شمس الرحمٰن فاروقی:ایک چاند تھا سرِآسماں

شمس الرحمٰن فاروقی کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ دنیا بھر کے ادبی حلقوں میں شمس الرحمٰن فاروقی ایک معتبر نام جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ انہوں نے چالیس سال تک معروف ادبی ماہنامہ ’شب خون‘ کی ادارت کی۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ خداے سخن میر تقی میر کے بارے میں ان کی کتاب ’شعر شور انگیز‘ جو چار جلدوں میں ہے، کئی بار چھپ چکی ہے۔ شمس الرحمٰن فاروقی نے تنقید، شاعری، فکشن، لغت نگاری، داستان، عروض، ترجمعہ، یعنی ادب کے ہر میدان میں تاریخی اہمیت کے کارنامے انجام دئیے ہیں۔

شمس الرحمٰن فاروقی صاحب سے میرا رابطہ 2012میں بذریعہ فون ہو ا۔چند دنوں کی گفتگو کے بعد ہی میں نہ صرف ان سے متاثر ہوا بلکہ ان کی محبت کا بھی احساس ہونے لگا۔ ا ن دنوں میں اپنے پہلے افسانے کے مجموعے کی تکمیل میں مصروف تھا اور ذہن الجھا ہوا تھا کہ کس سے اپنے افسانے کے حوالے سے رائے لی جائے۔کئی نام برطانیہ سے بھی ذہن میں آئے اور اردو دنیا کی بھی کئی اہم شخصیتوں کے بارے میں بتایا گیا۔ لیکن نہ جانے کیوں ان تمام ناموں اور لوگوں سے طبعیت مطمئن نہیں ہو رہی تھی۔حالانکہ تمام شخصیات نامور اور معروف تھیں۔ پھر بھی دل چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسا شخص میری کتاب پر لکھے جو میرے لیے بہت اہم ہو اور جو میری رہنمائی کرسکے۔ تبھی اپنے کرم فرما شمس الرحمن فاروقی صاحب پر آکر ذہن مرکوز ہو گیا۔اس خیال کو میں نے برطانیہ میں مقیم معروف ڈرامہ نگار، ادیب، اور شاعر رفعت شمیم کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ مجھے نہیں لگتا وہ لکھیں گے۔ لیکن میں نے ان کی بات نہ مانتے ہوئے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو انھوں نے فوراً نہ صرف رضامندی ظاہر کی بلکہ میرے افسانوی مجموعے ’ایک گریزاں لمحہ‘ پر اپنی بیش قیمتی رائے سے نوازا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں برطانیہ کے ادبی حلقوں سے اچھی طرح واقف ہوچکا تھا۔ کئی نامور اردو ہستیوں سے ملاقات ہوچکی تھی، ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کچھ سیکھنے کا موقع بھی مل چکا تھا۔ انھیں دنوں معلوم ہوا کہ برطانیہ کو اردو کا تیسرا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔رالف راسل، ڈیوڈ میتھوز،ساقی فاروقی، رضاعلی عابدی، رفعت شمیم،آصف جیلانی، قیصر تمکین، گلشن کھنہ، عقیل دانش،جتیندر بلوّ، باسط کانپوری، حمیدہ معین رضوی، مقصود الٰہی شیخ،محسنہ جیلانی، چمن لال،ساحر شیوی،پرویز مظفروغیرہ ایسے نام ہیں جن کی بے مثال تحریروں نے برطانیہ کو اردو کا تیسرا مرکز بنایا ہے۔اسی واسطے میں نے پہلے تو یہی سوچا کہ اگر میں برطانیہ کا شہری ہوں اور یہیں رہتا ہوں تو کیوں نہ یہیں کے کسی ادیب سے گزارش کروں کہ وہ میرے افسانوں پر کچھ لکھ دیں۔’انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے‘ یہ لاطینی کہاوت تین سو قبل مسیح میں ایک رومن دانشور نے کہی تھی۔ میری قسمت میں بھی شمس الرحمٰن فاروقی سے رابطہ لکھا تھا اور اس طرح ہماری ملاقات فاروقی صاحب سے ہوئی اور میری پہلی کتاب کے پشت پر ان کی تحریر شامل ہوئی۔

