شٹ ڈاؤن بذریعہ لاک ڈاؤن

کل رات کئی دن کے بعد ایسی رات تھی کہ آسمان پر بادل نہیں تھے۔ باہر صحن میں کھڑے ہو کر آسمان پر نظر ڈالی تو سارا آسمان ستاروں سے بھرا ہوا تھا۔ آسمان پہلے بھی اپنے دامن میں اتنے ہی ستارے سجائے پھرتا تھا لیکن یہ اس طرح نظر نہیں آ رہے تھے۔ اس طرح کا منظر عشروں پہلے چک 32 باغ وبہار میں دیکھا تھا۔ باغ و بہار خان پور تحصیل کا ایک قصبہ ہے اور چک 32 باغ و بہار کے نواح میں واقع ہے۔ ہمارا دوست خالد محمود جو تب صرف خالد محمود تھا اور ابھی خالد محمود رسول (کالم نگار) نہیں بنا تھا‘ ہمارے ساتھ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں پڑھتا تھا۔ وہ مجھ سے ایک سال سینئر تھا تاہم آپس میں دوستی جامعہ زکریا میں آنے سے پہلے ہی ہو چکی تھی۔ میں تب گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان میں پڑھتا تھا اور خالد محمود خواجہ فرید ڈگری کالج رحیم یار خان کا طالب علم تھا۔ ہماری دوستی کل پاکستان بین الکلیاتی تقریبات میں ہونے والے مباحثوں کے دوران ہوئی تھی۔ وہ بھی مقرر تھا اور میں بھی اپنے کالج کی طرف سے ان بین الاکلیاتی تقریبات میں مباحثوں میں حصہ لیا کرتا تھا۔ وہ کالج میں بھی مجھ سے ایک سال سینئر تھا۔ جب وہ زکریا یونیورسٹی میں داخل ہوا میں تب ایمرسن کالج کے آخری سال میں تھا اور اس سے تقریباً روزانہ ملاقات ہوتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ تب زکریا یونیورسٹی جس سکول کی عمارت میں قائم ہوتی تھی وہ میرا سابقہ سکول تھا۔
میں نے میٹرک گورنمنٹ ہائی سکول گلگشت کالونی سے کیا اور پھر ایمرسن کالج میں داخل ہو گیا۔ میں تب سیکنڈ ایئر میں تھا جب ملتان یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ پہلے پہل اس کا نام ملتان یونیورسٹی ہی تھا جو بعد میں تبدیل کر کے بہاء الدین زکریا یونیورسٹی رکھ دیا گیا۔ میری بی اے کی سند پر اب بھی ملتان یونیورسٹی لکھا ہوا ہے تاہم ایم بی اے کی ڈگری پر بہاء الدین زکریا یونیورسٹی چھپا ہوا ہے۔ پانچ سال گلگشت ہائی سکول کی کینٹین پر سموسے اڑانے اور بوتلیں پینے کے بعد جب سڑک کے دوسری جانب اسی سکول سے ملحقہ ایمرسن کالج میں داخلہ ہوا تو اپنے سکول کی کینٹین پر آنا جانا اسی طرح رہا جس طرح سکول میں پڑھنے کے دوران ہوتا تھا۔ مرحوم شیخ حفیظ صاحب سے ایسا انس تھا جو کالج میں جانے کے بعد بھی قائم رہا۔ اس انس کے پیچھے دو بنیادی وجوہات تھیں۔ پہلی یہ کہ شیخ حفیظ صاحب ابا جی مرحوم کے بڑے برخوردار شاگرد رہے تھے اور اس حوالے سے مجھ سے خاص محبت کرتے تھے اور دوسری وجہ (جو زیادہ اہم تھی) یہ تھی کہ وہ بلا تعطل مسلسل ادھار دینے میں رتی برابر تامل نہیں کرتے تھے۔ اسی کینٹین پر خالد محمود سے دوستی مزید پختہ ہوئی۔ ویسے بھی روزانہ یونیورسٹی آنے میں بنیادی وجہ منیر چوہدری تھا جو میرا لنگوٹیا تھا اور ایک سال آگے ہونے کی وجہ سے ایک سال پہلے ہی یونیورسٹی آ گیا تھا۔ خالد محمود رسول کی والدہ کا انتقال ہوا تو میں اور منیر چوہدری تعزیت کے لیے ملتان سے چک 32 باغ و بہار گئے۔ خالد محمود کے ساتھ چک 32 کے باغ میں رات گئے تک گھومتے رہے۔ آسمان تاروں سے بھرا ہوا تھا۔ اتنے ستارے پہلے شاید زندگی میں کبھی دیکھے ہی نہیں تھے۔ میں نے تب ہر جگہ یہ کہنا شروع کر دیا کہ آسمان پر جتنے ستارے چک 32 باغ و بہار میں دکھائی دیتے ہیں دنیا میں اور کہیں سے نظر نہیں آتے۔ کل رات بھی ایسی ہی رات تھی لیکن چک 32 کے بجائے ستاروں کی یہ بارات میں نے اپنے گھر کے صحن میں سے دیکھی۔ ملتان شہر میں ساری عمر گزارنے کے باوجود اتنے ستارے عشروں بعد دیکھے۔ یہ وہ ستارے تھے جو صدیوں سے نہیں اربوں کھربوں سال سے موجود ہیں لیکن میں نے ملتان سے ان کی ایسی جلوہ آفرینی شاید پہلی بار دیکھی۔
قارئین! اب تو اس موضوع سے بھٹک جانے کی عادت پر معذرت کرتے ہوئے بھی عجیب سا لگتا ہے۔ ہر چوتھے کالم میں ایسی معذرت کرتے ہوئے اب شرمندگی سی ہوتی ہے۔ اس لیے آج مورخہ 23 اپریل 2020ء کو آپ مہربانی فرماتے ہوئے ماضی کے حوالے سے بھٹک جانے کی اس عادت پر مستقل معافی عطا فرما دیں کہ اب یہ عادت ختم ہوتی یا چھوٹتی نظر نہیں آ رہی۔ سو آپ ہی اب درگزر کر لیا کریں۔
یہ ستارے تھوڑا عرصہ پہلے اس طرح موجود بھی تھے مگر ایسی چھب بھلا کب دکھاتے تھے؟ آسمان کو گرد و غبار نے ڈھانپ رکھا تھا۔ اور تو اور کہیں قطب شمالی یا جنوبی (اب ٹھیک طرح سے یاد نہیں) کے اوپر اوزون کی تہہ بھی پھٹ پھٹا گئی تھی اور باقی دنیا پر اس تہہ کی موٹائی خطرناک حد تک کم ہو گئی تھی۔ سنا ہے اب قطب کے اوپر اس پھٹی ہوئی اوزون کی تہہ کی مرمت ہو گئی ہے اور باقی ماندہ تہہ مناسب حد تک موٹی تازی ہو گئی ہے۔ بحری جہازوں کی آمد و رفت کم ہونے سے سمندری آلودگی میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔ ہوائی جہازوں کی غالب تعداد گزشتہ ایک ماہ سے آرام کر رہی ہے اور دنیا بھر میں فضائی آلودگی کی مقدار اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر ندی نالوں میں آلودگی بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ندی نالوں کا پانی گدلے سے دوبارہ نیلا رنگ دکھانے پر آ گیا ہے۔ سڑکوں پر دھول کم ہو گئی ہے۔ پیٹ کے امراض (جن کی بنیادی وجہ شاید الا بلا کھانے تھے) نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ ایک ماہ سے کسی بٹ صاحب کے ہیضے کا شکار ہونے کی خبر بھی کان نہیں پڑی۔ لوگوں کے گھروں میں وقت گزارنے کے طفیل گاڑیاں گھروں میں کھڑی ہیں اور سڑکوں پر دھواں اور دھول دونوں نظر نہیں آ رہے۔ لاہور جیسے سموگ کے مارے ہوئے شہر کا تازہ ترین ''ایئر کوالٹی انڈیکس‘‘ آج کل 2.5 ہے جو ماڈریٹ ہے۔ پہلے یہ انڈیکس Hazardous تھا ‘یعنی خرابی کی آخری سطح پر تھا۔ اس انڈیکس کی چھ کیٹیگریز ہیں اور ماڈریٹ دوسری بہترین سطح ہے۔ لاہور میں یہ ایئر کوالٹی انڈیکس نہ شہباز شریف لا سکے اور نہ ہی اس کا سہرا کسی طور عثمان بزدار کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ یہ کورونا کے باعث ہونے والے لاک ڈائون کے مثبت اثرات ہیں اور سب کچھ صرف لاہور یا پاکستان کا لاک ڈائون نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ساری دنیا میں ماحول کی خرابی، فضائی آلودگی، دریائوں اور سمندروں کی بری حالت، اوزون کی تہہ کی بربادی اور موسموں میں آنے والی ساری بے ترتیبی ہماری قدرتی عوامل کے خلاف صدیوں سے جاری جنگ کے باعث تھی۔ انسان نے قدرت کی دی گئی نعمتوں کو خراب و خستہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی حالانکہ اس ساری تباہی اور بربادی کا سارا نقصان بھی صرف اور صرف انسان نے ہی اٹھانا تھا لیکن انسان اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا۔ قدرت کو بہر حال اس دنیا کو دوبارہ بہتر شکل و صورت میں واپس لانا مقصود تھا کہ سارا ماحول ناقابل برداشت حد تک غیر متوازن ہو چکا تھا۔ اب معاملات اس طرح مزید چلنا ممکن نہ رہا تھا۔ قدرت کو اس دنیا کا ''شٹ ڈائون‘‘ مقصود تھا۔
انسان تمام بڑی بڑی فیکٹریوں کو سالانہ، چھ ماہی یا مشینری بنانے والوں کی طرف سے دی گئی ہدایات کے مطابق کچھ عرصہ کے بعد اوور ہالنگ کے لیے بند کر دیتا ہے۔ اس طے شدہ یا شیڈول اوور ہالنگ کے لیے فیکٹری یا ملز کی بندش ''شٹ ڈائون‘‘ کہلاتی ہے۔ انسان اپنی دنیا کی اوور ہالنگ پر رتی برابر توجہ نہیں دے رہا تھا۔ دنیا کی مشینری کو اب ہر حال میں ایک ''شٹ ڈائون‘‘ درکار تھا۔ مالک کائنات نے اس دنیا کا شٹ ڈائون بذریعہ لاک ڈائون کروا دیا ہے اور جونہی اوور ہالنگ مکمل ہو گئی فیکٹری دوبارہ آپریشنل ہو جائے گی۔ اوور ہالنگ کو جتنی محنت اور جانفشانی سے کیا جائے گا شٹ ڈائون کا دورانیہ اتنا ہی کم ہو جائے گا۔ ہر شخص ذاتی طور پر اس شٹ ڈائون میں اپنا حصہ ڈال کر اوور ہالنگ کی کوالٹی بہتر کر سکتا ہے۔ اور اس کا سب سے مناسب طریقہ یہ ہے کہ کورونا کی مصیبت ٹلنے کے بعد دنیا کو نئے حساب کتاب اور طریقے سے چلایا جائے۔ اس لاک ڈائون نے یہ بات بہر حال سمجھا دی ہے کہ ہم بہت سی غیر ضروری حرکتیں چھوڑ دیں تو ہماری صحت پر تو کوئی فرق نہیں پڑے گا، لیکن اس زمین نامی سیارے پر بہت مثبت فرق پڑے گا۔ اب ہمیں اس زمین کا مزید استحصال بند کرنا ہوگا وگرنہ اگلا شٹ ڈائون زیادہ سختی سے لاگو ہوگا۔ مالک کائنات اس دنیا کو لاوارث تو بہر حال نہیں چھوڑے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *