شمالی کورین ہیکرز کی بڑی واردات: آن لائن گیم سے 615 ملین ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری

امریکہ نے الزام عائد کیا ہے کہ شمالی کوریا کی خفیہ ایجنسی کی مدد سے کام کرنے والے ہیکرز ایک آن لائن گیم کھیلنے والے کھلاڑیوں سے 615 ملین ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایکزی انفنیٹی نامی آن لائن گیم انٹرنیٹ پر کافی مشہور ہے جس میں کھلاڑی کرپٹو کرنسی کما سکتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل چوری کو ہیکنگ کی دنیا میں کرپٹو کرنسی کی سب سے بڑی واردات قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس چوری کے پیچھے لازارس نامی ایک گروہ کا سراغ لگایا ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے انٹیلیجنس بیورو کے زیر اثر ہے۔

امریکی ادارے فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’تفتیش میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ کرپٹو کرنسی کی چوری کے پیچھے لازارس گروپ اور اے پی ٹی 38 نامی سائبر ایکٹرز کا ہاتھ ہے جو شمالی کوریا سے وابستہ ہیں۔‘

لازارس گروپ

لازارس گروپ

لازارس گروپ کوئی گمنام ہیکرز کا گروہ نہیں۔ سنہ 2014 میں اس گروپ کو اس وقت عالمی شہرت ملی تھی جب ان پر الزام لگا تھا کہ انھوں نے امریکی فلم ساز ادارے سونی پکچرز کو ہیک کرنے کے بعد ان کا خفیہ ڈیٹا عام کر دیا تھا۔

اس وقت سونی پکچرز کی ہیکنگ کے بعد لازارس گروپ نے مطالبہ کیا تھا کہ ’دی انٹرویو‘ نامی فلم کی نمائش روک لی جائے جس میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کو قتل کرنے کے ایک منصوبے کو مزاحیہ اور طنزیہ انداز میں پیش کیا جانا تھا۔

اقوام متحدہ کے ایک خصوصی پینل، جو شمالی کوریا پر لگائی جانے والی عالمی پابندیوں پر نظر رکھتا ہے، کا کہنا ہے کہ پابندیوں سے بچنے کے لیے ڈیجیٹل چوری سے کمایا جانے والا پیسہ شمالی کوریا کا ملک اپنے جوہری اور بیلیسٹک ہتھیاروں کو تیار کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

شمالی کوریا
،تصویر کا کیپشنکم جونگ ان

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کو اس بات کا علم ہے کہ شمالی کوریا امریکی اور اقوام متحدہ کی موثر پابندیوں سے بچتے ہوئے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام اور دیگر ہتھیاروں کے لیے پیسہ اکھٹا کرنے کی خاطر سائبر جرائم سمیت غیر قانونی حرکات کا ارتکاب کر رہا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔‘

بیورو 121 نامی سائبر یونٹ

سنہ 2020 میں امریکی فوج کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا میں بیورو 121 نامی سائبر یونٹ خاص طور پر ہیکنگ کے لیے کام کرتا ہے جس کا قیام سنہ 1990 کی دہائی میں کیا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق یہ ہیکنگ یونٹ چھ ہزار افراد پر مشتمل ہے اور بیلاروس، چین، انڈیا، ملائیشیا اور روس سمیت مختلف ممالک سے کام کرتا ہے۔

بلاک چین کا تجزیہ کرنے والی کمپنی چین انائلیسس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز نے سنہ 2021 میں بھی ایک بڑی واردات کی تھی جس میں کرپٹو کرنسی پلیٹ فارمز پر تقریبا سات مختلف سائبر حملوں میں 400 ملین امریکی ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے چوری کر لیے گئے تھے۔

شمالی کوریا سے تعلق رکھنے والے ہیکرز کی جانب سے کی جانے والی وارداتوں میں سنہ 2021 کو ان کا سب سے کامیاب سال سمجھا جاتا ہے۔