فاروقی صاحب سے میری پہلی گفتگو کا قصہ بھی دلچسپ ہے۔ کلکتہ کے قریب کانکی نارہ (بنگال)کے اہم اور جواں سال شاعر مرحوم خواجہ جاوید اختر کا شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے گھر آنا جانا تھا۔بھائی جاوید اختر سے کلکتہ کے دنوں سے ہی رابطہ تھا۔ ایک دن دوران گفتگو فاروقی صاحب کا ذکر آیا اور میں نے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو بھائی جاوید نے ایمانداری سے نہ صرف میرا رابطہ شمس الرحمٰن سے کروایا بلکہ میری جھجھک کو محسوس کرتے ہوئے میری خواہش کا ذکر بھی ان سے کردیا۔ کچھ ہی عرصے بعدمجھے جاوید اختر کی اچانک موت کی خبر ملی جس سے میرے ساتھ فاروقی صاحب کو بھی شدید جھٹکا لگا۔خیر میں نے ہمت کرکے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کو اپنے افسانے بھیج دیے۔میں نے اس کا ذکر جن سے بھی کیا سبھوں نے یہی کہا کہ فاروقی صاحب نہیں لکھیں گے۔ میں نے بھی خون کا گھونٹ پیا اور اللہ کی ذات پر یقین کرتے ہوئے اس امید پر قائم رہا کہ فاروقی صاحب ضرور لکھیں گے۔اور الحمداللہ ایسا ہی ہوا اور اگست 2013کو الہ آباد سے شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کی تحریر ملی جس میں لکھا تھا:

”فہیم اختر آج کل کے عام افسانہ نگاروں کی طرح ہیں بھی اور نہیں بھی۔ہیں اس معنی میں کہ انہوں نے اپنے گردو پیش کی دنیا اور اس کے مسائل کے بارے میں لکھا ہے۔ نہیں ہیں،اس وجہ سے کہ ان کے یہاں تھوڑا بہت طنز، تھوڑا بہت حزن اور تھوڑا بہت
احساسِ جمال بھی ہے۔ یہ صفت عام افسانہ نگاروں میں عموماً نظر نہیں آتی۔
بعض افسانوں مثلاً ’ڈور بیل‘ میں انجام ذرا حیرت خیز اور مزاحیہ ہے۔ ’بیوٹی پارلر‘ میں طنز کی شوخی بقیہ عناصر پر غالب آجاتی ہے،لیکن پھر بھی یہ پہلو دلچسپ ہے کہ مرکزی کردار میں بڑبھس کے علاوہ بے کار،بے مصرف بوڑھوں کی طرح ہر بات کی کرید میں لگنے کی بھی صفت ہے(اگر اسے صفت کہا جائے)
’سرکل لائن‘ میں خفیف سا عشقیہ پہلو ہے جس پر جدید زندگی کے غیر متوقع المیہ کا بھی رنگ بڑی خوبی سے آگیا ہے۔
غیر مقیم ہندوستانی ادیبوں کی طرح فہیم اختر نے صرف غیر مقیم ہندوستانیوں کے مسائل کو اپنا موضوع نہیں بنایا ہے۔وہ انسانی زندگی مسائل کو براہِ راست بھی برت سکتے ہیں بعض جگہ جذباتیت غالب آجاتی ہے(مثلاً ’دیو داسی‘) تو بعض جگہ انسانی پہلو زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔
میں اس کامیاب مجموعے کے لیے فہیم اختر کو مبارک باد دیتا ہوں‘۔
الہ ٰ آباد، اگست ۳۱۰۲ء شمس الرحمٰن فاروقی

یورپ میں بسے اردو زبان کے ادیب، شاعر اور دانشور میں ایک بات بہت عام ہے اور وہ یہ ہے کہ زیادہ تر ادیبوں کا تعلق پاکستان اور تھوڑے بہت ہندوستان سے ہیں۔ جن کی مثال آٹے میں نمک کے برابر ہے۔آئے دن اس بات پر بحث ہوتی رہتی ہے کہ یورپ کی نو آباد اردو بستیوں میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟ 2000 میں جب پوری دنیا ملانیم تقریب منا رہی تھی تو اُن دنوں چھوٹی بڑی تنظیموں نے کئی عالمی کانفرنس اور مشاعرے کرائے۔ جس سے دنیا بھر کے ادیبوں اور شعرا کو برطانیہ میں بسے اردو داں سے ملنے ملانے کا ایک سنہرا موقع مل گیا۔ اسی بہانے مجھے بھی برطانیہ کے ادبی حلقے سے متعارف ہونے کا موقع ملا۔جس سے ایک فائدہ تو یہ ہوا کہ زیادہ تر اردو لکھنے پڑھنے والے جن کا تعلق پاکستان سے تھا یا ہے ان سے میری سناشائی ہو گئی۔ان دنوں میں نے محسوس کیا کہ برطانیہ کو اردو کا تیسرا مرکز کہنا محض ایک فخریہ بات تھی یا واقعی یہاں بسنے والے اور یہاں پیدا ہونے والے لوگ اردو زبان کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

یہ سچ ہے کہ لندن کے مئیر کا اہم پیغام جیسے کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کا اعلان اردو زبان میں بھی شائع ہورہا ہے۔ اس کے علاوہ لندن انڈر گراؤنڈ ٹرین کے ٹکٹ خریدنے کی مشین میں دوسری ترقی یافتہ زبانوں کے ساتھ اردو زبان میں بھی اطلاعا ت موجودہیں۔ تو کیا اس سے مان لیا جائے کہ برطانیہ واقعی اردو کا تیسرا مرکز ہے؟ حالاں کہ یہ ایک زیر بحث معاملہ ہے جو اب بھی سوال کی شکل میں موجودہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ادیب و شاعر میں زیادہ تر ہجرت کرکے آنے والوں کی ہے۔ وہاں کے مقامی باشندوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہی ہے۔ساتھ ہی ساتھ مجھے اردو کی نئی بستیوں یا مہجری ادب کے نام سے اتفاق نہیں ہے۔ کیونکہ زیادہ تر اردو داں جنہوں نے یورپ کو اپنا گھر بنایا ان کے بعد کی نسل یا تو اردو کو محض بالی ووڈ سنیما یا گیت سنگیت تک ہی محدود رکھاہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اردو زبان بولی اور پڑھی توجارہی ہے لیکن وہ محض کسی خاص تقریب میں یا رسمی طور پر۔جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ نئی نسل میں اردو زبان پڑھنے اور بولنے کا شوق تو ہے لیکن یہ ادبی محفلوں سے کوسوں دور ہیں۔البتہ ہجرت کر کے برطانیہ اور یورپ آنے والوں میں ا ردو زبان لکھنے پڑھنے کا رواج اب بھی قائم ہے جن سے کچھ امیدیں باقی ہیں۔اس پس منظر میں اگر شمس الرحمٰن فاروقی کے ایک مضمون ’اردو کی نئی بستیاں اور اردو کا پھیلاؤ‘ کے چند اقتباسات کو پڑھیں تو اس بات کی کہیں نہ کہیں صداقت کا علم آپ کو بھی ہو جائے گا۔وہ لکھتے ہیں:

’ہمارے بعض دوستوں نے اردو کی نئی بستیاں کا نعرہ ایجاد کیا ہے۔خدا ہی جانے کہ یہ نعرہ کسی سنجیدہ مطالعے اور حقائق واعداد و شمار پر مبنی ہے یا بھولے بھالے اردو والوں کو رجھانے کے لیے ایک سیاسی اسٹنٹ ہے‘۔ فاروقی صاحب یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’اصل سوال یہ ہے کہ اردو کا تھورا بہت وجود جو بیرونی ممالک میں کہیں کہیں نظر آتا ہے وہ قائم رہے گا یا نہیں؟ اور اگر قائم رہے گا تو کیا اتنے بہت سے لوگوں کی مادری زبان اور اولین زبان کی حیثیت سے قائم رہے گا کہ اس میں ادب تخلیق ہوسکے؟ مجھے دونوں باتوں میں بہت شک ہے۔‘

