شدید سردی کا مقابلہ مگر کیسے؟

کاش بلھے شاہ ترکی میں پیدا ہواہوتا۔طیب اردوان جیسے دیدہ ور حکمران کے عہد زریں میں اس کی زندگی اور سوچ کو مؤثر انداز میں متعارف کروانے کے لئے کوئی ڈرامائی سلسلہ تیار ہوجاتا۔ اس سیریل کی مقبولیت کی خبر ہمارے ہاں پہنچتی تو پاکستان کے چوروں اور لٹیروں کو NROنہ دینے پر بضد وزیر اعظم اسے اُردو میں ڈب کرنے کا حکم صادر فرماتے۔ہم بدنصیبوں کو اپنے ملک کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے یعنی پنجاب کے قلب میں واقعہ شہر قصور میں دفن ہوئے اس صوفی شاعر سے بالآخر اس کی بدولت تھوڑی آشنائی نصیب ہوجاتی۔

کئی صدیوں تک پانچ دریائوں کی مہربانی سے سرسبزوشادات رہے پنجاب کے صوفیاء اور شاعروں کے بارے میں مگر ہم قطعاََ غافل ہیں۔اس کی بابت کوئی شرمندگی بھی محسوس نہیں کرتے۔ ہمیں یہ تو علم ہے کہ سوداؔ واہ کا شاعر تھا اور میر تقی میرؔ آہیں بھراکرتا تھا۔وارث شاہ نے لفظوں کے برمحل استعمال سے زندگی کو کیمرے پر ریکارڈ ہوئے مناظر کی طرح دکھانے کا جو کمال حاصل کیا تھا اس کے بارے میں لیکن ہمیں ککھ خبر نہیں۔ لاہور کے ٹیکسالی گیٹ سے نمودار ہوئے ایک جولا ہے شاہ حسین کا جو کلام چند دیوانے محققین نے مرتب کیا اس میں موجود ہر کافی کو صرف ایک ہی مخصوص راگ میں گایا جاسکتا ہے۔کسی اور راگ کو بروئے کار لایا جائے تو اس کافی کا تاثر جاتا رہتا ہے۔ ہم نے تاہم فقط حامد علی بیلا کی گائی ’’مائے نی میں کینوں آکھاں‘‘ ہی سنی ہے۔بلھے شاہ کی چند کافیوں سے آشنائی بھی اس لئے ہوگئی کیونکہ انہیں سندھ سے اُبھری دریش عابدہ پروین نے وجد کے عالم میں گایا تھا۔

اپنے صوفیاء کے بھرپور ورثے سے محروم ہوجانے کے بعد اب ہم ترک ڈراموں کی اُردو ڈبنگ کے ذریعے ’’روحانیت‘‘ کو دریافت کرنے کی لگن میں مبتلا ہوئے نظر آرہے ہیں۔ 2018کے انتخاب میں نظر بظاہر پاکستانیوں کی اکثریت نے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس لاکھ مکانوں کے حصول کے لئے عمران خان صاحب کو اپنا وزیر اعظم منتخب کیا تھا۔ اقتدارسنبھالنے کے تقریباََ اڑھائی برس گزرجانے کے بعد مگر ا نہیں علم ہوا ہے کہ پاکستانیوں کی بے پناہ اکثریت ٹیکس کی صورت تو ایک پیسہ بھی ادا نہیں کرتی۔ خزانہ خالی ہوتو ایک لاکھ مکان تعمیر نہیں ہوسکتے۔ پچاس لاکھ لوگوں کو روزگار فراہم کرنا بھی ناممکن ہے۔نفسانفسی کے اس عالم میں لہٰذا وزیر اعظم صاحب اداکاری سے اُکتا کر بالآخر روحانیت کی جانب مائل ہوئے حمزہ علی عباسی صاحب کو دئیے ایک انٹرویو کے ذریعے ہمیں ربّ سے لو لگانے کی راہ دکھارہے ہیں۔دورِ حاضر کی بے چینی کے ازالے کے لئے گویا ’’صوفی سکول‘‘ کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کو ہے۔

ہفتے کے روز نشر ہوئے ٹی وی انٹرویو کی بدولت حمزہ علی عباسی امیر خسرو کی طرح اپنے فن کارانہ ہنر کو متاثر کن انکساری سے اپنے ’’مرشد‘‘ کی تعلیمات کوفروغ دینے کے لئے بروئے کار لاتے نظر آئے۔ربّ کریم سے فریاد ہے کہ وہ ہمارے دلوں میں نرمی لانے کے مشن کو فروغ دینے میں ان کی مدد فرمائے۔

ہمارے دلوں کو نرمی یقینا درکار ہے۔ مجھے اس کی ضرورت جج ارشد ملک کی رحلت کی خبر ملنے کے بعد بہت شدت سے محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔وباء کے موسم میں ایسی اموات کی خبر روزانہ کی بنیاد پر موصول ہوتی ہیں۔اپنے کچھ فیصلوں اور ان کی چند مبینہ ’’وجوہات‘‘ کی بنیاد پر مشہور ہوئے مرحوم جج صاحب کی موت نے سوشل میڈیا پر جو سوالات بھڑکائے انہوں نے جی کو پریشان کردیا۔ پریشانی کے اس عالم میں بلھے شاہ یاد آگیا۔اپنے دور کے پنجاب کے ’’برے حال‘‘ کو اس نے ’’حشرعذاب‘‘ کا در کھل جانے کا نتیجہ بتایا تھا۔ابتری اور خلفشار کا یہ دور کئی دہائیوں تک جاری رہا۔اس زمانے کی اشرافیہ کو ان پر قابو پانے کی کوئی راہ ہی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ بلھے شاہ نے اشرافیہ کی بے بسی کا حقیقی سبب مگر ’’شک وشبے‘‘ کو قرار دیا۔اس کے گھبرائے دل نے دریافت کیا کہ خلقِ خدا کسی پر ’’اعتبار‘‘ کرنے کی سکت سے محروم ہوگئی ہے۔کلام پاک کا ہمہ وقت ورد کرنے والے اسے ’’اپنا دل‘‘ پڑھنے کو تیار نظر نہیں آتے۔تسبیح کے دانے گھماتی ’’ریاضت‘‘ بلھے شاہ کو منافقت محسوس ہوتی۔ اس کے وجد نے مگر ’’رانجھے‘‘ کو پہاڑوں سے نیچے آنے پر مجبور کردیا۔ ’’پیا‘‘ جب بلھے شاہ کے گھر آیا تووہ فریاد کرنے کو مجبور ہوگیا کہ وقت تھم جائے۔ ’’گھڑیال دیونکالی نی‘‘ کا ورد شروع ہوگیا۔وقت مگر تھمنے کو کبھی تیار نہیں ہوتا۔ ’’وصل کی شب‘‘ ہمیشہ ’’مختصر‘‘ ہی محسوس ہوتی ہے اور بالآخر آپ کو ’’شک شبے‘‘ کے عالم میں واپس ہی لوٹنا ہوتا ہے۔

جج ارشد ملک کی رحلت کے بعد سوشل میڈیا پر پھیلے وسوسوں نے اصل پیغام یہ دیا ہے کہ ’’ویلا(وقت)‘‘ ہمارا بھی ان دنوں ’’شک شبے‘‘ والا ہے۔ اس سے نجات کی خاطر ہم غالبؔ کے اتباع میں ’’ابنِ مریم ہوا کرے کوئی‘‘ والی دُعا مانگنے کو مجبور ہیں۔ ’’کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے‘‘ والی کشمکش نے مگر جی کو بے چین کررکھاہے۔

جی کی بے چینی کا شاعروں اور صوفیوں کی طرح ادراک مگر مجھے اس حقیقت سے غافل بنانے میں ناکام رہا ہے کہ اب کی بار سردی بہت سنگین ہے۔محکمہ موسمیات والے بلکہ خبردار کررہے ہیں کہ 15دسمبر سے اس کی جو لہر آئے گی وہ 52سالہ ریکارڈ توڑدے گی۔

شہروں میں مقیم مجھ جیسے لاکھوں تنخواہ دار کئی دہائیوں سے پائپ لائنوں کے ذریعے بلوچستان سے ہمارے گھروں میں آنے والی قدرتی گیس سے جلائے ہیٹروں اور گیزرز کی مدد سے سردیوں کو "Enjoy"کرتے رہے ہیں۔ پانی کے کنوئوں کی مانند گیس کے ذخائر بھی تاہم بتدریج خشک ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔بلوچستان کی گیس ہم جلاچکے تو سندھ سے بھاری ذخائر دریافت ہونا شروع ہوگئے۔خیبرپختونخواہ کا ضلع کرک بھی اس ضمن میں خوش نصیب ثابت ہوا۔عمران صاحب کی اگست 2018میں حکومت آنے کے بعد مگر دریافت ہوا کہ ہمارے ہاں موجود گیس کے ذخائر ملکی ضروریات کے لئے ناکافی ہیں۔دیگر ممالک سے LNGوغیرہ خرید کر مین سسٹم میں ڈالنا ہوگی۔

اس تناظرمیں نواز حکومت کے وزیر توانائی شاہد خاقان عباسی نے طویل المدتی بندوبست مہیا کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔نیب والے مگر مصر ہیںکہ ہماری ضروریات کی تسکین کے بجائے مذکورہ بندوبست ’’مال پانی‘‘ کمانے کا بہانہ تھا۔اپنے معاون مفتاح اسماعیل سمیت شاہد خاقان عباسی لہٰذاکئی مہینوں تک نیب کے زیر حراست رہے۔ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد مگر مطالبہ کئے جارہے ہیں کہ ان کے خلاف مقدمہ براہ راست ٹی وی نشریات کے ذریعے عوام کے روبرو لایا جائے۔وہ ثابت کردیں گے کہ ان کی جانب سے ہوا بندوبست ملک کے بہترین مفاد میں تھا۔ ’’مال پانی‘‘ سے اس کاکوئی تعلق نہیں تھا۔گیس کے میرے اور ا ٓپ جیسے عام صارف کے لئے لیکن شاہد خاقان عباسی کی مبینہ ’’ہوس اور بے ایمانی‘‘یا ان کی جانب سے ہوا بے گناہی کا دعویٰ کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ ہمیں اصل فکر اپنے گھروں میں نصب ہوئے ہیٹروں اور گیزروں کو بلاتعطل گیس کی فراہمی کی بابت لاحق ہے۔وہ گیس میسر ہوبھی جائے تو مہینے کے اختتام پر جو بل آتا ہے وہ دل دہلادیتا ہے۔گیس کے بلوں سے نازل ہوئی اذیت کو لیکن مجھ جیسے صحافیوں نے کبھی اجاگر ہی نہیں کیا جو چوروں اور لٹیروں کی حکومتوں کے دوران مبینہ طورپر سچائی چھپانے کے لئے ’’لفافے‘‘ وصول کرتے رہے۔ عمران حکومت نے وہ ’لفافے‘‘ بند کئے تو اب چلارہے ہیں۔سمجھ نہیں پارہے کہ حمزہ علی عباسی جیسے ’’مرشد‘‘ ہمیں بالآخر جس ’’منزل‘‘ پر لے جائیں گے وہاں موسموں کی شدت کوئی معنی نہیں رکھتی۔

گیزر کو ویسے بھی عمران حکومت کے ایک منہ پھٹ وزیر جناب غلام سرور خان صاحب نے ’’عیاشی‘‘ قرار دیا تھا۔ اقبالؔ کی بتائی ’’حق گوئی اور بے باکی‘‘ ایسی عیاشی کی محتاج نہیں ہوتی۔ ’’ارطغرل‘‘ ڈرامے نے ویسے بھی ہمارے جذبات گرمادئیے ہیں۔چنگیز خان اور تیمور لنگ جیسے دلاور گیس سے چلائے ہیٹروں اور گیزروں کے محتاج بنے رہتے تو دُنیادریا فت کرنے کے قابل نہ ہوتے۔برطانیہ کے زیر نگین علاقوں میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا تو اس کی بنیادی وجہ غالباََ یہ تھی کہ انگلینڈ کی سردی سے مقابلے کے لئے نہ ہی قدرتی گیس دریافت ہوئی تھی اور نہ ہی اس سے جلائے ہیٹروگیزر۔ سردی سے مقابلے کے لئے انہیں گرم مصالحہ درکار تھا۔اس کی تلاش میں جنوبی ایشیاء کے ساحلوں پر آئے تو باقی دُنیا پربھی چھاچھوگئے۔

قدرتی گیس سے چلائے ہیٹروں اور گیزروں کے بغیر جو انگلستان تھا وہاں کے باسی مگر اپنے جسموں کو حدت پہنچانے کے لئے آئرلینڈ میں اُگائے آلو اور گھروں میں پالی مرغیوں کے انڈوں کے محتاج ہر صورت ہوا کرتے تھے۔ عمران حکومت نے غالباََ اسی باعث ’’مرغی پال‘‘ سکیم شروع کی تھی۔اس سکیم کے باوجود مگر مارکیٹ میں انڈہ ان دنوں تقریباََنایاب ہے۔آخری خبر آنے تک اسلام آباد میں 220روپے فی درجن بک رہا تھا۔ اپریل 2020میں تواتر سے اس کالم کے ذریعے میں دہائی مچانا شروع ہوگیا تھا کہ کرونا کی وجہ سے پولٹری فارم بند ہورہے ہیں۔ان کے مالک چوزوں کو ٹرکوں میں بھرکر ’’دریابرد‘‘ کررہے ہیں۔یہ عالم برقرار رہا تو 2020کی سردی میں انڈے کی قیمت ناقابلِ برداشت ہوجائے گی۔میری فریاد پر ’’ارطغرل‘‘ ڈرامہ دیکھتے حکمرانوں نے توجہ ہی نہیں دی۔ 15دسمبر سے آنے والی سردی کی شدید لہر کا لہٰذا ہیٹروں،گیزروں اور انڈوں کے بغیر مقابلہ کرنا ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: