شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر وزیر داخلہ شیخ رشید کی پریس کانفرنس: ’شہباز شریف اپنے بھائی کے ضمانتی تھے مگر انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا‘

وفاقی وزارت داخلہ نے پیر کے روز قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل وفاقی کابینہ نے میاں شہباز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔

پیر کی صبح میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ شہباز شریف سابق وزیر اعظم نواز شریف کو بیرون ملک سے پاکستان واپس لانے کے کیس میں ضمانتی تھے لیکن انھوں نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اب نیب کی سفارشات کی بنیاد پر حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں شامل کر دیا ہے۔

انھوں نے استفسار کیا کہ ایسے حالات میں شہباز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت کیسے دی جا سکتی ہے جبکہ اُن کے خلاف سات ارب روپے کے آمدن سے زیادہ اثاثوں کا کیس چل رہا ہے اور اس مقدمے میں شریک دیگر نو ملزمان کو پہلے ہی ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس سے کچھ دیر قبل ہی وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کے ذریعے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے حوالے سے دی گئی منظوری کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

گذشتہ ہفتے عید کے ایک روز قبل وفاقی وزیر داخلہ نے آگاہ کیا تھا کہ وفاقی کابینہ نے سرکولیشن سمری کے ذریعے شہباز شریف کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کی منطوری دے دی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کی طرف سے عید کی چھٹیوں کے دوران مختلف وزارتوں کے دفاتر کھلوا کر اس فیصلے پر ہنگامی بنیادوں پر عملدرآمد کروانے پر وفاقی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

وفاقی حکومت اس معاملے پر لاہور ہائی کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد حرکت میں آئی تھی جس میں عدالت نے شہباز شریف کو ریلیف فراہم کیا تھا۔

پیر کے روز شیخ رشید احمد نے پریس کانفرنس کے دوران لاہور ہائی کورٹ کا نام لیے بغیر کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں پر ایک ہی دن میں باہر جانے کے لیے درخواست دائر ہوئی اور اس درخواست پر اعتراض لگنے کے باوجود اُس کی سماعت کی گئی اور پھر اسی دن شہباز شریف کو باہر جانے کی اجازت بھی دے دی گئی۔

انھوں نے کہا کہ ’کامن سینس کی بات ہے نواز شریف واپس نہیں آئے تو شہباز نے کہاں سے آنا تھا۔‘ شیخ رشید نے کہا کہ ’سات ارب کا کیس ہے اگر شہباز شریف چلے جاتے ہیں تو انھیں ان کے بھائی (نواز شریف) کی طرح واپس لانا بہت مشکل ہو گا۔ (باہر رہتے ہوئے) وہ گواہوں پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور شواہد کو ٹیمپر کر سکتے ہیں۔ وہ سحری کھانے سے پہلے ہی بھاگنا چاہ رہے تھے، ان کی ٹکٹ بک ہو چکی تھی۔ آئین کہتا ہے کہ کسی کیس کے تمام ملزمان سے یکساں سلوک کرنا چاہیے۔‘

شیخ رشید نے کہا کہ دنیا میں پاکستانی سیاستدان واحد سیاستدان ہیں جو اپوزیشن کا سارا وقت لندن میں گزارنا چاہتے ہیں مگر اقتدار کے مزے لوٹنے کے لیے پاکستان آنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا شہباز شریف وفاقی حکومت کے تازہ فیصلے کے خلاف پندرہ روز میں اپیل دائر کر سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف کے خلاف دائر ریفرنس میں نامزد 14 ملزمان میں سے پانچ ملزمان وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں اور اگر قائد حزب اختلاف بیرون ملک چلے جاتے تو وہ ان پانچ افراد پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے جو ان کے خلاف گواہی دینے پر تیار ہیں۔

نواز شریف، شہباز شریف

جب وزیر داخلہ سے سوال ہوا کہ کیا میاں شہباز شریف کو ایک ہی دن میں ریلیف ملنا کسی ڈیل کا نتیجہ ہے تو شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ ’اُن کی ڈیل کے بارے میں تو علم نہیں ہے تاہم میاں نواز شریف کے ایک ترجمان محمد زبیر کے مطابق ان کے اور کچھ اداروں کے درمیان غلط فہمیاں دور ہو گئی ہیں۔‘

جب وفاقی وزیر داخلہ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو وطن واپس لانے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے مایوس کُن انداز میں جواب دیا کہ ’حکومت کی کوشش تھی کہ برطانوی حکومت سابق وزیر اعظم کو ملک بدر کرے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا اور پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنر نے مشورہ دیا کہ حکومت میاں نواز شریف کو وطن واپس لانے کے لیے ایکٹسرا ڈیشن والا راستہ اختیار کرے۔‘

واضح رہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلوں کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت نےمیاں نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا 7 مئی کا فیصلہ کلعدم قرار دیا جائے۔

جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرنے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کے بارے میں درخواست دائر کر دی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ان کی وکلا کی ٹیم نے درخواست تیار کر لی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس بھی آج پارلیمنٹ ہاوس میں ہور ہا ہے جس میں میاں شہباز شریف کی شرکت متوقع ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما محسن شاہنواز کے مطابق ان کی جماعت کے ارکان میاں شہباز شریف کو بیرون ملک جانے سے روکنے کا معاملہ ایوان میں اٹھائیں گے اور احتجاج کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کو آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپنی شرکت کو یقینی بنانے کا کہا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب احتلاف میاں شہباز شریف کے خلاف اثانہ جات ریفرنس میں ضمانت منظور کر لی تھی۔ یہ ریفرنس موجودہ حکومت نے دائر کیا تھا اور حکومت کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس شہباز شریف اور ان کے اہلخانہ کے خلاف ناقابل تردید شواہد موجود ہیں تاہم عدالت نے اس ضمن میں پیش کیے گیے شواہد کو تسلم نہ کرتے ہوئے ضمانت کی درخواست منظور کر لی۔

error: