سیکس ورکرز: ڈنمارک کی سڑکوں پر جسم فروشی پر مجبور خاتون نے اس کام سے کیسے نجات پائی؟

ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے ہزاروں خواتین کو یورپی ممالک میں سمگل کر دیا جاتا ہے جہاں انھیں مردوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کا کام سونپ دیا جاتا ہے۔ جیول نائیجریا سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان لڑکی ہیں۔ یورپ آنے سے قبل انھیں توقع تھی کہ وہاں اُن کو بطور آیا (بزرگوں، بچوں یا بیمار افراد کی دیکھ بھال) کام کرنا ہو گا، مگر ان کے لیے صورتحال یکسر مختلف تھی۔ تاہم دو اتفاقیہ ملاقاتوں کی بدولت وہ جلد ہی اس چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں۔

جیول نے اپنے ڈنمارک پہنچنے کا منظر کچھ یوں بیان کیا۔ ’یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے میں نے زندگی میں پہلی مرتبہ روشنی دیکھی ہو۔ کیونکہ جہاں سے میں آئی تھی وہاں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اکثر اندھیرا ہی رہتا تھا۔ مگر یہاں ہر چیز چمک دمک رہی تھی، یہ سب بہت ہی خوبصورت تھا۔‘

جیول کے مطابق ڈنمارک پہنچ کر انھوں نے خدا کا شکر ادا کیا کہ وہ اب ایک جدید ملک میں پہنچ چکی تھیں۔ اُن کے مطابق اب وہ یہاں کام شروع کرنے سے متعلق بے تاب تھیں۔

جب جیول نائجیریا سے ڈنمارک کے لیے پرواز میں سوار ہوئیں تو وہ یہ سوچ رہی تھیں کہ وہاں پہنچ کر انھیں بڑی عمر کے افراد کی نگہداشت اور نگہبانی کا کام کرنا ہو گا۔

ان کے مطابق نائجیریا سے عام طور پر جب لوگ انسانی سمگلرز کے ذریعے یورپ جاتے ہیں تو انھیں براستہ لیبیا بسوں اور کشتیوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔ ’مگر میرا پلان اتنا اچھا اور منظم طور پر ہو رہا تھا کہ اس میں شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی کہ ایسا ویسا کچھ ہو گا۔‘

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے اندازوں کے مطابق نائجیریا سے غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے والی 80 فیصد خواتین کو سیکس کے دھندے میں استعمال کیا جاتا ہے۔

جیول ایسی بہت سے نائجیرین خواتین کے بارے میں جانتی تھیں جو خطرناک سفر مکمل کر کے یورپ پہنچیں اور وہاں انھیں سخت ناخوشگوار صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ لہٰذا جب لاگوس کے ایئرپورٹ سے انھوں نے اپنے سفر کا آغاز کیا تو انھیں یقین دلایا گیا کہ وہ اس بارے میں بالکل پریشان نہ ہوں۔

کوپن ہیگن میں اُن کی ملاقات نائجیریا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سے ہوئی جو انھیں اگلے ہی روز شہر کے مشہور ریڈ لائٹ ایریا، ویسٹربرو، لے گئیں۔

جیول یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ اس وقت بھی ان کی آنکھیں ارد گرد کے ماحول کو یہ سوچتے ہوئے تک رہی تھیں کہ شاید یہاں کوئی ہسپتال ہو گا جہاں انھیں کام کرنا ہو گا۔ وہ اس خاتون کے ساتھ کچھ دیر سڑکوں پر چلتی رہیں اور اس خاتون کی طرف سے انھیں کہا گیا کہ وہ واک کے دوران ارد گرد کے ماحول اور علاقے سے واقفیت حاصل کر لیں۔

تب اس خاتون نے ایسی بات کی جو جیول پر قیامت بن کر ٹوٹی۔

اس خاتون نے جیول کو بتایا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں انھیں کام کرنا ہو گا۔ ’میں نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا کہ جیسے وہ (خاتون) کسی عمارت کی طرف اشارہ کر رہی ہوں گی جس پر میری توجہ نہیں جا سکی۔ مگر ایسا نہیں تھا اُن کا مطلب وہ جگہ ہی تھی جہاں ہم پیدل چل رہے تھے۔ اس کے بعد اس خاتون نے مجھے بتایا کہ میں یہاں جسم فروشی کا کام کروں گی اور یہی وہ جگہ ہے جہاں مجھے گاہک تلاش کرنے ہوں گے۔ یہ ایسی خبر تھی کہ جیسے پورا ڈنمارک ہی مجھ پر آن گرا ہو۔‘

مگر جیول ایک حوالے سے خوش قسمت تھیں کیونکہ اسی رات ان کی ملاقات اچانک ’ہوپ ناؤ‘ نامی تنظیم کی مشیل مائیلڈ واٹر سے ہوئی۔ ’ہوپ ناؤ‘ نامی این جی او ڈنمارک میں سیکس کے لیے سمگل کی جانے والوں کی مدد کرتی ہے۔ جب مشل نے سڑک پر گھومتی 20 برس کی اس خوفزدہ سی لڑکی (جیول) کو دیکھا تو اسے اپنا کارڈ دیا جس پر ان سے رابطے کی تمام تفصیلات درج تھیں۔

Michelle Mildwater
،تصویر کا کیپشنمشیل نے ہوپ ناؤ نامی تنظیم کی بنیاد 2007 میں رکھی

جیول کی نائیجرین باس، یعنی وہی خاتون جو اسے اس علاقے میں لا کر آئیں تھیں، نے انھیں متنبہ کیا کہ وہ موٹر سائیکل پر سوار اس گوری (مشیل) پر اعتماد نہ کرے۔ اس کے بعد اس نے جلدی سے جیول کو اُس کا پہلا گاہک تلاش کر کے دے دیا۔

جیول کا کہنا تھا کہ اس شخص نے انھیں اپنے ساتھ گھر لے جانے کے عوض 450 ڈالر دیے اور اس کے بعد ان کی میڈم وہاں سے چلی گئیں۔

’وہ مجھے جیسے ہمیشہ کے لیے اپنے ساتھ لے کر جا رہا تھا۔ اس وقت میں ڈنمارک کی زبان میں بات بھی نہیں کر سکتی تھی اور مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ وہ شخص کیا کہہ رہا ہے۔ ہم نے ایک دوسرے سے بات کرنے کے لیے گوگل کا سہارا لیا۔ یہ خوفناک تھا۔‘

اس کے بعد آنے والے مہینوں میں جیول کے لیے سیکس کے کاروبار سے جڑے رہنا اتنا آسان نہیں تھا۔

’میں اس میں اتنی اچھی بھی نہیں تھی۔ میں ایک کونے تک محدود رہنے والی سہمی سی لڑکی تھی۔ مگر میں نے اس بات کا پتہ چلا لیا کہ یہاں آنے والے باقاعدہ گاہک جانتے ہیں کہ جب اس علاقے میں کوئی نئی آنے والی لڑکی کے ساتھ سیکس کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔‘

یورپی یونین کی طرف سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2017 اور 2018 میں انسانی سمگلنگ کے 14،000 سے زائد متاثرین سامنے آئے ہیں۔ لیکن یہ سب ایک بڑے پیمانے پر کی جانے والی ایسی سمگلنگ کا محض پتہ دیتی ہے کیونکہ وہ صرف شناخت ہونے والے متاثرین کا ریکارڈ مرتب کرتے ہیں۔ ان متاثرین میں سے آدھی تعداد یورپ سے باہر آنے والوں کی ہے۔

نائیجریا ان پانچ ممالک میں سے ایک ہے جہاں سب سے زیادہ خواتین کو سیکس کے مقصد کے لیے بیرون ممالک سمگل کیا جاتا ہے۔

یورپین کمیشن کے مطابق جنسی طور استحصال کا نشانہ بنانے کا عمل اس طرح کی سمگلنگ کی وجہ بنتا ہے۔ اس مجرمانہ فعل سے سالانہ 14 ارب یورو (16 بلین ڈالر) تک کا ریونیو حاصل ہوتا ہے۔

A street in Vesterbro
،تصویر کا کیپشنریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ ’ویسٹربرو‘ کی ایک سڑک کا منظر

جو خواتین اس دھندے سے منسلک ہو جاتی ہیں انھیں کہا جاتا ہے کہ وہ انھیں سمگل کرنے والے شخص کو سفری اور دیگر انتظامات کی مد میں مناسب ادائیگی کریں۔

ڈینش انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز میں مائیگریشن کے شعبے کے سینیئر محقق سائن پلامبچ کا کہنا ہے کہ سمگل کیے جانے والے قرض میں جکڑے ہوتے ہیں۔

’نائیجیریا کے شہری سیکس ورکر گروپوں میں سے مائیگریشن کرنے والے سب سے زیادہ مقروض ہونے والوں میں شامل ہیں۔ یہ قرض دس ہزار سے ساٹھ ہزار یورو کے درمیان ہو سکتا ہے۔ جب آپ اتنے بڑے قرضے میں جکڑے ہوں تو پھر آپ کو کم وقت میں زیادہ پیسے کمانے ہوتے ہیں اور اگر آپ کے پاس اصل سفری دستاویزات بھی نہ ہوں تو پھر ایسے میں پیسہ کمانے کا تیز ترین طریقہ سیکس انڈسٹری ہے۔‘

جیول کو سمگل کرنے والوں نے کہا تھا کہ وہ باقاعدگی سے اقساط میں انھیں 42 ہزار یورو ادا کرنے کی پابند ہوں گی۔ جیول کے نائیجیریا سے ڈنمارک جانے سے ایک روز قبل انھیں سمگل کرنے والے ایک ملاقات کے لیے انھیں ایک قبرستان لے گئے تھے تاکہ اپنی بات جیول پر اچھی طرح واضح کر سکیں۔

’مجھے یہ حلف لینے پر مجبور کیا گیا کہ میں پیسے ہر صورت میں ادا کروں گی اور میں یہ کسی کو نہیں بتاؤں گی کہ مجھے کس نے سمگل کیا ہے۔ اور اگر میں نے اس حلف کی پاسداری نہ کی تو مجھے اور میرے خاندان کو سنگین نتائج کے لیے تیار رہنا ہو گا۔‘

جب جیول ڈنمارک پہنچ گئیں تو سمگل کرنے والوں نے اُن کے خاندان والوں کو دھمکیاں بھی دیں تاکہ جیول انھیں رقم باقاعدگی سے بھیجتی رہیں۔

’وہ لوگ میرے گھر گئے اور وہ چاہتے تھے کہ میری دادی مجھے اس بات پر قائل کریں میں یہ بات پولیس تک نہ لے جاؤں یا انھیں پیسے نہ دینے جیسا خیال ذہن میں نہ لاؤں۔‘

’چنانچہ جب بھی میں اپنی دادی کو فون کرتی تھی تو وہ فون پر چلاتی تھیں کہ مجھے ڈیل کے عین مطابق پیسے ادا کرنے ہیں اور اس بارے میں پولیس کو خبر نہیں ہونی چاہیے۔ وہ تاکید کرتی تھیں کہ میں ہر صورت یہ پیسے دوں وگرنہ اُن کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔‘

جیول بہت زیادہ دباؤ میں تھیں اس لیے انھوں نے سوچا کہ وہ اپنے گاہکوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا نہیں رکھ سکتی تھیں جن کی ویسٹربرو کی سڑکوں پر کھڑی کاروں کے اندر یا ان کے گھروں میں وہ خواہشیں پوری کرتی ہیں۔

’آپ نہ نہیں کہہ سکتے۔ آپ کو ہاں ہی کہنی ہو گی، کیونکہ اسی وقت وہاں دس سے 15 اور خواتین بھی ایک ایسے شخص کی تلاش میں سرگرداں ہوتی ہیں جس کی تمام تر خواہش وہ پوری کر سکیں۔‘

مگر کسی گاہک کے ساتھ اس کے گھر جانا کسی خطرے سے خالی نہیں ہو سکتا ہے۔

ابھی بھی خوف میں مبتلا جیول کا کہنا ہے کہ اس رات میں مر سکتی تھی جب مجھے ’باتھ ٹب‘ میں رہنے پر مجبور کیا گیا۔

’جس شخص کے ساتھ میں اس کے گھر گئی تھی اس نے مجھے باتھ ٹب میں جانے کا کہا۔ اور میں نے سوچا سب ٹھیک ہو گا وہ شاید مجھ سے کچھ صاف کرانے یا کسی اور کام کے لیے کہے گا۔ اس کے بعد وہ باہر نکل گیا اور واپس دو برف کے دو تھیلے لے آیا اور اس نے اس برف کو باتھ ٹب میں میرے اوپر انڈیلنا شروع کر دیا۔ میں اس وقت برہنہ تھی اور یہ سردی کے وسط کا موسم تھا۔‘

’مجرموں کو کھلی چھوٹ‘

رواں برس اپریل میں انسانی سمگلنگ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک نئی حکمت عملی کا اعلان کرتے ہوئے یورپی کمیشن نے تسلیم کیا ہے کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے گذشتہ دس برسوں کے دوران کی جانے والی کوششیں بڑی حد تک ناکام رہیں۔

کمیشن نے کہا کہ ’مجرموں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے اور سمگلروں کے خلاف مقدمات اور سزاؤں کی تعداد کم رہتی ہے، جس نے سیکس کے مقاصد کے لیے انسانی سمگلنگ کو کم خطرے اور زیادہ منافع والا کاروبار بنا دیا ہے۔‘

کمیشن کے مطابق استحصال کے شکار متاثرین کی طلب میں کمی لانے جیسی کوششیں بھی ناکامی سے دوچار ہو گئی ہیں۔

برطانوی حکومت کے مطابق گذشتہ برس مارچ میں پولیس نے انسانوں کو جدید غلامی میں رکھنے جیسے 7،779 جرائم درج کیے ہیں۔ ان جرائم میں مزدوروں اور جنسی طور پر استحصال کا شکار ہونے والوں کے نام بھی شامل ہیں مگر سال 2019 میں صرف 250 لوگوں کے خلاف فرد جرم عائد ہو سکی۔

ویسٹربرو کی مرکزی شاہراہ سنیچر کی شب کو بارز، کلبز اور سیکس شاپس پر ہونے والی گہما گہمی کی وجہ سے انتہائی مصروف اور چکا چوند روشنیوں میں نہائی ہوتی ہے۔ کثرت شراب نوشی کی وجہ سے مردوں کے گروپس ادھر ادھر لڑکھڑاتے نظر آتے ہیں۔ یہاں سیکس کے لیے آنے والی زیادہ تر خواتین کا تعلق نائیجریا اور مشرقی یورپ سے ہے۔

ان کا میک اپ بہترین ہوتا ہے اور بال اچھے طریقے سے سنوارے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ چست کپڑے پہنتی ہیں، جن میں ورزش کے دوران پہنے جانے والے کپڑے بھی شامل ہیں،ان کے پیروں میں ایسے جوتے ہوتے ہیں جن کی مدد سے تیز دوڑا جا سکے اور ساتھ ہی چند خواتین نے اونچی ایڑی والے جوتے بھی پہنے ہوتے ہیں۔ ان خواتین کا لباس جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث خواتین کے مخصوص ملبوسات جیسا نہیں ہوتا۔

مشیل گذشتہ ایک دہائی سے ڈنمارک میں بیرون ملک سے جسم فروشی کے لیے آنے والی خواتین کی مدد کر رہی ہیں۔ وہ اکثر اس جگہ کا دورہ کرتی ہیں۔ وہ جیول کی طرح کی خواتین کو اپنا رابطے کا کارڈ دیتی ہیں۔ وہ مدد اور رہنمائی کی بھی پیشکش کرتی ہیں۔ وہ اس بات سے باخبر ہیں کہ اس خطرناک سڑک پر زندگی کیسی ہے اور یہاں موجود ایک ہوٹل میں ماضی میں کس نوعیت کے پرتشدد واقعات پیش آئے ہیں۔

ان کے مطابق اس ہوٹل میں متعدد ریپ کیے گئے۔ ایسا بھی وقت تھا کہ جب ایک خاتون خون میں لت پت اس ہوٹل سے دوڑ کر باہر آئی تھی۔

