شان تھی اس کی دیکھنے والی، دیکھنے والی اس کی ’’ٹوہر‘‘!

جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں، میری شاعری کی شہرت بچپن ہی سے چار دانگ عالم میں پہنچ چکی تھی۔ خصوصاً میری ایک پنجابی نظم

چیچو چیچ گنڈیریاں

دو تیریاں دو میریاں

اور دوسری اردو نظم

چل چل چنبیلی باغ میں

میوہ کھلائوں گا

میوے کی ٹہنی ٹوٹ گئی

درزی بلائوں گا

درزی کی سوئی ٹوٹ گئی

لوہار بلائوں گا

لوہار کا لوہا ٹوٹ گیا

درزی بلائوں گا

درزی کی سوئی ٹوٹ گئی

لوہار بلائوں گا

اس نظم کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے کے حل کے لئے لوہار بلایا جاتا تھا اور کبھی خود چلا آتا تھا، جس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی چیز ٹوٹ جاتی تھی۔ یار لوگوں نے اس نظم کو سیاسی سمجھ لیا، چنانچہ اس نظم پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد نہ کوئی چنبیلی باغ میں لے جانے والا رہا، کسی نے میوہ کھلایا نہ میوے کی ٹہنی ٹوٹی، نہ درزی بلانے کی ضرورت سمجھی گئی مگر اس کے باوجود لوہار آتے جاتے رہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ ایک بےمعنی سی نظم تھی جیسی بچوں کیلئے ہوتی ہیں اور بچوں میں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ چنانچہ صوفی تبسم نے بڑے ہو کر

ایک تھا بچہ ٹوٹ بٹوٹ

نام تھا اس کا میر سلوٹ

پیتا تھا وہ سوڈا واٹر

کھاتا تھا بادام اخروٹ

جیسی نظم لکھی، جسے بےضرر سمجھ کر نصابی کتب میں شامل کیا گیا حالانکہ اس بظاہر بےمعنی سی نظم کا مواد وسیع تر قومی مفاد کے منافی تھا، کیونکہ اس میں پاکستانی بچے کا نام میر سلوٹ رکھا گیا تھا جو ہمارے ہاں کی اشرافیہ اپنے بچوں کو پیار سے بلاتی ہے اور زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ وہ بادام اخروٹ کھاتا تھا اور سوڈا واٹر پیتا تھا، جو عام بچوں کو نصیب نہیں ہوتا اور یوں اگر دیکھا جائے تو یہ نظم طبقاتی فساد پیدا کرنے والی تھی۔ چنانچہ جب میں بڑا ہوا تو ایک دن صوفی تبسم مجھے ملے اور کہا میں نے اپنے بچپن میں تمہاری نظم ’’چل چل چنبیلی باغ میں‘‘ سنی تھی جسے سیاسی قرار دے کر بین کر دیا گیا تھا۔ آئندہ اگر کبھی شاعری کرو تو ایسی کرو کہ سب کچھ کہہ بھی جائو اور بین کرنے والے اسے قومی شاعری سمجھ کر نصاب کا حصہ بنائیں۔ چنانچہ ان کے مشورے پر میں نے قومی شاعری کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی اور اس حوالے سے جو پہلی نظم لکھی وہ ساری کی ساری تو یاد نہیں رہی، بس یہی چند اوٹ پٹانگ سے مصرعے یاد ہیں اور ان میں سےبھی کچھ بےوزن ؎

ایک تھا بچہ بوہت کمزور

رہتا تھا وہ شہر لہور

بچا کھچا ملتا کھانے کو

پھر بھی کرتا تھا وہ شور

خود کو باغی کہتا تھا

سب کو کہتا آدم خور

کچھ دن پہلے دیکھا اس کو

لگتا تھا وہ کوئی اور

شان تھی اس کی دیکھنے والی

دیکھنے والی اس کی ’’ٹوہر‘‘

نام جو اس کا پوچھا میں نے

تن کر بولا آدم خور

چونکہ ان دنوں قومی صورتحال اسی نوعیت کی ہے چنانچہ مجھے قوی امید ہے کہ اس نظم کو قومی مفاد کی حامل نظم سمجھ کر نہ صرف یہ کہ نصابی کتب میں شامل کیا جائے گا بلکہ اس ’’آدم خور‘‘ کو بھی شاید کابینہ میں جگہ مل سکے۔

اب آپ دیکھئے کہ لکھنے والا کتنا لاچار ہوتا ہے کہ وہ لکھنے کچھ اور بیٹھتا ہے مگر اس کا ذہن اسے کسی اور جانب کھینچ لیتا ہے۔ میں نے دراصل کچھ روزپیشتر ایک بہت پیارے آٹھ نو سال کے بچے کو ایک بہت قیمتی کار چلاتے دیکھا، پہلے میں سمجھا کہ اس کی برابر والی سیٹ پر کوئی ’’گائیڈ‘‘ بھی بیٹھا ہوگا کیونکہ بچے کی خوداعتمادی سے تو یہی لگتا تھا، جبکہ پچھلی نشست پر ایک بہت بارعب لمبے بالوں والی ایک تگڑی شخصیت بیٹھی تھی۔ سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ یہ صاحب ایک مرکزی وزیر ہیں اور کار چلانے والا پیارا سا بچہ ان کا بیٹا ہے۔ سوشل میڈیا پر بہت تنقید کی گئی کہ قانون کی کھلی خلاف ورزی ایک مرکزی وزیر کی معاونت سے ہو رہی ہے مگر گزشتہ روز ان کے ایک بیان نے تنقید کے غبارے سے یہ کہہ کر ساری ہوا نکال دی کہ کار میری، بیٹا میرا، زمین میری، آپ کون ہوتے ہیں دخل درمعقولات کرنے والے؟ بات تو ان کی صحیح ہے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ سے ملتی جلتی ہے، مگر کوئی پتہ نہیں کہ حکومت جس کا کام قانون کی رکھوالی ہے، اس وقت مقدمہ قائم بھی کر چکی ہو اور وہ مقدمہ ختم بھی کر دیا گیا ہو لیکن یہ سب باتیں اپنی جگہ مگر ماشاء ﷲ نظر بد دور

شان تھی اس کی دیکھنے والی

دیکھنے والی اس کی ’’ٹوہر‘‘ 

مولا خوش رکھے، بھاگ لگے رہن!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.