سینیٹ الیکشن میں اپ سیٹ: وزیر اعظم عمران خان کا پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ

پاکستان کی حکمراں جماعت تحریک انصاف نے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی نشست پر شکست کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرس کے دوران کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ووٹ آف کانفیڈینس یعنی اعتماد کا ووٹ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

عمران خان سے منسوب ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ انھوں نے کہا ہے کہ 'میں وزیر اعظم تب ہوں جب مجھے پارلیمنٹ کا اعتماد حاصل ہے۔'

وفاقی وزیر اسد عمر نے اس موقع پر کہا کہ وزیر اعظم نے اسلام آباد کی سیٹ پر تحریک انصاف کی شکست کے بعد 'گھنٹوں کا بھی انتظار نہیں کیا انھوں نے آج ہی یہ اعلان کیا ہے۔'

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ 'عوام سے اپیل ہے ان لوگوں کا کڑا احتساب کریں جنھوں نے (سینیٹ کے انتخابات میں) اپنا ووٹ فروخت کیا ہے۔'

'قومی اسمبلی میں بعض اراکین نے غلطی کا اعتراف کیا اور الیکشن کمیشن کے حکام سے نیا بیلٹ پیپر مانگا لیکن انھیں یہ نہیں دیا گیا۔'

تحریک انصاف کو سینیٹ الیکشن میں بڑا اپ سیٹ

پاکستان کی پارلیمان کے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ کی 37 نشستوں پر ووٹنگ کا عمل ختم ہو چکا ہے اور غیر حتمی نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں جس میں اب تک کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی وفاقی دارالحکومت کی جنرل سیٹ پر کامیاب ہو گئے ہیں۔ حکمراں جماعت کے لیے یہ بڑا اپ سیٹ ہے کیونکہ ان کے امیدوار اور موجودہ وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو شکست ہوئی ہے۔

یوسف رضا گیلانی
،تصویر کا کیپشنیوسف رضا گیلانی (بائیں جانب) کو 169 ووٹ جبکہ حفیظ شیخ (دائیں جانب) کو 164 ووٹ ملے

حفیظ شیخ کے مقابلے میں یوسف رضا گیلانی کو متحدہ اپوزیشن پی ڈی ایم کی حمایت حاصل تھی۔ یوسف رضا گیلانی کو 169 ووٹ جبکہ حفیظ شیخ کو 164 ووٹ ملے۔ قومی اسمبلی میں 340 ووٹ کاسٹ کیے گئے اور اس دوران سات ووٹ مسترد ہوئے۔

سینیٹ کے انتخابات پر سپریم کورٹ کی رائے کی روشنی میں گذشتہ روز الیکشن کمیشن نے خفیہ رائے شماری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی کی فتح پر پاکستان کے وزیر اطلاعات شبلی فراز کا ایک پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ اسلام آباد کے نتائج عمران خان کے خدشات کی تائید ہیں۔ 'اپوزیشن نے ضمیروں کا سودا کیا۔'

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور شہباز گِل نے حکومتی موقف دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 'غیر حتمی طور پر سات ووٹ ریجیکٹ ہوئے ہیں۔ پانچ ووٹ کا فرق ہے۔ ابھی اس نتیجہ کو چیلنج کریں گے۔'

'ایک بار پھر الیکشن میں ووٹ فروخت ہوا-وڈیو کے آنے کے بعد یہ کلئیر ہو گیا تھا کہ گیلانی ٹبر ووٹ خرید رہا تھا۔ اگلی باری الیکشن کی بجائے ضمیروں کی نیلامی کروا لیا کریں۔'

بلاول، شہباز گل

گیلانی کی جیت پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ ’جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جیئے بھٹو!‘

مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’جعلی مینڈیٹ عوام کے نمائندوں نے واپس چھین لیا۔۔۔ اب (عمران خان کے پاس) وزیر اعظم ہاؤس پر قابض رہنے کا کوئی جواز نہیں۔‘