اختتام ہفتہ پر ڈنمارک کی غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) سیکس کے کاروبار سے منسلک خواتین کی مدد کے لیے کام کرتی ہیں۔ ان میں سے ایک ’ون ریڈن انٹرنیشنل‘ نامی کیفے کو بھی چلاتی ہیں۔ اس کیفے میں وہ خواتین آ سکتی ہیں جو سیکس کے کام کے دوران آرام کی غرض سے یا کچھ کھانے پینے کے لیے آ سکتی ہیں۔

اس تنظیم کے رضاکار سڑک پر کھڑے ہو کر سیکس ورکرز میں خطرے سے بچاؤ کی اشیا بھی تقسیم کر رہے ہوتے ہیں۔

یہاں موجود ایک سرخ رنگ کی گاڑی میں ایک بستر بھی لگا ہوا ہے، جسے خاص طرح کی روشنی سے مزین کیا گیا ہے اور اس وین میں کنڈومز اور صفائی کرنے والے ٹشوز بھی ان خواتین کو مہیا کیے جاتے ہیں۔ یہ ایک نجی جگہ ہے۔ کسی ممکنہ طور پر خطرے والی جگہ جانے کے بجائے یہاں ایسی خواتین اپنے گاہک لے کر آ سکتی ہیں۔

رات بھر اس وین کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے یہاں ایک بڑی تعداد میں خواتین اور مردوں موجود رہتے ہیں۔ مگر یہ رضاکار ایک مناسب فاصلے پر کھڑے رہتے ہیں مگر وہ اس قابل ہوتے ہیں کہ اگر کوئی خاتون مصیبت میں ہو تو اس کی مدد کر سکیں۔

The red van
،تصویر کا کیپشنریڈ وین کے رضاکار مدد کے لیے کھڑے ہیں

ریڈ وین کے رضاکاروں میں سے ایک سائن پلامبچ ہیں۔ جو پیشے کے اعتبار سے تعلیمی امور کی محقق ہیں۔

ان کے مطابق ان خواتین کے کچھ مسائل ہیں جنھیں یہ حل کرنا چاہتی ہیں، ان میں قرض، غربت، خاندان اور بچوں جیسی مجبوریاں ہیں۔ کام کرنا ان کی مجبوری ہے۔ ہم چاہے اسے پسند کریں یا نہ کریں مگر اب وہ جسم فروشی کو ترجیح دے رہی ہیں۔ لہٰذا ہم ان کے لیے محفوظ جگہ کا انتظام کرتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر ان خواتین کے پاس اور آپشن ہوں تو ان میں سے اکثر جسم فروشی کو ترجیح نہیں دیں گی۔ ان کے لیے کیا اچھا اور کیا برا ہے یہ اخلاقیات باتوں کی حد تک ہے جبکہ ان کی مجبوری پیسہ کمانا ہے۔

ڈنمارک میں جسم فروشی کی ممانعت نہیں ہے۔ مگر اس کے لیے آپ کے پاس اجازت نامہ ہونا چاہیے۔ مگر کوپن ہیگن میں جسم فروشی کے پیشے سے منسلک ہونے پر مجبور خواتین بہت خطرات سے دوچار رہتی ہیں اور وہ اپنے خلاف ہونے والے جنسی تشدد جیسے مقدمات کو پولیس کے پاس بھی شکایت کرنے سے گھبراتی ہیں۔

ڈنمارک کی پالیسی ہے کہ وہ غیرقانونی طور پر آنے والے لوگوں کو واپس اُن کے ملک بھیج دیتے ہیں۔ اس میں چاہے سمگل ہو کر آنے والی متاثرین خواتین ہی کیوں نہ ہو۔ ان سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ کچھ مختصر وقت حکومت کے دیے گئے سیف ہاؤس میں رہنے کے بعد وہ اپنے ملک واپس چلی جائیں گی۔

سڑکوں پر چار ماہ رہنے کے بعد اپنی زندگی سے تنگ، خودکشی پر مائل جیول بھی حکام کو تفصیلات بتانے سے گریزاں تھیں۔ جیول ابھی بھی قرض کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہیں۔ اور انھیں اپنی اور نائیجریا میں اپنے خاندان کے تحفظ کی بھی فکر لاحق تھی۔

