شریف خاندان کے اثاثوں کی کھوج کرنے والی کمپنی نے انہی سے مدد طلب کر لی

لندن: قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ 20 سال قبل جنرل پرویز مشرف نے شریف خاندان کی غیر ملکی جائیداد کی تحقیقات کے لیے جس اثاثہ بازیافت کمپنی کی خدمات حاصل کی تھیں، اس نے شریف خاندان سے بقایا فنڈز کے حصول کے لیے معاونت طلب کی ہے تاکہ قومی احتساب بیورو(نیب) کی جانب سے فرم کو واجب الادا رقم کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

 رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اس فرم نے ایون فیلڈ ہاؤس میں چار فلیٹوں کے سلسلے میں بھی نیب کی جانب سے فرم کے بقایا 2کروڑ 20لاکھ ڈالرز کی ادائیگی کا دعویٰ کیا تھا تاہم پچھلے مہینے اس دعوے کو عدالت نے خارج کرنے کا حکم دیا تھا۔

نومبر 2020 کے اوائل میں براڈشیٹ اور شریف برادران کی نمائندگی کرنے والے وکلا کے مابین ہونے والی خط و کتابت کو ڈان نے دیکھا ، شریف فیملی نے نیب کے ذریعہ بقایاجات کی وصولی کے لیے کمپنی کی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا۔‎

6 نومبر کو شریف برادران کی قانونی ٹیم کو ای میل میں براڈشیٹ ایل ایل سی کی نمائندگی کرنے والی قانونی فرم نے لکھا کہ 'ہمارا مؤکل اس وقت آئی آر پی (اسلامی جمہوریہ پاکستان) کے خلاف دعوے کے نفاذ کی کارروائی کر رہا ہے، ہم دریافت کرتے رہیں گے کہ آیا اس دائرہ اختیار میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پاس مزید اثاثے موجود ہیں یا نہیں، ہم نے توقع کی تھی کہ آپ کے مؤکل جانتے ہوں گے کہ مثلاً اسلامی جمہوریہ پاکستان برطانیہ میں اپنے تجارتی بینکاری انتظامات کے لیے کون سے بینک کا استعمال کرتا ہے، کیا آپ کا مؤکل ہمارے موکل کی مدد کرنے کو تیار ہے؟

شریف برادران کی نمائندگی کرنے والی لا فرم نے جواب میں کہا کہ وہ براڈشیٹ کی انکوائریوں میں مدد کرنے کو تیار نہیں ہے۔

براڈشیٹ ایل ایل سی کو 20 جون 2000 کو 'آئل آف مین' میں رجسٹرڈ کیا گیا تھا اور اس نے مشرف حکومت اور اس وقت حال ہی میں تشکیل دیے گئے نیب کو مبینہ ناجائز دولت کے ذریعے خریدے گئے غیر ملکی اثاثوں کا پتہ لگانے میں مدد کی تھی۔

ایرانی نژاد آکسفورڈ یونیورسٹی سے سابق تعلیمی یافتہ کیوہ موسوی کی زیر ملکیت براڈشیٹ اب عدالت کے ذریعے مقرر کردہ تصفیہ کرنے والے کی زیر نگرانی ہے جس نے ابتدائی طور پر ثالثی میں مالی اعانت فراہم کی تھی اور اس سے قبل انگلینڈ میں غیرمتعلق کارروائی میں توہین عدالت کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔

براڈشیٹ کا کہنا ہے کہ یہ ایک ایسی کمپنی کی حیثیت سے تشکیل دی گئی ہے جو اثاثوں اور رقوم کی بازیابی میں مہارت رکھتی ہے اور اسی وجہ سے اس طرح کی اشیا کا سراغ لگانے، تلاش کرنے اور ریاست کو واپس منتقل کرنے میں مصروف ہے۔

اس سے قبل کمپنی سے وابستہ ایک وکیل نے ڈان کو بتایا تھا کہ شریف براڈشیٹ کی تحقیقات کا 'اولین ہدف' ہیں، نیب نے 2003 میں ان سے معاہدہ ختم کر دیا تھا۔

کروڑوں ڈالر کی بازیابی کی معاملہ

دسمبر 2018 میں مرکزی ثالث کی حیثیت سے انگلش کورٹ کے سابقہ ​​اپیل جج سر انتھونی ایونز کیو سی نے حکومت پاکستان کی جانب سے براڈشیٹ کو 2کروڑ 20لاکھ ڈالر ادائیگی کا حکم جاری کیا تھا۔

جولائی 2019 میں حکومت نے ثالثی کی اپیل کی لیکن وہ اس میں ناکام رہی، ثالث نے پایا کہ پاکستان اور نیب نے براڈشیٹ کے ساتھ اثاثوں کی بازیابی کے معاہدے کو غلط مسترد کیا ور فیصلہ دیا ہے کہ کمپنی ہرجانے کی حقدار ہے۔

اس کے بعد سے اثاثہ بازیافت فرم نے برطانیہ میں حکوقمت پاکستان سے مبینہ رابطوں کے حامل متعدد اداروں کو ہدف بنا کر اپنی خدمات کی ادائیگی کو محفوظ بنانے کی کوشش کی ہے۔

شریف بھی نیب اور براڈشیٹ کہانی میں الجھ گئے جہاں اس کی خدمات کی ادائیگی کی وصولی کی کوشش میں براڈشیٹ ایل ایل سی نے لندن ہائی کورٹ میں ایون فیلڈ ہاؤس کا قبضہ حاصل کرنے کے لیے دعویٰ دائر کیا جس کی بنیاد یہ تھی کہ پر نیب عدالت نے کہا تھا کہ حکومت کو نواز شریف کی برطانیہ کی جائیدادیں ضبط کرنی چاہئیں۔

یہ دعویٰ خارج کردیا گیا تھا کیونکہ براڈشیٹ نے عدالت کے مینڈیٹ کی حامل تیسری پارٹی کے قرض کے آرڈر کی بدولت لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے کھاتوں سے تقریبا 2کروڑ 80لاکھ ڈالر کی ادائیگی حاصل کر لی تھی۔

2 دسمبر 2020 کو مورخہ آئی آر پی کے خلاف نیب کے حکم نامے میں عدالت نے کہا کہ براڈشیٹ کے ایون فیلڈ کے دعوے سے متعلق ماسٹر ڈیوسن کا عبوری چارجنگ آرڈر خارج کیا جائے اور فرم کی درخواست کی سماعت کو خالی کردیا جائے۔

آرڈر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں ماسٹر ڈیوسن نے شریف برادران کی املاک سے متعلق اثاثے کے ارادے میں براڈشیٹ کی درخواست پر غور کیا تھا، اب براڈشیٹ نے عبوری تیسرے فریق کے قرض کے آرڈر کے ذریعہ قرضہ حاصل کرلیا ہے اور عبوری چارج آرڈر کو خارج کرنے اور خالی کرنے کی اجازت کی درخواست کی ہے جو 17 دسمبر 2020 کو درج کی تھی۔

اسی ادوار میں جب اس نے ایون فیلڈ ہاؤس کے چار فلیٹوں پر دعویٰ کیا تھا، براڈشیٹ ایل ایل سی نے پاکستان حکومت کو بھی خط لکھا تھا اور نیب کے ذریعے واجب الادا فنڈز کی وصولی کے لیے 'پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اثاثے ضبط کرنے' کی دھمکی دی تھی۔

جولائی 2020 کے ایک خط میں براڈشیٹ نے دعویٰ کیا کہ پاکستان ٹیم "مدعا علیہ (پاکستان حکومت) کا اثاثہ ہے اور ٹیم کے اثاثوں اور اثاثوں کی وجہ سے رقم قانونی چارہ جوئی کے لیے مدعا علیہ کا اثاثہ ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے اس وقت یہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک خود مختار ادارہ ہے اور اس کا 'براڈشیٹ ایل ایل سی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان اور قومی احتساب بیورو آف پاکستان کے مابین ثالثی اور/یا بازیابی کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس وقت ایک بیان میں پی سی بی نے برقرار رکھا تھا کہ پی سی بی حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتا ہے اور اپنی خود آمدنی پیدا کرتا ہے اور اسے وفاقی یا صوبائی حکومتوں، یا عوامی اخراجات سے کوئی گرانٹ، فنڈز یا رقم نہیں ملتی ہے۔

اگرچہ پی سی بی نے کمپنی کے دعوؤں کو رد کر دیا تھا لیکن براڈشیٹ کے پی سی بی کو بھیجے گئے خط کو بین الاقوامی میڈیا نے بڑے پیمانے پر کوریج دی تھی اور یہاں تک کہ کرکٹ کی مشہور نیوز ویب سائٹ ای ایس پی این کرک انفو نے بھی اسے رپورٹ کیا تھا، میڈیا رپورٹس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی تھیں جب پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے خلاف 5 اگست 2020 اور یکم ستمبر کے درمیان تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹونٹی میچوں کی سیریز کھیلنا تھی۔

پچھلے ہفتے یہ بات سامنے آئی کہ براڈشیٹ ایل ایل سی لندن میں پاکستان ہائی کمیشن کے کھاتوں سے 2کروڑ 87لاکھ ڈالر کی رقم کی وصولی میں کامیاب رہا، جب عدالت نے تیسری پارٹی کے قرض کے آرڈر کے نفاذ کے نتیجے میں پاکستانی ہائی کمیشن کے بینک اکاؤنٹ سے اس رقم کو ڈیبٹ کیا تھا۔

پیر کو جاری ایک بیان میں نیب نے براڈشیٹ کیس کے واقعات کا خلاصہ پیش کیا اور کہا کہ ثالثی کا دفاع کرنے کے معاملے اور اس کے بعد ہونے والی پیشرفتوں کو پاکستان کے لیے اٹارنی جنرل کے دفتر اور وزارت قانون و انصاف نے شیئر کیا اور اس کی تائید کی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ نے میسرز براڈشیٹ ایل ایل سی کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد اور نہ ہی ثالثی کی کارروائی کا آغاز کرنے میں حصہ لیا۔