فاروقی صاحب سے فون پر تو اکثر گفتگو ہوتی رہی لیکن ان سے میری پہلی ملاقات 2017 میں دلی کے ایک عالمی کانفرنس میں ہوئی۔مجھے یاد ہے کہ فاروقی صاحب میری کتاب ’ایک گریزاں لمحہ‘ کی تقریب اجرا میں لندن تشریف لانے والے تھے۔ لیکن بدقسمتی سے اُن دنوں ان کی طبعیت اچانک ناساز ہوگئی اور وہ لندن آتے آتے رہ گئے۔پھر بھی گاہے بگاہے فون پر رابطہ ہوتا رہا۔ درمیان میں نہ جانے کیوں بہت دنوں تک رابطہ نہ ہوسکا لیکن ایک عرصے کے بعد ستمبر 2020 میں امتیاز گورکھپوری سے دورانِ گفتگو، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب کے متعلق حال چال جاننے کی کوشش کی تو انھوں نے بتایا کہ شمس الرحمٰن فاروقی اور ان کے والد ظفر گورکھپوری کے درمیان اچھے مراسم تھے۔حیرانی کی بات یہ ہوئی کہ ستمبر میں ہی سعودی عرب میں مقیم محمد عارف نے مجھے اطلاع دی کہ فاروقی صاحب مجھے یاد کر رہے ہیں۔یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی میں نے پہلی فرصت میں انھیں کال کیا اوراس طرح دوبارہ ہمارا رابطہ بحال ہوا۔فاروقی صاحب نے حال چال جانا اور کچھ پرانی اور کچھ نئی باتوں پر تبادلہ خیال بھی کیا۔اسی دوران ان کی بڑی صاحبزادی باراں فاروقی جو جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انگریزی کی پروفیسر ہیں ان سے بھی درمیان میں ہماری گفتگو ہوئی۔ اس دوران معلوم ہوا کہ فاروقی صاحب ۵۸ برس کے ہونے والے ہیں۔ ہم نے موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے فاروقی صاحب سے 3/اکتوبر 2020 کو زوم کے ذریعہ ایک آن لائن پروگرام ’ایک شام شمس الرحمٰن فاروقی کے نام‘ منانے کی اجازت لے لی۔

الحمداللہ 3/ اکتوبر 2020 کو صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کلکتہ اور ظفر گورکھپوری لٹریری اینڈ کلچرل اکیڈمی ممبئی کے بینر تلے ہم نے زوم پر شمس الرحمٰن فاروقی کی پچاسی سالگرہ منانے کے ساتھ ان کا ایک شاندار انٹرویو بھی لیا۔ یہ انٹرویو ان معنوں میں مختلف نوعیت کا تھا کہ ان سے بہت ساری باتیں بھی ہوئیں اور ان پر کئی لوگوں نے اظہار خیال بھی کیا۔ شاید یہ شمس الرحمٰن فاروقی کا آخری انٹرویو اور پروگرام تھاجسے دنیا بھر میں لائیو بھی دیکھا گیا اور اس موقع پر سامعین نے فاروقی صاحب سے براہ راست گفتگو کی۔

اس خاص انٹرویو اور گفتگو میں فاروقی صاحب نے دل کھول کر باتیں کیں۔ جو ہم سب کے لیے کافی مفید اور کارآمد ثابت ہوا۔ فاروقی صاحب نے علی سردار جعفری کے ایک مضمون’شعر شور انگیز‘ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، سردار جعفری کے نظریہ ادب سے اختلاف ہوتے ہوئے بھی میں ان کا بہت احترام کرتا تھا۔ وہ میرے باپ کے برابر تھے۔ سردار جعفری نے لکھا کہ مجھے اس کتاب کو پڑھنے میں لطف آتا ہے کیونکہ اس میں صرف میر ہی نہیں بلکہ دوسرے شعرا کا کلام بھی پڑھنے کو ملتا ہے اور ان اشعار کی روشنی میں میر کے اشعار کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ فاروقی صاحب نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ سردار جعفری بہت سخن فہم، سخن سناش اور وسیع النظر آدمی تھے۔ ان کا علم وسیع تھا اور شعر کا ذوق رکھتے تھے۔