مگر پھر جیول کی زندگی کیسے بدلی، یہ سب ایک افسانوی کہانی کی طرح ہے۔ یہ اس وقت ہوا جب جیول ایک مقامی فرد سے ملیں اور پھر انھیں محبت ہو گئی۔ اس شخص کے ساتھ پہلے ڈنر کے بعد ہی جیول نے سچ سچ اسے اپنی کہانی بتا دی۔

جیول نے اپنے بوائے فرینڈ کو سب بتا دیا اور یہ بھی کہ یہ وہ بوجھ ہے جو ان کے ساتھ رہے گا۔

A painting by Jewel
،تصویر کا کیپشنجیول کی بنائی گئی تصویر جو اس پر پیش آنے والے واقعات کی عکاسی کرتے ہیں

جیول نے اس کے بعد سڑکوں پر جسم فروشی کا کام چھوڑ دیا۔ تاہم ان کے بوائے فرینڈ ان کی میڈم کو ہفتے بھر کی ادائیگی دینے میں مدد دیتے تھے۔ مگر اس جوڑے کو رہنمائی کی ضرورت ہے۔ جیول کے بوائے فرینڈ نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ کسی ایسے شخص کو جانتی ہیں جو اس سارے معاملے میں ان کی مدد کر سکے۔

جیول کے پاس مشیل کا کارڈ تھا، جو مشیل نے انھیں جسم فروشی کی پہلی رات ہی ویسٹربرو کی سڑک پر تھمایا تھا۔

مشیل نے جیول کی رہنمائی کی اور اسے مقابلے پر تیار کرنے کے لیے اس کی مدد کی اور اسے یہ حوصلہ دیا کہ وہ اپنی میڈم کو پیسے دینا چھوڑ دیں۔ خوش قسمتی سے اس سب کا اس پر یا اس کے خاندان پر کوئی منفی اثر مرتب نہیں ہوا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ اسے سمگل کرنے والوں کا تعلق کسی ایسے بڑے جرائم پیشہ گروہ سے نہیں تھا جو کئی ممالک میں متحرک ہو۔

اب جیول ڈنمارک میں رہنے سے متعلق اپنی شہریت کے لیے دی گئی درخواست کے جواب کی منتظر ہیں۔ انھیں ڈنمارک کی زبان پر مہارت حاصل ہو گئی ہے اور اب وہ ایک بچے کی ماں بھی بن گئیں ہیں۔ جیول اور مشیل اب اچھی دوست ہیں۔ جب جیول کی شادی ہوئی تو ہوپ ناؤ این جی او کی ایک خاتون اس کی شادی پر سہیلی بنیں۔

جیول کے مطابق یہ ان کے بہترین لمحات تھے کہ ’کسی نے میری نئی زندگی کی شروعات کیں اور وہ مشیل تھیں جنھوں نے یہ سب کیا۔‘ جیول کو یہ توقع ہے کہ ایک دن وہ بزنس کی تعلیم حاصل کر رہی ہوں گی، وہ خواتین کی سڑکوں پر مدد کے لیے رضاکارانہ خدمات بھی انجام دینا چاہتی ہیں۔

لاک ڈاؤن سے قبل مشیل، جو ماضی میں اداکاری کے شعبے سے وابستہ رہ چکی ہیں، نے جیول کو ایک ڈرامہ بنانے پر راضی کر لیا۔ ایک سمگل کی جانے والی خاتون کی کہانی اور کوپن ہیگن میں اسے لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا کہا۔ جیول نے اس کا نام ’دی اونلی وے آؤٹ از تھرو‘ رکھا۔

Jewel's performance
،تصویر کا کیپشنجیول کوپن ہیگن میں اپنے ڈرامے پر پرفارم کر رہی ہیں

جیول کے مطابق یہ تھیراپی کی طرح تھا۔ جب میں یہ شو کر رہی تھی تو ایسا لگا کہ جیسے میں اپنے آپ سے باہر نکل رہی ہوں۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ میں خود ناظرین کا حصہ ہوں اور جو میں نے دیکھا میں اس سے متعلق بہت جذباتی تھی۔‘

’کیونکہ یہ محض ایک کہانی نہیں تھی بلکہ یہ میری حقیقت تھی۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: