سی پیک قومی ترقی کا منصوبہ ہے، کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی، عاصم باجوہ

کراچی: پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے عزم کا اظہار کیا ہے کہ سی پیک قومی ترقی کا منصوبہ ہے اور کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔

کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2 سال قبل گوادر فری زون فیز 60 ایکٹر پر شروع کیا تھا اور اس وقت وہاں آبادی ہے، 12 میں سے 6 فیکٹریوں کی تعمیرات مکمل ہوچکی ہیں۔

انہوں نے سی پیک کے تحت بڑھتی معاشی سرگرمیوں سے متعلق بتایا کہ وہاں ایک فیکٹری نے پروڈکشن شروع کردی ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ فیز 2 کا آغاز ہونے والا ہے جو 22 سو ایکٹر پر محیط ہے اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ پشاور سے کراچی موٹر وے میں صرف ایک حصہ باقی رہ گیا ہے جو سکھر سے حیدر آباد تک کا ہے۔

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ بہت جلد اس حصے کی تعمیرات کا کام بھی شروع ہوجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے ڈی آئی خان موٹر وے کا منصوبہ چین نے منظور کرلیا ہے جبکہ ژوب سے کوئٹہ کے لیے کام جاری ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 2 سے 3 برس میں تمام روٹس آپس میں مل جائیں گے اور گوادر تک بہترین سفری سہولیات میسر ہوں گیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ مغربی روٹس کی تکمیل سے ملحقہ علاقوں اور قصبوں کے نوجوانوں کو نوکری میسر ہوگی۔

الیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ سڑکوں، انرجی اور فائبر اوپٹک سے نکل کر زراعت اور اسپیشل اکنامک زون میں داخل ہور ہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غربت کا خاتمہ کا باعث اور جی ڈی پی میں اضافے کا باعث ہوگا وہ سب زراعت اور اسپیشل اکنامک زون کی بدولت ہوگا۔

عاصم سلیم باجوہ نے بتایا کہ چائنیز آئی ٹی سیکٹر میں دلچسپی کا اظہار کررہےہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رشکئی میں ایک ہزار ایکٹر پر اسپیشل اکنامک زون بن رہا ہے اور 2 ہزار درخواستیں آئی ہیں۔

انہوں نےکہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹر کے ساتھ اجلاس کی اجازت دینے جارہے ہیں۔

چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے کہا کہ فیصل آباد میں کینیڈا اور جرمن جوائنٹ وینچر نے اپلائی کردیا ہے.

عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستانی امریکن ڈاکٹرز کا گروپ جو الیکٹرو میڈیکل آلات کے شعبے میں آنا چاہتے ہیں.