اس انٹرویو میں فاروقی صاحب نے یہ بھی کہا ادبی صورت حال بہت اچھے نہیں ہیں۔ آج کل لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ انہیں نہ داغ اور نہ میر کے متعلق کوئی معلومات ہے۔ انہیں ایسے ادیب اور شعرا کو پڑھنا چاہیے تا کہ لوگ انھیں جانے اور سمجھیں اور اس سے ان کے علم میں بھی اضافہ ہو گا کہ ان لوگوں نے کیسے کیسے اشعار لکھے ہیں۔ آج کل لوگ اشعار کہہ رہے ہیں لیکن ان میں بے طرح نقص پائے جاتے ہیں۔ ان کے اشعار میں لے دے کر دو چار موضوعات ہی پائے جاتے ہیں۔ عام طوعر پر ادب کا معیار اچھا نہیں ہے۔ اب تو لوگوں نے ماں اور بہنوں پر بھی اشعار کہنا شروع کر دیا ہے جس سے اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ لوگ پڑھتے نہیں ہیں۔ صرف اس بات کی رٹ لگائے رہتے ہیں کہ’میر کے یہاں دردو غم کے سوا کچھ بھی نہیں‘۔انہوں نے کہا کہ لکھنے پڑھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی اور اس بات کا اعتراف کیا کہ جب وہ 70برس کے ہوئے تو انہوں نے پہلا ناول ’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘ لکھا۔

یہاں یہ بات بھی بتانا اہم ہے کہ 2012 میں شمس الرحمٰن فاروقی کو صوفی جمیل اختر میموریل ایواراڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔جس کے لیے فاروقی صاحب نے کلکتہ کا سفر کیا تھا۔ اس جلسہ ایوارڈ میں اپنی ایک پر مغز تقریر سے ہال میں بھرے سامعین کو کافی محظوظ بھی کیا تھا۔ کلکتہ والوں کو آج بھی اس بات کا فخر ہے کہ فاروقی صاحب کو ’صوفی جمیل اختر میموریل ایوارڈ‘سے نوازا گیا اور اس بہانے وہاں کے ادیب و شاعر اور ادب کے شائقین کو شمس الرحمن فاروقی سے بنفس نفیس ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔

شمس الرحمٰن فاروقی کی صاحبزادی محترمہ باراں فاروقی سے میری ملاقات 3 /ا کتوبر 2020کو فاروقی صاحب کے انٹرویو کے دوران ہوئی تھی۔ تاہم ان سے میری بات چیت اس سے قبل کئی بار ہوچکی تھی۔ باراں فاروقی صاحبہ سے میری جان پہچان کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی امی جمیلہ فاروقی کا الہ ٰآباد میں قائم کیا ہو ا ایک اسکول ہے دراصل اسی اسکول پراجیکٹ کے حوالے سے کچھ دنوں سے بات چیت ہوتی رہتی تھی۔ہمیں فخر ہے کہ اس اسکول پراجیکٹ کے لیے صوفی جمیل اختر لٹریری سوسائٹی کلکتہ نے بھی تعاون کیا ہے۔

فاروقی صاحب کی دوسری صاحبزادی ڈاکٹر مہر افشاں فاروقی امریکہ میں قیام پزیر ہیں اور ان سے بھی میری بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ اس انٹرویو کے دوران باراں فاروقی نے فاروقی صاحب کے ساتھ ایک شفیق باپ کی حیثیت سے چند اہم باتوں کا بھی ذکر کیا تھا۔ مجھے فاروقی صاحب کے بارے میں مطالعہ کے دوران باراں فاروقی صاحبہ کی لکھی ہوئی کچھ باتیں بہت پسند آئی۔ جسے میں آپ کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا ہوں۔

باراں فاروقی لکھتی ہیں کہ ’بھائی کی عالمانہ شخصیت سے ایک عالم واقف ہے لیکن وہ کتنے شفیق اور مہربان باپ ہیں یہ صرف ہم لوگ ہی جانتے ہیں۔ ہم دونوں بہنوں کا بچپن زیادہ تر الہ آباد میں گزرا ہے اور بھائی کی پوسٹنگ زیادہ تر الہ آباد سے باہر رہی۔ یہ شاید ان کی جادوئی شخصیت کا کمال رہا ہے کہ خصوصاً میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ وہ ہم سے دور ہیں۔ ہم دونوں بہنوں نے اد ب بھائی کی گود میں سیکھی اور پہچانی۔ قرآن کریم ہمیں بھائی نے ہی پڑھایا۔ اردو اور فارسی کی تعلیم ہمیں بھائی نے ہی سختی سے دی۔ تمام تربیت آداب ِ محفل، بڑوں کا ادب، ہم سنوں اور چھوٹوں سے پیار کے لیے میں انھیں کی مر ہونِ منت ہوں۔ وہ ہم دونوں بہنوں سے اس قدر قریب ہیں کہ ہم نے باوجود ان کی شخصیت کے دبدبے اور علمی جلال کے، ان سے ہمیشہ ایک سچی اپنائیت اور شدید محبت محسوس کی ہے۔ بچپن سے لے کر بڑے ہونے تک آنے والے ہر اچھے برے مرحلے میں ہم نے ان کو شریک پایا۔ وہ جب ہمارے ساتھ نہیں ہوتے تھے تب بھی ہم نے انھیں ہمیشہ اپنے ساتھ محسوس کیا اور پایا ہے۔ اور وہ جب بھی گھر آتے تھے لگتا تھا ہمارا گھر جیسے ان کی شخصیت سے لبالب بھر گیا ہے۔ انھیں دنیا کے تمام جانداروں سے محبت ہے۔ ان کی انسان دوستی اور خوش خلقی سے وہ تمام لوگ واقف ہیں جو ان سے ملاقات سے فیضیاب ہوئے ہیں۔ یہ بات میں وثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ وہ اپنے تمام ملنے والوں کی غیر موجودگی میں بھی ان کے بارے میں وہی محبت اور شفقت کا جذبہ رکھتے ہیں جس کا وہ ان سے ملنے پر اظہار کرتے تھے۔ میں نے بھائی کے منھ سے کبھی کسی کی برائی تو کجا، کوئی سخت لفظ بھی نہیں سنا۔ میں نے ان جیسا سچا اور مخلص آدمی کوئی دوسرا نہیں دیکھا۔ انھوں نے ہمیں بھی سچائی، ایمانداری اور محبت کی تعلیم و تاکید کی ہے۔ وہ سچائی اور ایمانداری جو انسان کو اپنے ساتھ اور دوسروں کے ساتھ یکساں روا رکھنی چاہئے۔میں سوچتی ہوں میرے وجود کا سب سے زیادہ قابل فخر پہلو یہ ہے کہ میں شمس الرحمٰن فاروقی کی بیٹی ہوں۔ اللہ انہیں سلامت رکھے‘۔

