شوبز ڈائری: بپاشا باسو کی رنگت اور کپڑوں پر تبصرے اور بولڈ ملکہ شیراوت اصل زندگی میں بولڈ نہیں

بپاشا باسو نے بالی وڈ میں اپنے بیس سال مکمل کر لیے ہیں۔ انھوں نے دو دہائی پہلے اپنے فلمی کریئر کا آغاز عباس مستان کی فلم ’اجنبی‘ سے کیا تھا۔

پرانی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے اداکارہ بپاشا باسو کا کہنا تھا کہ 20 سال پہلے جب انھوں نے اپنے کریئر کی شروعات کی تو یہاں کچھ ان کہے ضابطے ہوا کرتے تھے۔ بہت سی باتیں چھپانے کے لیے کہا جاتا تھا مثلاً اپنے بوائے فرینڈ کے بارے میں کسی کو نہ بتاؤ، اس طرح کے کپڑے نہ پہنو وغیرہ وغیرہ۔

حال ہی میں ایک انٹرویو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’اُس وقت یہاں ہر دوسرا انسان آپ کو رائے دینے بیٹھ جاتا تھا۔‘

بپاشا کا کہنا تھا کہ انھیں نہ صرف ان کی رنگت بلکہ ان کے لائف سٹائل یہاں تک کہ کپڑے پہننے کے انداز تک پر ٹوکا جاتا تھا۔

’مجھے ہمیشہ کہا جاتا تھا کہ دھوپ میں زیاہ نہ بیٹھو تمہارا رنگ پہلے ہی سانولا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی شرطوں پر زندگی گزاری ہے۔

ملکہ شیراوت اور کاسٹنگ کاؤچ

ملکہ شیراوت
،تصویر کا کیپشنملکہ کی فلم ’مرڈر‘ بہت کامیاب رہی تھی

’بڑے پردے پر میری بولڈ امیج کی وجہ سے اکثر ہیرو میرے ساتھ لبرٹی لینے کی کوشش کرتے تھے لیکن میں نے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے ایسے لوگوں سے فاصلہ بنا کر رکھنے کی کوشش کی۔‘

ویب سائٹ پِنک وِلا کے ساتھ انٹرویو میں اداکارہ ملکہ شیراوت نے کاسٹِنگ کاؤچ کے اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح وہ ایسی صورتِ حال سے نمٹا کرتی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی قسمت اچھی تھی کہ انہیں نسبتاً جلدی اور آسانی سے کامیابی مل گئی اور وہ سٹار بن گئیں۔

ملکہ کا کہنا تھا کہ ’میں جیسے ہی ممبئی آئی مجھے فلم خواہش اور پھر فلم مرڈر مل گئی‘۔

یہ دونوں ہی فلمیں کامیاب رہیں اور ان کے بقول فلموں میں ان کے بولڈ کردار کے سبب کچھ لوگوں نے غلط مطلب لینا شروع کر دیا۔

’شاید انھیں لگا کہ میں اپنے کردار کی طرح اصل زندگی میں بھی بولڈ ہوں اس لیے انھوں نے مجھ سے کچھ زیادہ ہی لبرٹی لینے کی کوشش کی۔‘

ملکہ کا کہنا تھا کہ انہیں براہِ راست کاسٹِنگ کاؤچ کا تجربہ نہیں ہوا کیونکہ انھوں نے ایسی صورتِ حال سے ہمیشہ خود کو دور رکھنے کی کوشش کی کبھی کسی پروڈیوسر یا ڈائریکٹر سے ملاقات کے لیے ہوٹل کے کمرے میں نہیں گئیں اور دیر رات پارٹیوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کی شاید اسی لیے انھیں آگے زیادہ کام نہیں مِلا۔

’لیکن میرا ہمیشہ یہی خیال رہا کہ جو آپ کی قسمت میں ہے وہ کسی نہ کسی طرح آپ کو مل ہی جائے گا اس لیے مجھے یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔‘

’بھوت پولیس‘ کی کامیابی

سیف
،تصویر کا کیپشنسیف کی فلم بھوت پولیس کامیاب رہی ہے

چھوٹے نواب یعنی سیف علی خان ڈزنی پلس ہاٹ سٹار پر اپنی تازہ ترین فلم ’بھوت پولیس‘ کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں۔

سیف ایسے اداکار ہیں جو بطور ہیرو ابتدائی ناکامیوں کے بعد کرداروں کے تجربے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے۔

یہی وجہ ہے کہ فلم اوم کارہ میں لنگڑا تیاگی ان کی زندگی کا یادگار کردار بن گیا اور اداکاری کے میدان میں ان کے لیے ٹرنِنگ پوائنٹ ثابت ہوا۔

ان کی فلم بھوت پولیس کی کامیابی کے موقع پر جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ان کے بیٹے فلموں میں کام کرنا چاہیں تو وہ اپنے تینوں بیٹوں ابراپیم، تیمور اور جیہہ کو اداکاری کے میدان میں کیا مشورہ دینا چاہیں گے تو سیف کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ وہ زندگی میں اپنا مقصد پہچانیں اورپوری محنت اور لگن سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

ویسے مقصد کیسے حاصل کرنا ہے یہ تو سیف علی خان نے خود کر کے دکھایا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *