شکر کریں یہاں طالبان والے حالات نہیں

لاکھ کمزوریاں ہماری اور اُن کمزوریوں کا اعتراف بھی ہم کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے معاشرے کو برا بھلا کہتے ہیں ہمارا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا لیکن پھر بھی تمام کمزوریوں اور مسائل کے باوجود یہ معاشرہ بہتوں سے بہتر ہے۔ رشوت ہے کرپشن ہے نااہلی اور کاہلی ہے لیکن اِس میں خوبیاں بھی ہیں۔ خوبیاں نہ بھی ہوں تو ہم میں سے اکثریت کیلئے یہی ایک گھر ہے۔ تلاشِ معاش میں ہمارے لوگ اِدھر اُدھر جاتے ہیں‘ لیکن گھوم پھر کے گھر اِسی کو کہتے ہیں۔ اِسی سے ہم مانوس ہیں۔ اِسی میں اپنائیت ملتی ہے۔
لہٰذا افغانستان جانے اور وہاں کے طالبان۔ ہماری امید اُن سے یہی ہے کہ وہاں امن رہے تاکہ تخریب کاری یا اور قسم کے شر وہاں سے یہاں نہ آئیں۔ ہم جہاد کے نام پہ بہت کچھ بھگت چکے ہیں، مزید بھگتنے کا ہم میں دم نہیں۔ تجارت رہے بلکہ فروغ پائے، آمدورفت بڑھے، ہم کابل جا سکیں اور وہاں سے وسطی ایشیا کی ریاستوں تک پہنچ سکیں۔ ایسا ہو سکے تو کتنا سہانا لگے۔ یہ عجیب دردِ سر ہے کہ ازبکستان جانا ہو تو پہلے دبئی جانا پڑتا ہے۔ ستیاناس ہو اُن کا جو پاکستان کی قومی ایئرلائن کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ اِدھر اُدھر کے ہوائی سفر کا مرکز اسلام آباد ہونا چاہئے تھا۔ نقشہ دیکھ لیں، اسلام آباد سے چلیں تو وسطی ایشیا کی ریاستیں کتنی قریب پڑتی ہیں۔ یہاں سے پروازیں چلیں اور کابل سے ہوتے ہوئے ہم ثمرقند اور بخارا جا سکیں۔ طالبان نے افغانستان میں جو نظام قائم کرنا ہے یہ اُن کا دردِ سر ہے۔ ریش مبارک ہوںاور اگر ہوں تو کتنی لمبی ہوں، پانچے ٹخنوں سے کتنے اوپر یا نزدیک ہوں یہ اُن کے مسائل ہیں۔ ہمارے ہاں بھی اِس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی کمی نہیں‘ لیکن شکر ادا کرنا چاہئے کہ یہاں اُس قسم کی سختی نہیں۔ عقیدے کے حوالے سے جو ہم کرتے ہیں مرضی سے کرتے ہیں۔ مانا کہ اقلیتوں سے ہمارے رویے درست نہیں۔ اِن رویوں کو ٹھیک کرنا چاہئے۔ چند ایک قوانین ہیں جن میں ردوبدل کی ضرورت ہے‘ لیکن عمومی طور پہ ہمارے ہاں وہ سختیاں نہیں جو طالبان حکمرانی کے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں۔
یہ نہیں کہ یہاں کے حالات مثالی ہیں۔ کون پاکستانی ہے جو ایسا کہے گا۔ ہم گفتگو کرتے ہیں تو اپنے مسئلے مسائل گنوانا شروع کردیتے ہیں۔ اصلاح کی ضرورت ہے۔ نظام میں خرابیاں ہیں‘ وہ ٹھیک ہونی چاہئیں۔ قوم میں کاہلی کوٹ کوٹ کے بھری ہوئی ہے۔ اِس کا کچھ علاج ہونا چاہئے لیکن چند حماقتوں کے علاوہ یہ آزاد معاشرہ ہے۔ یہ درست ہے کہ سوات میں ایک طالبان قسم کا تجربہ آزمایا گیا تھا لیکن فوج کو ایکشن لینا پڑا اور وہ تجربہ ختم ہوا۔ قبائلی علاقوں میں بھی طالبان طرز کا نظام قائم ہوا تھا لیکن فوجی ایکشن کے تحت اُس کا بھی خاتمہ ہوا۔ کم از کم اتنا ہم سمجھ گئے ہیں کہ اُس قسم کا سختی والا نظام یہاں نہیں چل سکتا۔ ہمارے مزاج کے مطابق نہیں۔ میرے جیسے لوگ کُڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں چیز پہ پابندی ہے، فلاں چیز ممنوع ہے۔ ہمارا کُڑھنا درست بھی ہے لیکن دیکھا جائے تو پسِ پردہ ہی سہی بہت کچھ یہاں مل جاتا ہے اور بہت سی آزادیاں پسِ پردہ دیکھی جاسکتی ہیں۔ قوانین میں تبدیلی ہو تو اچھا رہے۔ خواہ مخواہ کی ہیراپھیری اور منافقت میں کچھ کمی آجائے گی‘ لیکن اِس کے باوجود یہاں چیزیں چل تو رہی ہیں‘ لہٰذا جو کچھ ہے اُس کا شکر ادا کرنا چاہئے اورساتھ ہی یہ کوشش جاری رہنی چاہئے کہ جہاں حالات خراب ہیں اُن میں بہتری لائی جائے۔
بہت حد تک پرابلم ہماری حکمرانی کا ہے۔ جنرل مشرف میں عقل ہوتی تو بہت کچھ ٹھیک کرسکتے تھے۔ اقتدار پہ قبضہ کرنے کے بعد دو سال تک اُنہیں کسی مخالفت کا سامنا نہیں تھا۔ سیاہ و سفیدکے مالک تھے، کرنا چاہتے تو بہت کچھ کرسکتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور کی خرابیوں کو دور کرنے کا اُن کے پاس موقع تھا‘ لیکن موقع گنوا دیا۔ اپنی عیاشیوں میں لگے رہے، اُن میں کمی نہ آنے دی‘ لیکن معاشرے کی عیاشیوں کا زیادہ خیال نہ رکھ سکے۔ موجودہ وزیراعظم کو لیں، اگر چاہتے تو بہت کچھ کرسکتے تھے۔ لیکن اپنی محدود سوچ کے اسیر ہیں۔ جائز و ناجائز دولت اکٹھا کرنے والوں کی حرکتوں پر کوئی قدغن یا پابندی نہیں‘ لیکن معاشرے پر جو فضول کی بندشیں ہیں وہ ویسے کی ویسے قائم ہیں۔ میری سمجھ میں ایک بات کبھی نہیں آئی کہ ایسے لوگ حکمران بن کے اِتنے ڈرپوک کیوں ہوتے ہیں۔ فیصلے کیوں نہیں کرسکتے۔ ان سے تو جام صادق علی بہتر تھے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ بنے تو کئی ایک سماجی تبدیلیاں لے آئے۔ ایسا جب کیا تو انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ ہوئی۔ جو کرنا تھا کردیا اور مزے کی بات یہ کہ کسی نے احتجاج بھی نہ کیا۔ جن چیزوں کو ہم پنجابی روتے ہیں صوبہ سندھ میں اُس قسم کی بندشیں نہیں۔ منبر یا محراب سے کبھی اِس ضمن میں کوئی احتجاج بھی نہیں ہوا۔
پنجاب کی آب وہوا ایسی ہے یا کوئی اور وجہ ہے، حکمران یہاں کے کمزور دل ثابت ہوئے ہیں۔ کوتاہ اندیش اور کمزور دل۔ آج کل کی حالت بھی دیکھ لیں۔ جو گورنر صاحب ہمارے نصیب میں آئے ہیں‘ اُن کی سوچ ملاحظہ ہو، فرمان جاری کرتے ہیں کہ بی اے اور ایم اے کی سند لینے کیلئے ناظرہ کی صلاحیت ضروری ہوگی۔ اِن سے کوئی پوچھے کہ یہاں پنجاب میں دینی تعلیم یا تعلیمات کی کوئی کمی ہے کہ آپ کو یہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ لیکن جیسی سوچ ہو ویسا ہی انسان کرتا ہے۔ وزیراعلیٰ کی بات ہی نہ کریں۔ خدا معاف کرے کہ ہم خواہ مخواہ کی غیبت میں پڑیں لیکن اُن کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ کرسی بڑی ہے اور قد چھوٹا۔ شاید اِن افواہوں میں مبالغہ ہو لیکن ہم سنتے ہیں کہ اپنا بہت کچھ کررہے ہیں۔ حضور ضرور کیجئے لیکن ہم گناہگاروں کا بھی کچھ سوچ لیجئے۔ ہمت اور سوچ ہوتی تو بہت کچھ کرسکتے تھے لیکن جہاں فقدانِ ہمت و عقل ہو وہاں بڑے سے بڑا ہتھیار ہاتھوں میں تھما دیا جائے آپ کچھ کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔
عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کی ترقی کو روکے ہوئے کوئی بہت پیچیدہ مسائل نہیں۔ یہ عام فہم کی باتیں ہیں۔ تھوڑی سی ہمت ہو پاکستان کے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں‘ لیکن بیکار کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ بہرحال زیادہ کیا رونا پیٹنا۔ یہ امید ہی لگا سکتے ہیں کہ کبھی تو یہ چھوٹے چھوٹے مسائل حل ہو جائیں گے۔ زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔ ظاہر و باطن میں فرق تھوڑا کم ہو جائے گا۔ کچھ نہ بھی ہو‘ پھر بھی معاشرہ ہمارا چل ہی رہا ہے۔ روتے ہیں کُڑھتے ہیں قائداعظم کی تصویر کا استعمال چھوٹے بڑے کاموں میں کرنا پڑتا ہے لیکن پھر بھی کام چل ہی رہا ہے۔
ایرانی تہذیب و تمدن کی ہم قدر کرتے ہیں لیکن مجھ جیسا شخص ایران میں کبھی رہنا نہ چاہے۔ وہاں جس قسم کی سختیاں روا ہیں ہم سے برداشت نہ ہوں۔ طالبان کے افغانستان سے ہم گزرنا چاہیں گے۔ جیسے عرض کیا حالات وہاں سنبھلیں تو شاید وسطی ایشیا کے راستے آسان ہو جائیں لیکن طالبان کے افغانستان میں کبھی رہنا نہ چاہیں گے۔ بہت سے پاکستانی تلاشِ معاش کے سلسلے میں سعودی عرب میں رہتے ہیں لیکن ہمارے جیسا درست راستوں سے ہٹا ہوا وہاں مستقل قیام کا سوچ نہیں سکتا۔ ہمارے لئے اپنے تمام مسائل کے ساتھ یہی معاشرہ سب سے افضل ہے۔ سنا ہے بہت دبئی اور بنکاک کے بارے میں۔ کبھی جانا بھی ہوا ہے لیکن تین چار روز بعد دل اُکتا جاتا تھا اور پھر اِسی دھرتی کی یاد ستانے لگتی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: