شہباز شریف پی ڈی ایم میں اختلافات دور کرنے کیلئے متحرک

اسلام آباد: مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اتحاد کو بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور آج اس ضمن میں عشائیہ بھی دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم کے عشیائیہ میں مرکزی جماعتوں کو ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور تحریک کی ناکامی کا ذمہ دار ٹھہرانے کا بھرپور موقع ملے گا جو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماؤں کے ساتھ پس منظر میں ہونے والی گفتگو سے معلوم چلتا ہے کہ اتحاد زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔

قرین قیاس ہے کہ اجلاس میں پیپلز پارٹی ایک ’پنچنگ بیگ‘ بن جائے گی اور اس کو سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا کیوں کہ اس نے پی ڈی ایم سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کی، حکومت کے خلاف لانگ مارچ کرنے اور اسمبلیوں سے استعفی دینے سے گریزاں رہی تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک ذرائع نے بتایا کہ ہم عشائیہ میں پیپلز پارٹی سے ملاقات کر رہے ہیں لیکن ہمارے زخم گہرے ہیں اور وہ اتنی جلدی نہیں بھر پائیں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو عشائیہ پر مدعو کیا گیا تھا اور وہ اتوار کی رات دبئی سے واپس آرہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اس عشائیہ میں شریک نہیں ہوں گے لیکن توقع ہے کہ وہ اپنی پارٹی کا ایک وفد تقریب میں بھیجیں گے۔

اگر بلاول بھٹو زرداری عشائیہ میں شریک نہیں ہوئے تو پی ڈی ایم اتحاد میں خلیج کو مزید تقویت ملے گی۔

پی ڈی ایم کی ستمبر 2020 میں تشکیل ہوئی اور ملک کے بڑے شہروں میں بڑی ریلیاں نکالی تھیں۔

پی ڈی ایم نے رواں سال جنوری یا فروری میں اسلام آباد مارچ کرنے کا ارادہ کیا تھا لیکن پیپلز پارٹی کے ’ناقص ردعمل‘ کی وجہ سے مارچ کا فیصلہ تعطل کا شکار ہوگیا۔

پی ڈی ایم کی دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ماننا ہے کہ پی پی پی نے پی ڈی ایم کے بنیادی مقصد سے انحراف کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کو نقصان پہنچایا کیونکہ وہ حکومت کے خلاف ‘جارحانہ‘ اقدامات اٹھانے سے گریزاں تھی۔

مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری یقینی طور پر عشائیہ میں شرکت کریں گے کیوںکہ وہ حکومت کو غیر معمولی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اور پنجاب کی سیاست میں زندہ رہنے کے لیے کھڑے ہونا چاہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حالیہ ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی نے دیکھا لیا کہ وہ صوبے میں کہاں کھڑی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما نے کہا کہ ان کی پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کو پنجاب کے عوامی جلسوں میں اسٹیج فراہم کرکے بڑے دل کا مظاہرہ کیا جس پر مسلم لیگ (ن) کے متعدد رہنما اور کارکن ناراض تھے۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین اختلافات اس وقت سامنے آئے جب سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پیپلز پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کا انتخاب جیت گئے۔

مسلم لیگ (ن) نے پیپلز پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے قانون سازوں کے ووٹ حاصل کررہے ہیں جو حکمران تحریک انصاف کی اتحادی ہے۔

عشائیہ کے موقع پر سندھ اور خیبر پختونخوا میں سینیٹ کے انتخابات کے لیے ’تحریک انصاف کے ساتھ کچھ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد‘ کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اگر ہم نے (پی ڈی ایم) ملک کو اس ناکارہ حکومت سے نجات دلانے کے لیے ہاتھ ملایا ہے تو پھر اپوزیشن جماعتوں نے تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی ایڈجسٹمنٹ کیوں کی؟ آج کے اجلاس میں یہ معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔

مسلم لیگ (ن) کے ایک رہنما نے بتایا کہ شہباز شریف پی ڈی ایم کے آئندہ لائحہ عمل کو پارٹیوں کے سامنے پیش کریں گے جس میں پارلیمنٹ میں آنے والے وفاقی بجٹ کی منظوری کی مزاحمت سے متعلق حکمت عملی بھی شامل ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے ایک ذرائع نے بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری کے پاس منطقی وجوہات تھیں کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے بعض فیصلوں پر اتفاق کیوں نہیں کیا تھا اور اگر وہ عشائیہ میں شریک ہوئی تو وہ پی ڈی ایم میں موجود تمام جماعتوں کے ہر سوال کا جواب ضرور دیتی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے اسمبلیوں سے استعفیٰ دینے کے فیصلے کی مخالفت کی کیونکہ پارٹی سسٹم میں رہتے ہوئے حکومت سے لڑنا چاہتی ہے ورنہ تحریک انصاف کو اپنی مرضی کے مطابق کام کرنے کا کھلا میدان مل جاتا۔