اسی طرح ایک مضمون فاروقی صاحب کے والد کا نظر سے گزرا جس میں وہ فرماتے ہیں کہ ’میری چوتھی اولاد شمس الرحمٰن فاروقی ہے۔ ان کی پیدائش پرتاپ گڑھ میں ۰۲/ ستمبر ۵۳۹۱ء کو ہوئی۔ ان کی ولادت سے سارے خاندان کو خوشی ہوئی،اس لیے کہ یہ دو لڑکیوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ اپنے نانا اور نانی کے بہت پیارے تھے۔ شمس الرحمٰن بچپن سے ہی کتابوں کے پڑھنے کے شوقین ہیں۔1941 میں اعظم گڑھ میں ویسلی اسکول کے بالکل سامنے ایک کوٹھے پر ہم لوگ رہتے تھے۔ اس کوٹھے کے نیچے ایک دفتر ی کی دکان تھی جو اب بھی ہے۔ اس میں ایک لڑکا جو شمس الرحمٰن سلمہ سے بڑی عمر کا تھا، اپنے باپ کے ساتھ جلد سازی کیا کرتا تھا۔ اب وہ یہی کام کر رہا ہے۔ یہ سارا کھیل اور دلچسپیاں چھوڑ کر اس کی دکان پر جو اردو کی کتابیں جلد سازی کے لیے آتی تھیں، اندھیرا ہونے تک پڑھا کرتے تھے۔ ہم لوگوں کے منع کرنے پر بھی کہ آنکھ خراب ہوجائے گی،نہیں مانتے تھے۔ ۷۔۸ برس کے لڑکے کو پڑھنے کا یہ شوق کم دیکھنے میں آتا ہے۔ ایک ماہوار قلمی رسالہ جس کو خود لکھتے تھے،نکالنے لگے۔اس وقت بھی ان کو بہت سے اشعار زبانی یاد تھے۔ میں جب کبھی ان کو اپنی سائیکل پر بٹھا کر کوریا پار میں میل کا سفر کرتا تھا اور والد صاحب مرحوم کے سامنے ان کو پیش کرتا تھا تو وہ بہت خوش ہوتے تھے اور ان سے بہت سے اشعار زبانی سنتے تھے۔ ’ای نیند ممنوعہ قیامت۔ تونے ہمیں آنکھ سے دکھایا‘ پوری نظم زبانی سناتے تھے۔ اس سائیکل کے سفر کے وقت میرے دل میں خیال آتا تھا کہ شاید اللہ تعالیٰ وہ دن نصیب کریں کہ یہ لڑکا اپنی موٹر میں بٹھا کر یہ سفر طے کرا دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دن بھی دکھلا دیا۔ یہ ایم اے انگریزی الہ آباد یونورسیٹی 1955 کے ہیں۔ اپنے ساتھیوں میں اول آئے تھے۔ بلیا اور اعظم گڑھ کے ڈگری کالجوں میں انگریزی کے لیکچرر رہے ہیں۔ پہلی کوشش میں الائیڈ سرویسیس کے امتحان میں کامیاب ہوئے۔ سپرنٹنڈنٹ پوسٹ آفیسر، گوہاٹی، نئی دہلی اور الہ آباد میں رہے ہیں۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کے دفتر لکھنؤ میں افسر تحقیقات (ویجلینس آفیسر) رہے۔

اردو ادب میں محترم شمس الرحمٰن فاروقی صفِ اول میں نظر آتے ہیں۔ انہیں مغربی اور مشرقی دونوں علوم اور تنقید نگاری پر دسترس حاصل ہے۔ نہ صرف یہ کہ وہ بعض دیگر لوگوں کی طرح مروت، جانب داری، یا سختی سے پرہیز کرتے ہیں بلکہ ایک سچے عالم کی طرح علوم کے اندر جھانک کر جائز ہ لیتے ہیں یا تجزیہ کرتے ہیں۔ تنقید کا اعلیٰ معیار اور پیمانہ طے کردیتے ہیں۔ ان تک پہنچنے میں بہتوں کے پر جلنے لگتے ہیں۔ اگر اس معیار پر کوئی تحریر کھری اترگئی تو وہ عالمی ادب میں اعلیٰ مقام کی حقدار ہے اور سارے عالم میں اردو کا سر بلند کرتی ہے۔

مجھے اس بات کو کہنے میں کوئی جھجھک نہیں ہوتی کہ شمس الرحمٰن فاروقی کا اردو ادب پربہت بڑا احسان ہے۔انھوں نے ادب کو نہ صرف نئے خیالات سے روشناس کرایا اور کلاسیکی ادب کے ساتھ ساتھ نئے ادب کو بھی دیکھنے کا خاص نظریہ دیا۔ان کا نام دنیا بھر کے اردو داں نہایت ادب و احترام سے لیتے ہیں۔ فاروقی صاحب نے دنیا بھر میں اردو زبان و ادب پر لیکچر دئے اوراپنے خیالات اور مطالعے
سے اردو ادب کا معیار کافی بلند کیا۔ہم سب جانتے ہیں کہ شمس الرحمٰن فاروقی جیسا ادیب، نقاد،دانشورنہ ہوا ہے اور نہ شاید ہو گا۔
ہمیں ناز و فخر ہے کہ اردو زبان و ادب میں شمس الرحمٰن فاروقی جیسا دانشور پیدا کیا ہے جن کے افکار سے ساری دنیا متاثر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.