Dunya Pakistan

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے طلبہ کو ہراسانی سے بچانے کے لیے بل منظور کرلیا

اسلام آباد: حالیہ برسوں میں تعلیمی اداروں میں ہراساں کیے جانے کے متعدد واقعات کے بعد پارلیمانی کمیٹی نے منگل کو طلبہ کو ہراساں کیے جانے سے بچانے کے لیے قانون سازی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ایک بل کو منظور کرلیا۔

 رپورٹ کے مطابق سینیٹر انجینئر رخسانہ زبیری سے ملاقات کرنے والی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فیڈرل ایجوکیشن نے ’تعلیمی اداروں میں طلبہ کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ بل 2020‘ کی منظوری دی۔

بل پیش کرنے والے سینیٹر جاوید عباسی نے اجلاس کو بتایا کہ بل کا مقصد تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول میں تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایسے مقدمات درج کرنے کے لیے کوئی فوجداری قانون موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے کارروائی میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے، بل میں جلد انصاف کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ کار فراہم کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسکول اور کالج کی سطح پر، ڈپٹی کمشنر کے پاس شکایات درج کی جائیں گی اور کسی یونیورسٹی کی صورت میں ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کو شکایات موصول ہوں گی اور وہ تین دن میں شکایت کمیٹی میں بھجوائے گی۔

بل کے تحت انکوائری کمیٹی 30 دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

کمیٹی کے چیئرپرسن نے اس بل اور ان کوششوں کو سراہا، سینیٹر مشاہد حسین سید نے بھی اس بل کی حمایت کی اور کہا کہ یہ وقت کی ضرورت ہے۔

سینیٹر مہر تاج روغانی نے انکوائری کمیٹیوں میں خواتین کی نمائندگی کی ضرورت پر زور دیا۔

اس بل کو پیش کرنے والے نے ڈان کو بتایا کہ کسی مناسب طریقہ کار کی عدم موجودگی میں تعلیمی اداروں، مدرسوں اور یہاں تک کہ ٹیوشن مراکز کے طلبا محفوظ نہیں تھے

انہوں نے کہا کہ اس بل میں عملے اور اساتذہ کے خلاف سخت مجرمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ہراساں کیے جانے کے مرتکب ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بلوچستان یونیورسٹی، گومل یونیورسٹی اور کئی دیگر یونیورسٹیز میں ہراساں کرنے کے معاملات ہم سب کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔

دریں اثنا کمیٹی نے ’انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی (ترمیمی) بل 2020‘ کی منظوری دے دی جسے بھی سینیٹر عباسی نے پیش کیا تھا۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ بل کے تحت آئی آئی یو آئی کے فیصلہ سازی کے عمل میں فیکلٹی کی نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری شعبے کی یونیورسٹیز میں قوانین کے ذریعہ فیصلہ سازی کرنے والے اداروں میں اساتذہ کی نمائندگی ضروری ہے۔

تاہم دیگر یونیورسٹیز کے برعکس آئی آئی یو آئی میں بنیادی ضرورت کا فقدان ہے کیونکہ اساتذہ کے مستقل مطالبات کے باوجود بورڈ آف گورنرز اور سینیٹ میں اساتذہ کی نمائندگی نہیں ہے۔

Exit mobile version