شکستہ ظروف کا سنہراسفر

صوفی درویش سے گھریلوخاتون خانگی مسائل پرگفتگومیں مگن تھی۔اپنے خاوندسے اس عورت کو بہت ساری شکائیتں تھیں۔کسی طورپر بھی وہ مصالحت پرآمادہ نہ تھی۔بزرگ اسے سمجھانے کی کوشش کررہاتھاکہ ازدواجی رشتوں میں اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ایک ساتھ پڑے برتن بھی ٹکرا جاتے ہیں۔اپنا بستا ہوا گھر مت توڑو۔خاوندکومعاف کاردو۔مفاہمت ومصالحت سے کام لو۔خاتون مگر غصے میں تھی۔شوہر نے اس کا دل توڑاتھا،اس کا اعتماد مجروح کیا تھا۔کہنے لگی شیشہ ایک بارٹوٹ جائے تو پھرنہیں جڑسکتا۔دل کے آئینے میں ایک باربال آجائے توپھر وہ دور نہیں ہوسکتا۔اس پر دانا بزرگ نے خاتون کو مثال دی کہ جاپان میں ٹوٹے ہوئے شیشوں کوجوڑنے کا ایک فن ہے۔ٹوٹاہواکانچ کا برتن اورآئینے کو سونے،چاندی ودیگرقیمتی دھاتوں کو پگھلاکرجوڑاجاتاہے۔ٹوٹ کرجڑے ہوئے یہ برتن پہلے سے زیادہ قیمتی ہوجاتے ہیں۔پہلے سے زیادہ اہمیت اختیار کرلیتے ہیں۔
اس کہانی کاانجام توالگ موضوع ہے مگراسے سننے کے بعدمیں جب بھی جاپان میں کہیں شیشے اورسرامک کے کسی ٹوٹے برتن کوسونے،چاندی،پلاٹینم سے جڑا ہوا دیکھتا ہوں توٹھٹھک جاتاہوں۔انسانی رشتوں کے ساتھ ان شکستہ برتنوں کی تشبیع خوبصورت بات ہے۔ان ٹوٹے ہوئے برتنوں کوجوڑنے اور قیمتی دھاتوں سے ان میں آئے بال کوپرکرنے کافن یہاں فنون لطیفہ میں شامل ہے۔اسے”کھن سگی“کہاجاتاہے۔اس لفظ کی تشریح میں ہی ایک جہان آباد ہے۔سنہری مستقبل،طلائی آئندہ،سنہری مرمت،طلائی جوڑ،سنہراسفربھی بڑامناسب ترجمہ ہے۔اس فن کے لئے ایک لفظ سونابنانابھی مستعمل ہے۔صدیوں پرانا یہ فن فقط فنون لطیفہ کاحصہ نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفہئ حیات ہے۔یہ استعارہ بھی ہے ٹوٹے رشتوں کو جوڑنے اورانسان کوخوبیوں کے علاوہ نقائص سمیت قبول کرنے کا۔اپنی ذات کی کجیاں،کمیاں،عیب قبول کرتے ہوئے جینے کاحوصلہ وہنر۔انسان فانی ہے،اور شکست کھاجاتاہے،اس کے باوجودشخصیت کے عیب قبول کرتے ہوئے محبت کرنے والے کی صلاحیت اوررغبت۔یہ موضوع اتناوسیع مفہوم ومعانی رکھتاہے کہ اس پربلا مبالغہ سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔
اردوشاعری کے توسط سے اس بابت جوناقص معلومات ہم تک پہنچی ہیں،ان کاخلاصہ توکچھ یوں بیان کیا جاسکتاہے۔

تم ناحق ٹکڑے چن چن کردامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کامسیحاکوئی نہیں کیوں آس لگائے بیٹھے ہو

جن برتنوں سے خوبصورت یادیں وابستہ ہوں ان کے ٹوٹنے کادکھ اس لئے بھی زیادہ ہوتا ہے کہ ان یادوں کے فراموش ہونے کااندیشہ پیداہوجاتاہے۔ایسے شکستہ ظروف کے لئے ”کھن سگی“مسیحائی کاعمل ہے۔ظروف کوٹوٹنے کے بعدبھی قابل استعمال اور عزیز رکھنے کی خواہش جاپانیوں میں بہت قدیم ہے۔اس کی جڑیں مذہبی و روحانی،سلسلے زن ZENمسلک سے بھی منسلک ہے۔جس کے نزدیک بدصورتی اوربھداپن بھی متاثرکن ہے۔شکستہ ظروف میں خوبصورتی تلاش کی جاسکتی ہے۔یہ دراڑیں برتن کواور زیادہ قیمتی بنانے کا سبب بھی ہو سکتی ہیں۔اس فن میں جدت اورخوبصورتی پیداکرنے کاسبب پانچ صدیاں پہلے رونماہونے والاایک واقعہ بیان کیاجاتاہے۔جب ایک”شوگن“نے اپناچائے کاٹوٹاہواپیالامرمت کے لئے چین بھیجا۔
دھات کی دھاروں سے مرمت ہونے کے بعدجب یہ پیالاواپس جاپان پہنچاتوبہت بھدالگ رہاتھا۔”شوگن“کو بے حدمایوسی ہوئی۔اب شوگن کیاہوتاہے؟یہ ہزارکتابوں کاموضوع ہے۔اس نام سے عالمی شہرت یافتہ ناول بھی موجود ہے۔مگراس وقت میں اس کا ترجمہ ”سورما“کرکے آگے بڑھتاہوں۔آپ صلیبی عہدکے نائٹ سمجھ لیجئے۔اس واقعے نے جاپانی کاریگروں کوتحریک دی کہ کیسے شکستہ ظروف کی دراڑوں کو خوبصورتی کاپہلو مدنظررکھتے ہوئے پر کرکے انہیں دوبارہ قابل استعمال بنایاجائے۔پانچ صدیوں کے ارتقاء کے بعدآج ہم اس فن کوبام عروج پردیکھتے ہیں۔ایک سے
ایک جدیدورکشاپ ہے جوٹوٹے ظروف کوطلائی جوڑلگاتی ہے۔اب تو اگرشکستہ جام وصراحی کاکوئی گمشدہ ٹکڑابھی ہوتوجدیدتکنیک کی مددسے اسے بنالیاجاتاہے۔کلی،لاک،لاکاسے سے یہ عموماًٹکڑے بنتے ہیں۔اہل پنجاب نے کسی زمانے میں گلی محلے میں یہ آوازضرورسنی ہوگی۔
”پانڈے کلی کرالو“
جن لوگوں نے یہ آوازکوچہ وبازارمیں نہیں سنی انہوں نے سریلے غزل گائیک مہدی حسن کااس موضوع پرمشہورزمانہ گیت ضرورسن رکھاہوگا۔میرامقصدٹوٹے برتنوں کوقیمتی دھاتوں سے جوڑنے کا طریقہ بیان کرکے آپ کو بورکرنانہیں ہے۔غم،بیماری،کرب،حادثے اوردیگراندوہناک واقعات کے بعدتعمیرنو کاحوصلہ اورخودکونقصانات کے بعدبکھرنے سے بچانے کایہ استعارہ ہے۔مغربی جرائدنے کرونانے بچھڑنے والوں کے کرب سے سمجھوتہ کرکے آگے بڑھنے کی ہمت کے باب میں باربار”کھن سگی“کی مثال دی ہے۔ذہنی امراض کا شکارافراد بھی جب بحالی کاسفرشروع کرتے ہیں تواہل مغرب انہیں اسی سنہری جوڑکو علامت بناتے ہیں۔یہ استعارہ انسانی زندگی،رشتوں اور دنیا کی بے ثباتی کے باوجودآگے بڑھنے کا ہے،یہ فقط ایک لطیف فن نہیں جوشِ نموکے حوصلے کی تلمیح ہے۔ٹوٹے ہوئے رشتوں میں خوبصورتی تلاش کرنے کی ہمت وحوصلے کی علامت ہے۔