یاد رہے کہ سینیٹ کے انتخابات سے قبل اس سیٹ پر کڑے مقابلے کی امید کی جا رہی تھی۔ حکومتی رہنماؤں نے بڑے اعتماد سے دہرایا تھا کہ انھیں فتح کے لیے ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے۔ تاہم یہ صحیح ثابت نہ ہوسکا۔

اس سے قبل جب عددی اکثریت پر نظر دوڑائی گئی تھی تو بظاہر حکومت اور ان کے اتحادیوں کو 185 ارکان کی حمایت حاصل تھی جبکہ اپوزیشن کے پاس 160 ارکان تھے۔ ڈسکہ میں دھاندلی کے الزامات کے بعد از سر نو انتخابات کی وجہ سے اس وقت قومی اسمبلی میں ارکان کی تعداد 341 ہے۔

دیگر سیٹوں پر نتائج

غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں خواتین کی سیٹ پر تحریک انصاف کی رہنما فوزیہ ارشد 174 کے ساتھ کامیاب رہی ہیں۔

ان کے مدمقابل اپوزیشن کی امیدوار فرزانہ کوثر کو 161 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس دوران پانچ ووٹ ریجیکٹ بھی ہوئے اور کل ووٹ 340 کاسٹ کیے گئے تھے۔

پنجاب کے نتائج

پنجاب سے 11 سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہو چکے ہیں۔

بلوچستان میں غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان میں سینیٹ کے انتخابات میں کوئی اپ سیٹ نہیں ہوا بلکہ حکومتی اتحاد اور اپوزیشن میں شامل اتحاد نے اپنے اپنے اراکین کی تعداد کے لحاظ سے نشستیں حاصل کی ہیں۔

غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکومتی اتحاد کو 12 میں سے آٹھ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو چار نشستیں مل گئی ہیں۔

سرفراز بگٹی
،تصویر کا کیپشنحکومتی اتحاد کے جنرل نشست پر امیدوار سرفراز بگٹی کامیاب ہوئے ہیں

بلوچستان سے سینیٹ کی 12 نشستوں کے لیے تمام صوبائی اسمبلی کے 65 اراکین نے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق حکومتی اتحاد کو سات جنرل نشستوں میں سے پانچ جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو دو نشستیں ملیں۔

جبکہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں سے جے یو آئی کے مولانا عبد الغفور حیدری اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے محمد قاسم رونجھو کامیاب ہوئے۔

ٹیکنوکریٹس کی دو نشستوں پر جے یو آئی کے کامران مرتضیٰ اور بلوچستان عوامی پارٹی کے سعید احمد ہاشمی کامیاب ہوئے۔ خواتین کی نشستوں پر بلوچستان نیشنل پارٹی کی ثمینہ احسان اور بلوچستان عوامی پارٹی کے ثمینہ ممتاز کامیاب ہوئیں جبکہ ایک اقلیتی نشست پر دنیش کمہار نے کامیابی حاصل کی۔

کوئٹہ سے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان سے سینیٹ کی 12 نشستوں کے لیے 65 اراکین اسمبلی اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ یہاں سے حکومتی اتحاد اور پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ پر مشتمل اراکین ایک دوسرے کے مد مقابل تھے۔

تیسری بڑی جماعت ہونے کے باوجود بلوچستان سے تحریک انصاف کا کوئی امیدوار نہیں۔ تحریک انصاف کی بلوچستان اسمبلی میں اراکین کی تعداد سات ہے۔

تحریک انصاف بلوچستان کے صدر سردار یارمحمد رند نے بی بی سی کے محمد کاظم سے بات کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ سات اراکین کے باوجود پارٹی کا کو کوئی امیدوار نہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کی مرکزی قیادت ان کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرتی تو بلوچستان سے پارٹی کا ایک سینیٹر کامیاب ہوتا۔

حزب اختلاف اختلاف کے مقابلے میں حکومتی اتحاد کی مشکلات زیادہ تھیں تاہم انتخاب سے تین روز قبل کی بڑی کوششوں کے باعث حکومتی اتحاد ان میں بڑی حد تک کمی لانے میں کامیاب ہوگئی کیونکہ بعض اہم امیدواروں کو انتخاب سے دستبردار کروایا گیا۔

جن اہم امیدواروں کو دستبردار کروایا گیا ان میں بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ میر اسراراللہ زہری، آزاد حیثیت سے کھڑے ہونے والے میر سردار خان رند اور بلوچستان عوامی پارٹی کی ٹکٹ پر خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والی ستارہ ایاز شامل تھیں۔

تجزیہ نگار شہزادہ ذوالفقار کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کو سب سے زیادہ مسائل سردار خان رند کی وجہ سے تھے لیکن انتخاب سے ایک روز قبل وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے حق میں دستبردار ہوگئے۔

سندھ میں سینیٹ الیکشن کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج

فاروق ایچ نائیک
،تصویر کا کیپشنغیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق سندھ میں ٹیکنوکریٹ نشست پر فاروق ایچ نائیک کامیاب ہوئے ہیں

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی میں سینیٹ کے انتخابات میں غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق ٹیکنوکریٹ نشست پر فاروق ایچ نائیک اور سیف اللہ ابڑو جیتے ہیں جبکہ خواتین کی نشست پر خالدہ اطیب اور پلوشہ خان فاتح ہوئی ہیں۔ یہ نتائج الیکشن کمیشن کے آر او اعجاز چوہان کے اعلان کردہ ہیں۔

ابھی باقی سیٹوں پر نتائج آنا باقی ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل نے بتایا کہ تحریک انصاف کے رکن کریم گبول بدھ کو بھی پارٹی اراکین کے گھیرے میں رہے۔ انھیں گزشتہ روز ساتھی اراکین ایوان سے لے گئے تھے۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرنے سے بھی معذرت کی۔

پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی شہریار شر نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ کاسٹ کیا ہے۔‘

پھر شہریار شر بلٹ پروف گاڑی میں اسمبلی سے روانہ ہوئے۔

خیبر پختونخوا اسمبلی کے نتائج

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں سینیٹ الیکشن میں 12 نشستوں میں سے 10 نشتیں تحریک انصاف نے جیت لی ہیں۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے شبلی فراز، محسن عزیز، لیاقت ترکئی، فیصل سلیم اور ذیشان خانزادہ کامیاب ہوئے ہیں۔ جنرل نشست پر جے یو آئی (ف) کے عطا الرحمن اور عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار ہدایت اللہ جیتے ہیں۔ ٹیکنوکیٹ کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے دوست محمد محسود اور ہمایوں خان فاتح ہوئے ہیں۔ ‏

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے تحت خواتین کی نشست پر تحریک انصاف کی ثانیہ نشتر اور فلک ناز جبکہ اقلیت کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف کے گل دیب سنکھ نے کامیابی حاصل کی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ: فیصل واوڈا مستعفی ہونے کے باعث نااہل نہیں ہوسکتے

فیصل

سینیٹ میں حکمراں جماعت کے امیدوار فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کو اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی وزیر کے مستعفی ہونے کے باعث انھیں نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق بظاہر جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے نتائج ہوسکتے ہیں۔

عدالت کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کا جمع کرایا گیا بیان حلفی بظاہر جھوٹا ہے اور اس پر الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا۔

نامہ نگار اعظم خان کے مطابق فیصل واوڈا نو بجے پارلیمنٹ میں آئے۔ پولنگ کے آغاز میں اپنا ووٹ ڈالا اور پھر اس کے فوراً بعد وہ قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہو گئے۔

دہری شہریت سے متعلق ایک مقدمے میں ان کے وکیل نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ان کا استعفی جمع کرایا۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ فیصل واوڈا نے ووٹ کاسٹ کرنے سے پہلے استعفی سپیکر قومی اسمبلی کو بھیجا یا بعد میں۔

درخواست گزار کی طرف سے فیصل واوڈا پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے جب قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے الیکشن کمیشن کے سامنے بیان حلفی جمع کرایا تھا جس میں انھوں نے یہ حلفاً کہا کہ وہ دہری شہریت کے حامل نہیں ہیں تو اس وقت بھی ان کے پاس امریکہ کی شہریت تھی۔

رکن قومی اسمبلی بننے کے بعد وہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں بھی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ عدالت نے فیصل واوڈا کو 29 جنوری 2020 کو دو ہفتے میں جواب جمع کرانے کے لیے نوٹس دیا تھا پھر جون میں جواب جمع نا کرانے پر توہین عدالت درخواست میں نوٹس دیا گیا اور متعدد پیشیوں پر التوا حاصل کرنے کے بعد بدھ کو فیصل واوڈا کے وکیل نے جواب کے بجائے عدالت میں استعفی جمع کرا دیا۔

فیصل واوڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اب ان کے خلاف نااہلی درخواست غیر موثر ہو گئی ہے، جس پر جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے 2018 کے فیصلے میں کہا کہ جھوٹا بیان حلفی جمع کرانے کے اپنے نتائج ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر رکھ کر فیصلہ سنائیں گے۔

واضح رہے کہ فیصل واوڈا اس وقت سینیٹ کا انتخاب بھی لڑ رہے ہیں۔ ان کو سینیٹ کا ٹکٹ دینے پر پارٹی میں اختلافات کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بنیں۔

سینیٹ کے انتخابات کا طریقہ کار

صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کی رائے کے باوجود پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت رائج پرانے طریقے یعنی خفیہ رائے شماری سے کرانے کا اعلان کیا تھا۔

ایوان بالا کے یہ انتخابات ترجیحی ووٹ کی بنیاد پر منعقد کیے جاتے ہیں۔

سینیٹ
،تصویر کا کیپشنسینیٹ کا عملہ ووٹنگ کے دوران اپنے فرائض سرانجام دیتے ہوئے

سینیٹ 104 ارکان پر مشتمل ہوتا ہے اور ایوان بالا کے ارکان کا چھ سال کے لیے انتخاب اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہر تین سال کے بعد آدھے سینیٹرز اپنی چھ برس کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو جاتے ہیں۔

اس بار بھی سینیٹ کے آدھے ارکان ریٹائر ہو گئے ہیں مگر سابقہ قبائلی علاقے فاٹا کی خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی وجہ سے اس بار 52 کے بجائے 48 نشستوں پر سینیٹ کے انتخابات ہو رہے ہیں۔ اپنی ڈھائی برس کی مدت میں تحریک انصاف کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں رہی تھی۔

خیال رہے کہ سینیٹ کے ایک رکن کی آئینی مدت چھ برس ہے اور ہر تین برس بعد سینیٹ کے آدھے ارکان اپنی مدت پوری کر کے ریٹائر ہوجاتے ہیں اور آدھے ارکان نئے منتخب ہو کر آتے ہیں۔

اِس مرتبہ سینیٹ کی 48 نشستوں کے لیے انتخابات ہوئے۔ ان میں سے پنجاب سے 11 سینیٹرز پہلے ہی بلا مقابلہ منتخب ہوگئے تھے جبکہ 37 نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔

چاروں صوبائی اسمبلیاں سینیٹ کے انتخابات کا الیکٹورل کالج ہیں یعنی چاروں صوبوں کے صوبائی کوٹے سے آنے والے سینیٹرز اپنے اپنے صوبے کی اسمبلی کے ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہوتے ہیں۔ جبکہ اسلام آباد کے سینیٹرز کا انتخاب پوری قومی اسمبلی کرتی ہے۔

رواں سینیٹ الیکشن میں سندھ اور پنجاب سے 11 سینیٹرز، خیبر پختونخوا اور بلوچستان سے 12 سیینیٹرز اور اسلام آباد سے دو ارکان ایوانِ بالا کا حصہ بننے جا رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *