شکاگو: شوہر نے پاکستانی خاتون کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کر لی

29 سالہ پاکستانی نژاد امریکی خاتون ثانیہ خان نے اپنی آخری سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا تھا کہ کسی ایسے شخص سے دور جانا تکلیف دہ ہے جس سے آپ کبھی پیار کرتے تھے لیکن کسی ایسے شخص سے محبت کرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہے جو آپ کے دل سے لاپروا ہو۔

 رپورٹ کے مطابق اس ہفتے کے اوائل میں اپنی بیوی سے الگ رہنے والا ان کا 36سالہ شوہر راحیل احمد شکاگو کے مضافاتی علاقے میں ان کے گھر پہنچا، انہیں گولی مار کر قتل کیا اور پھر خود کو ہلاک کر لیا۔

اس نے ایسا کرنے کے لیے جیارجیا کے شہر الفاریٹا سے الینوئیس کے شہر اسٹریٹ ولی تک کا 700 میل سے زیادہ کا سفر کیا۔

جمعرات کو ثانیہ کے والد حیدر فاروق خان نے اپنی بیٹی کے فیس بک پیج پر ایک مختصر اعلانیہ پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ میری سب سے بڑی بیٹی ثانیہ خان کا انتقال ہوگیا۔

انہوں نے لکھا کہ ان کی نماز جنازہ جمعرات کو بعد نماز عصر چٹانوگا اسلامک سینٹر میں ادا کی جائے گی، ہمیں اپنی دعاؤں میں رکھیں۔

یہ خاندان چٹانوگا، ٹینیسی میں رہتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ جوڑا طلاق کی کارروائی سے گزر رہا تھا اور ثانیہ الفریٹا سے شکاگو چلی گئی تھی جہاں وہ پروفیشنل فوٹوگرافی کر رہی تھیں۔

شکاگو ٹریبیون نے رپورٹ کیا کہ پولیس افسران پیر کی شام تقریباً ساڑھے 4 بجے ثانیہ خان کے اپارٹمنٹ گئے جہاں سے انہیں فلاحی جانچ کے لیے کال موصول ہوئی۔

جب وہ پہنچے تو انہوں نے گولی چلنے کی آواز سنی اور ایک آدمی کراہ رہا تھا، اندر افسران نے ثانیہ کو دروازے کے قریب مردہ حالت میں پایا، شکاگو سن ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ان کے سر کے پچھلے حصے میں گولی لگنے کا زخم تھا۔

راحیل کو بیڈ روم میں سر پر چوٹ لگی تھی، پولیس کو اس کے ہاتھ میں ایک ہینڈگن ملا اور قریب سے ایک خودکشی کا نوٹ بھی ملا۔

راحیل کو نارتھ ویسٹرن ہسپتال لے جایا گیا جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا، بعد ازاں کک کاؤنٹی کورونر نے دونوں اموات کی تصدیق کی۔

راحیل کے اہل خانہ نے اٹلانٹا کے مضافاتی علاقے سے ان کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی تھی جس کے بعد کے بعد پولیس ثانیہ کے اپارٹمنٹ گئی جہاں وہ رہتا تھا۔

الفریٹا کے ایک پولیس افسر کے مطابق دونوں طلاق کے عمل سے گزر رہے تھے۔

انہوں نے فیس بک پیج پر نوٹ میں لکھا کہ ثانیہ خان نے ایک خراب شادی ختم کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن ان کے سابق شوہر نے اسے مار ڈالا۔

ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ انہیں اپنے خاندان یا معاشرے کی حمایت حاصل نہیں تھی، دیسی لوگ اپنے بچے کی خوشی سے زیادہ اپنی ساکھ کی فکر کرتے ہیں، جنوبی ایشیائی والدین کو یاد دلاتے ہوئے کہ ایک طلاق یافتہ بیٹی مردہ بیٹی سے بہتر ہے۔

گولی لگنے سے پہلے ثانیہ خان نے ٹک ٹاک پر ویڈیوز پوسٹ کی تھی کہ ایک جنوبی ایشیائی خاتون کے لیے طلاق لینا کتنا مشکل تھا۔

error: