب ’’اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں‘‘والی حقیقت کو برداشت کریں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *