Site icon Dunya Pakistan

شاعر عامر بن علی سے فلسطین پر ایک مکالمہ

"اسد اللہ غالب"

عامر بن علی کا تعلق پاکستان کے قصبے میاں چنوں سے ہے۔اس کے خاندان کا کاروبار جاپان سے لے کر لاطینی امریکہ تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ لوگ سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں بر آمد کرنے کے کاروبار سے منسلک ہیں ۔ عامر بن علی کا زیادہ وقت جاپان میں گزرتا ہے اور کبھی وہ لاطینی امریکہ کے ملکوں میں جا بستا ہے۔ یہ اس کی کاروباری مجبوری ہے ۔ بچوں سے ملنے پاکستان آتے ہیں تو ملک بھر میں اپنے دوستوں سے بھی ملاقاتیں کرتے ہیں ۔ کوئی دو ماہ پہلے انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ رمضان المبارک میں پاکستان پہنچیں گے اور پھر لاہور کا چکر لگا کر مجھ سے ملنے آئیں گے۔ میں نے بے تابی سے یہ دن انگلیوں پر گننا شروع کردئیے۔ عامر بن علی بھرپور جوانی کے دور سے گزر رہا ہے۔ کاروبار کے سلسلے میںوہ سمندروں کے اوپر سے سفر کرتا ہے اس لیے اس کے دل میں محبت کاسمندر موجزن رہتا ہے۔ وہ ایک پر اعتماد نوجوان ہے مگر انتہائی شرمیلا شرمیلا سا ۔ اس کی شخصیت کا یہی پہلو میرے دل کو بھا گیا ہے۔لاہور پہنچ کر اس نے مجھے فون کیا کہ وہ میری طرف آرہا ہے ۔ میں نے کہا چلنے سے پہلے فون ضرور کرنا کہ میں عام طور پر مادر زاد لباس میں بستر پر لیٹا رہتا ہوں۔ بہرحال یہ اس کی مہربانی ہے کہ اس نے میری فرمائش کے مطابق گھر سے نکلنے سے پہلے مجھے فون کردیا کہ وہ فیروزپور روڈ پر ہے تو میںنے جلد از جلد انسانی لباس پہن لیا اور منہ ہاتھ دھو کر ترو تازہ ہوگیا۔ ہم دونوں ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ مجھے اس کی شکل نظر نہیں آرہی تھی ا ور اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ میرے ذہن میں کیا خیالات پل رہے ہیں۔ ہم موسم پر گفتگو کرکے وقت ضائع نہیں کرسکتے تھے۔ ٹوکیو کی سڑکوں پر کھِلنے والے خوش رنگ پھولوں کے خوابوں کا ذکر بھی نہیں کر سکتے تھے ۔ لاطینی امریکہ کی ویرانی کا نوحہ بھی نہیں پڑھ سکتے تھے۔ میں نے سوچا کیوں نہ ایک خاص موضوع پر بات کرلی جائے۔ ان دنوں دنیا میں دو بحران للکار رہے ہیں، فلسطین میں بچوں پر بم برسائے جارہے ہیں اور کشمیر میں بچوں کو پیلیٹ گنوں سے اندھا کیا جارہا ہے۔ میں نے عامر بن علی پر ایک سیدھا سوال داغا، کیا و جہ ہے کہ فلسطین پر جن پاکستانی دانشوروں اور شاعروں نے کچھ لکھا ہے ان کا تعلق بائیں بازو سے ہے جنہیں ترقی پسند اور لبرل کہا جاتا ہے اور کشمیر کا رونا رونے والوں میں صرف دائیں بازو کے دانشور شاعر اور سیاستدان اور مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں؟ عامر بن علی نے گہرا سانس لیا اور کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کشمیر اور فلسطین دونوں جگہ آزادی کی تحریکیں ٹھاٹھیں مار رہی ہیں لیکن ان دونوں کے ڈی این اے میں بہت نمایاں فرق ہے۔ فلسطین کی تحریکِ آزادی لبرل اور سیکولر قسم کی ہے، اس میں جار ج حباش جیسا مسیحی بھی شامل ہے جبکہ کشمیر میںسراسر مذہبی بنیادوں پر تحریک چل رہی ہے۔ میں نے پوچھا، یہ آپ نے کیا کہہ دیا؟ عامر بن علی نے کہا کہ فلسطین کی تحریکِ آزادی میں ابتدائی طور پر صرف مسلمان شامل نہیں تھے بلکہ یہودی اور عیسائی بھی اس میں سر گرم عمل تھے۔ جب لیلیٰ خالد نے پہلا بڑا دھماکہ کیا تو اس کے دوسرے چار ساتھیوں میں کچھ مسلمان تھے،کچھ یہودی اورکچھ عیسائی،اور یہ سب لوگ ایک انقلابی ہیروچے گویرا سے متاثرتھے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ فلسطینی شاعر محمود درویش کی نظموں کے ترجمے پاکستان میں منو بھائی نے کیے جو ترقی پسند رجحانات کے مالک ہیں۔ اسی طرح تحریک فلسطین کے حامیوں نے بیروت سے ایک رسالہ نکالا تو اس کے انگریزی حصے ’لوٹس‘ کی ادارت کے فرائض فیض احمد فیض جیسے ترقی پسند شاعر نے ادا کیے۔ جہاں تک بیت المقدس کا تعلق ہے، قبلۂ اوّل کی حیثیت سے تمام مسلمانوں کے لیے اس کی اہمیت مسلمہ امر ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ مسلم دنیا کے شاعروں اور دانشوروں نے تحریک فلسطین پر بہت کم قلم اٹھایا ہے۔ میں نے کہا، عامر صاحب، کشمیر کے مسئلے پر سب سے بڑا جذباتی بیان تو بھٹو صاحب نے یہ کہہ کر دیا تھا کہ ’ہم کشمیر کے لیے ہزار سال تک جنگ لڑیں گے‘ تو بھٹو صاحب تو دائیں  بازو سے تعلق نہیں رکھتے تھے ، وہ تو انتہائی بائیں بازو کے سیاسی لیڈر تھے۔ عامر بن علی نے کہا کہ بھٹو کے بیان کو آپ سیاسی پس منظر سے دیکھیں ۔ انہوں نے پاکستان کے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی تھی مگر انہوں نے یا ان کی پارٹی نے آج تک کبھی کشمیر میں سر گرم عمل آزادی کی تحریکوں کا عملاً ساتھ نہیںدیا ۔ یہ کام دائیں بازو کی جماعتوں نے کیا جن میں جماعت اسلامی پیش پیش ہے۔ میں نے کہا کہ جماعت اسلامی تو اب فلسطین کے حق میں نکلنے والے جلوسوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے۔ عامر بن علی نے کہا کہ یہ درست ہے کہ اب مسئلہ فلسطین کو بھی مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن اب دیکھنے کی بات یہ ہے کہ دنیا کے مذہبی ممالک نے مسئلہ فلسطین کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے ۔ جب 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کیا گیا تھا اور مراکش کے دارالحکومت کاسا بلانکا میں اس مسئلے پر غور کرنے کے لیے او آئی سی کا اجلاس منعقد ہو ا تو جنرل یحییٰ خان جیسے شرابی حکمران کی رگِ حمیت پھڑکی اور انہوں نے اپنے میزبانوں پر واضح کیا کہ اگر بھارتی وزیر خارجہ کو کانفرنس سے نہ نکالا گیا تو پاکستانی وفد بائیکاٹ کرکے واپس جانے پر مجبور ہوگا ۔ اس پر کانفرنس سے بھارتی مندوب سردار سورن سنگھ کو واپس دہلی روانہ کر دیا گیا۔ عامر بن علی نے مزید کہا کہ آج ترکی کا حکمران اسرائیل کیخلاف بڑھ چڑھ کر بیان دے رہا ہے مگر ترکی وہ واحد غیر عرب ملک ہے جس نے اسرائیل کو آج نہیں برسوں پہلے تسلیم کر لیا تھا۔ عامر بن علی نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر عربوں کی دلچسپی کم دیکھنے میں آتی ہے اور وہ فلسطین میں ہونے والی قتل و غارت پر بھی زیادہ تشویش ظاہر نہیںکرتے ۔یوں کشمیر اور فلسطین کے مسئلے پر مسلم عوام دو حصوں میں تقسیم ہیں اور اسرائیل اور بھارت اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مظالم میں اضافہ کرتے چلے جا رہے ہیں ۔

عامر بن علی کی گفتگو کو روکنا میرے لیے مشکل ہورہا تھا۔ وہ ایک حساس دل کا مالک ہے اور دس کتابوں کا مصنف ہے جن میں چار شعری مجموعے،کچھ سفر نامے اور کچھ انٹرویوز اور کچھ لاطینی امریکہ کے شاعروں کے تراجم شامل ہیں ۔وہ نگر نگر گھوم چکا ہے، گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکا ہے، اس کی سوچ کسی خاص دائرے تک محدود نہیں۔ اس کی نظریں فضائے بسیط پر جمی ہوئی ہیں ۔ وہ دنیا کو اوپر سے دیکھتا ہے جبکہ میرے جیسے لوگ گرداب میں پھنسے ہوئے کچھ سوچنے کے قابل نہیں رہ گئے۔ عامر بن علی کے پاس وقت محدود تھا اور ہم لامحدود مسائل پر گفتگو کر رہے تھے۔ بالآخر اس نے رخصت چاہی۔ خوشبو ، محبت،چاشنی اورچاہت کا پیکر مجھے ڈرائنگ روم میں تنہا چھوڑ کر چلا گیا۔ عامر بن علی کی چند کتابوں کے ٹائٹل میرے کمرے میں خوشبو بکھیر رہے تھے۔ ’محبت کے موسم‘،’چلواقرار کرتے ہیں‘،’محبت چھوگئی دل کو‘،’یاد نہ آئے کوئی‘،’سرگوشیاں‘،’آج کا جاپان‘، ’جہاں گردی‘،’گفتگو‘، ’محبت کے دو رنگ‘، ’مکتوبِ جاپان‘، ’گردِ سفر‘،’نگرنگر ایک نظر‘۔۔۔ ان کتابوں سے عامر بن علی کی مہک اٹھتی رہے گی۔عامر بن علی میرے گھر سے گئے ہیں مگر دل میں سمائے ہوئے ہیں۔

Exit mobile version