شبلی فراز کا پاکستانی ساختہ وینٹیلیٹرز پر بیان: کیا پاکستانی ساختہ وینٹیلیٹرز واقعی کم کارآمد ہیں؟

نیشنل ریڈیو و ٹیلی مواصلات کارپوریشن (این آر ٹی سی) کے سی ای او بریگیڈیئر توفیق احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بنائے جانے والے وینٹیلیٹرز میں دس مختلف فنکشنز موجود ہیں اور یہ تمام تر عالمی معیار پر پورا اترتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے برگیڈیئر توفیق احمد کا کہنا تھا کہ این آر ٹی سی میں بنائے جانے والے وینٹیلیٹرز کو یورپی سرٹیفیکیشن مل چکی ہے اور امریکہ میں خوراک اور ادویات کے نگران محکمے (ایف ڈی اے) کی جانب سے منظوری زیرِ غور ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مقامی طور پر بنائے گئے وینٹیلیٹرز کو پاکستان کے ادویات کے حوالے سے نگران ادارے ڈریپ کی جانب سے بھی منظوری دی گئی تھی جو حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز نے کہا تھا کہ پاکستان میں بننے والے وینٹیلیٹر زیادہ کارآمد نہیں ہیں اور عام طور پر وینٹیلیٹرز کے 16 فنکشنز ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں مقامی سطح پر بنائے جانے والے وینٹیلیٹرز میں، ان کی اطلاع کے مطابق، صرف چار فنکشنز ہی پائے جاتے ہیں۔

وفاقی وزیر شبلی فراز نے پیر کے روز نسٹ یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کووڈ 19 سے متعلق کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے پاس مناسب آکسیجن اور دیگر ضروری وسائل موجود نہیں ہیں۔

تاہم بعد میں بظاہر اپنی ابتدائی رائے کے برعکس انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ ‘این آر ٹی سی وینٹیلٹرز کی تیاری اور ایکسپورٹ میں کافی آگے ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر اور سرکاری وسائل کے اشتراک سے ہم انڈیا کی ضروریات کے لیے اپنا حصہ ڈالیں گے۔ وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے تین ادارے نسٹ، نیوٹیک اور پی ای سی وینٹیلٹرز کی تیاری میں مصروف عمل ہیں۔ ان اداروں میں وینٹیلٹرز کی تیاری کمرشل بنیادوں پر شروع ہونے کے قریب ہے۔‘

وینٹیلیٹرز
،تصویر کا کیپشنانٹرنیشنل معیار کو کوئی وینٹیلیٹر اس اصول پر کام کرتا ہے (فائل فوٹو)

وینٹیلیٹرز کے فنکشنز سے کیا مراد ہے؟

بریگیڈیئر توفیق نے بتایا کہ دنیا میں مختلف قسم کے وینٹیلیٹر بنائے جاتے ہیں اور عام طور پر وینٹیلیٹر میں 10، 14 یا 15 فنکنشنز ہوتے ہیں۔

ان فنکشنز سے مراد ہے کہ وینٹیلیٹر نے کس ربط پر چلنا ہے۔ اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے بتایا ‘ایک فنکشن ہوتا ہے اسسٹڈ پریشرائزڈ وینٹیلیشن یعنی اگر آپ سانس لے رہے ہیں تو یہ مشین آپ کے سانس لینے میں مدد کر رہی ہے۔ ایک دوسرا فنکشن ہوتا ہے جس میں مشین مدد نہیں بلکہ مکمل طور پر آپ کے لیے سانس لے رہی ہوتی ہے۔ اسی طرح دیگر فنکشنز میں والیم یا پریشر کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ این آر ٹی سی کا وینٹیلیٹر 10 فنکشنز کے ساتھ ہے اور اسے دنیا کے کسی بھی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔

برگینڈیئر توفیق نے بتایا کہ انھیں بیرون ملک سے بھی ان وینٹیلیٹرز کے آرڈرز موصول ہو رہے ہیں اور انھوں نے سری لنکا کو 100 وینٹیلیٹرز برآمد کرنے کا معاہدہ کیا ہوا ہے۔

وینٹیلیٹر
،تصویر کا کیپشنمقامی سطح پر تیار کیا گیا وینٹیلیٹر

مقامی ساختہ وینٹیلیٹرز استعمال کرنے والے کیا کہتے ہیں؟

لاہور کے میو ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں این آر ٹی سی کے بنائے ہوئے وینٹیلیٹر این ڈی ایم اے کی جانب سے دیے گیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کے بنائے ہوئے وینٹیلیٹر انتہائی معیاری ہیں اور بیرونِ ملک سے لائے گئے وینیٹیلیٹر کے مقابلے میں بھی وہ انتہائی اچھے معیار کے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت کورونا کی انتہائی مشکل صورتحال میں یہ مقامی ساختہ وینٹیلیٹرز ہماری بہت ضرورت پوری کر رہے ہیں اور ہمیں ان سے کافی فائدہ ہو رہا ہے۔

شبلی
،تصویر کا کیپشنحال ہی میں شبلی فراز کو وزرات اطلاعات کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے فواد چوہدری کو وہاں تعینات کیا گیا ہے (فائل فوٹو)

یاد رہے کہ گذشتہ سال سابق وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو کہ مقامی سطح پر وینٹیلیٹرز بنا سکتے ہیں۔

فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وینٹیلیٹر ایک انتہائی پیچیدہ مشین ہے اور اسے بنانے کی اہلیت چند ہی ممالک کے پاس ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ پاکستان نہ صرف اپنے استعمال کے لیے وینٹیلیٹر تیار کر سکے گا بلکہ بیرونِ ملک برآمد بھی کیے جا سکیں گے۔

اس کے علاوہ گذشتہ سال جولائی میں وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) ہری پور میں وینٹیلیٹرز بنانے کے پلانٹ کا اقتتاح بھی کیا تھا۔

یاد رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا بھر کے مختلف ممالک میں وینٹیلیٹرز کی کمی ہو گئی تھی۔ ایسی صورتحال میں کہیں تو وینٹیلیٹرز بنانے والی کمپنیوں اور تاجروں نے اس مشین کی قیمتیں بڑھا کر خوب منافع کمایا مگر وہیں امریکی یونیورسٹی ایم آئی ٹی نے وینٹیلیٹر بنانے کے مکمل پلانز اپنی ویب سائٹ پر مفت شائع کر دیے تھے تاکہ جو ملک یا کمپنی انھیں استعمال میں لا سکتی ہے وہ لے آئے۔

شبلی فراز کے گذشتہ روز دیے گیے بیان کے بعد وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل بھی میدان میں اُتر پڑے۔

شاید انھوں نے شبلی فراز کے بیان کو فواد چوہدری پر تنقید سمجھا یا پاکستان کی صلاحیتوں پر سوال، انھوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’کورونا کی وبا آئی تو ہم ماسک تک نہیں بناتےتھے۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ اس سارے سامان کے ساتھ ساتھ وینٹیلیٹرز پاکستان میں بن اور استعمال ہو رہے ہیں بلکہ سری لنکا، عراق اور دوسرے ملکوں کو سپلائی بھی ہونے جا رہے ہیں۔ آپ نے اتنا عمدہ کام کیا کہ کسی کو یقین نہیں آ رہا۔ ویلڈن فواد چوہدری۔‘

شہباز گل کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ میں مقامی ساختہ وینٹیلیٹرز کی سرٹیفیکیشنز کے عکس بھی چسپاں کیے گئے تھے۔

شبلی فراز کے اس بیان کے پس منظر میں بیشتر سوشل میڈیا صارفین تو یہ سوال کرتے نظر آئے کہ آیا حکومت نے انھیں پہلے صحیح اطلاع فراہم نہیں کی یا اب۔ جبکہ دیگر صارفین اس بیان کو شبلی فراز اور فواد چوہدری کے وزارتوں میں ردبدل کا شاخسانہ قرار دیتے نظر آئے۔

وزارتِ سائنس کا مؤقف

وزراتِ سائنس و ٹیکنالوجی کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی ساختہ وینٹیلیٹرز سسٹم (پی ایم وی ایس) پر ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے ایک بریفنگ منگل کے روز منعقد ہوئی جس کی صدارت وفاقی وزیر شبلی فراز نے کی ہے۔

بریفنگ میں حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر سامنے آنے والے 57 وینٹیلیٹرز ڈیزائنز میں سے صرف 16 ڈیزائن ڈریپ اور پاکستان انجینیئرنگ کونسل کی آئی سی یو وینٹیلیٹرز کے ضمن میں وضح کردہ سفارشات پر پورا اترتے ہیں۔

بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ کس کمپنی یا ادارے کی جانب سے بنایا گیا ڈیزائن پاکستان انجینیئرنگ کونسل یا ڈریپ میں منظوری کے کس مرحلے میں ہے۔

وزراتِ سائنس کے مطابق پاکستانی ساختہ وینٹیلیٹرز سسٹم (پی ایم وی ایس) آئی سی یو وینٹیلیٹرز ہیں جو کسی بھی بین الاقوامی برانڈ کے وینٹیلیٹر سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: