شہباز شریف کی تقریبِ حلف برداری میں آرمی چیف کی غیر موجودگی ’نیوٹرل‘ ہونے کا اشارہ یا وجہ کچھ اور؟

ہفتوں کی بے یقینی اور سیاسی ہلچل کے بعد آج نئے وزیرِ اعظم نے اپنا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی حلف برداری کی تقریب تو ایوانِ صدر میں ہوئی تاہم اس تقریب میں خود صدر مملکت عارف علوی موجود نہیں تھے۔

تقریب شروع ہونے سے کچھ دیر قبل ہی ایوانِ صدر سے یہ بیان جاری ہوا تھا کہ صدر عارف علوی کی طبیعت ناساز ہے اور ان کے معالج نے انھیں کچھ دن آرام کا مشورہ دیا ہے۔ اس لیے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے شہباز شریف سے حلف لیا۔

تاہم تقریب ایک اور شخصیت کی غیر موجودگی کے باعث کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی تقریب میں شرکت نہیں کر سکے۔

بعض اطلاعات کے مطابق وہ کی طبیعت ناسازی کے باعث تقریب میں شریک نہیں ہو پائے اور فوجی ترجمان نے اس بارے میں تردید یا تصدیق نہیں کی۔

تقریب کے آغاز سے ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ اراکین اسمبلی، سینیٹرز، سفارتکاروں اور میڈیا کے نمائندوں کے لیے نشستیں مخصوص کی گئی تھیں، جبکہ اراکین کی فیملیز اور دوست احباب کے لیے بھی کرسیاں لگائی گئی تھیں۔

مسلم لیگ ن کے تقریباً سبھی ممبران اسمبلی تقریب میں موجود تھے۔ جب مریم نواز کی تقریب میں آمد ہوئی تو وہ مختلف نشستوں پر جا کر سب سے ملیں۔

اسی طرح مولانا فضل الرحمان آئے تو ان سے ملاقات کے لیے مریم نواز ان کی نشست پر گئیں۔ تقریب میں پیپلز پارٹی سے بلاول بھٹو زرداری، یوسف رضا گیلانی، نوید قمر، شیری رحمان، راجہ پرویز اشرف سمیت چند دیگر اراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی جبکہ آصف علی زرداری موجود نہیں تھے۔

شہباز

تقریب میں پہلی صف پر لگی نشستوں پر بالترتیب عسکری قیادت، ان کے ساتھ کیپٹن (ر) صفدر، مریم نواز، حمزہ شہباز شریف اور ان کی اہلیہ، بلاول بھٹو زرداری، مولانا فضل الرحمان اور یوسف رضا گیلانی، ایاز صادق اور راجہ پرویز اشرف براجمان تھے۔

تقریب میں آنے والے آخری مہمانوں میں فضائی اور بحری افواج کے سربراہان شامل تھے تاہم آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے جسے وہاں موجود سبھی مہمانوں نے نوٹس کیا۔

آرمی چیف کی نمائندگی آئی جی آرمز لیفٹیننٹ جنرل سلمان فیاض غنی نے کی، فضائی اور بحری فوج کے سربراہان کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بھی حلف برداری کی تقریب میں شامل ہوئے۔

وزیراعظم شہباز شریف سیاہ رنگ کی شیروانی میں ملبوس تھے اور ان کے چہرے پر سنجیدگی عیاں تھی۔ حلف برداری کی تقریب کے مناظر بھی گذشتہ برس سے مختلف تھے۔

عمران خان نے جب حلف لیا تھا تو انھیں اردو پڑھنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم وزیرِاعظم شہباز شریف نے صرف ایک موقع پر غلطی کی جب وہ دستور اور قانون کی پاسداری میں صرف دستور کا لفظ دہراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔

اس موقع پر چیئرمین سینیٹ نے انھیں روکا اور ان کی اصلاح کی۔

شہباز
،تصویر کا کیپشنوزیراعظم شہباز شریف سیاہ رنگ کی شیروانی میں ملبوس تھے اور ان کے چہرے پر سنجیدگی عیاں تھی

گذشتہ برس کی تقریب میں عمران خان واضح طور پر خوش نظر آرہے تھے اور اس تقریب کی بہت سی ہائیلائیٹس میں سے ایک آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق انڈین کرکٹرز نوجت سنگھ سندھو کی ملاقات تھی جب انھوں نے آرمی چیف کو گلے لگایا تھا۔

تینوں فوجی سربراہان نے اگلی نشستوں پر موجود اراکین اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کی تھیں اور پوری تقریب میں ماحول خوشگوار تھا۔ مگر آج شہباز شریف نہایت سنجیدہ نظر آئے اور مجموعی طور پر تقریب میں ماحول سنجیدہ ہی رہا۔

حلف ختم ہونے کے بعد ہال میں بیٹھے مسلم لیگ ن کے حمایتیوں نے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ تقریب میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ہی جماعتوں کے نعرے سنائی دیے۔

تقریب ختم ہونے کے بعد سیاستدان، میڈیا کے نمائندے اور دیگر مہمان مریم نواز، یوسف رضا گیلانی، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر حکومتی اراکین سے ملتے اور ان کے ساتھ تصاویز بنواتے رہے۔

اس وقت کئی اراکین یہ شکوہ کرتے نظر آئے کہ صدر عارف علوی کو حلف برداری کے لیے آنا چاہیے تھا۔

تقریب کے بعد ہم نے مریم نواز سے پوچھا کہ آرمی چیف کے شرکت نہ کرنے کی وجہ کیا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ انھیں علم نہیں تھا کہ آرمی چیف نہیں آئیں گے اور یہ کہ وہ نہیں جانتیں کے ان کے نہ آنے کی وجہ کیا ہے۔

مریم اورنگزیب نے بھی آرمی چیف کی غیرموجودگی کی وجہ سے متعلق لاعلمی کا اظہار کیا۔

اسی بارے میں جب احسن اقبال سے پوچھا گیا تو انھوں نے بھی لاعلمی کا اظہار کیا اورکہا کہ تقریب سے کچھ لمحے قبل ہی یہ پتا چلا۔

تاہم انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ فوجی قیادت کچھ عرصے سے مختلف تقریبات، خاص طور پر سیاسی نوعیت کی، سے دور رہنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ ان کا سیاست میں کوئی کردار نہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ سابقہ حکومت نے فوجی قیادت اور فوج کے خلاف جس قسم کی مہم چلائی ہے، عین ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے ہی یہ فیصلہ لیا گیا ہو کہ خود کو مکمل طور پر سیاسی ایونٹس سے الگ رکھا جائے۔

مریم

یہیں موجود ایک اور رکن اسمبلی نے کہا کہ عین ممکن ہے کہ آرمی چیف خود فوج میں یہ تاثر زائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فوجی قیادت کا عمران خان اور پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنے میں کوئی کردار ہے یا ان کے سابق وزیراعظم سے اختلافات تھے جو ان کی حکومت کی رخصتی کا باعث بنے۔

تاہم بعض افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ فوجی سربراہ نے ’شہباز شریف کو یہ باور کرایا ہے کہ وہ اب بھی نیوٹرل ہی ہیں۔‘

تقریب کے بعد مہمانوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا، اور کچھ دیر بعد شہباز شریف بھی ہال میں آ گئے۔ ان کے گرد سکیورٹی اہلکار گھیرا ڈالے کھڑے رہے۔

اس موقع پر ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کے لیے مسلم لیگ ن کے کارکنوں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔

سکیورٹی سٹاف کی کافی کوششوں کے بعد آخرکار کارکنوں نے ایک قطار بنا کر وزیراعظم سے ملنا شروع کیا اور ان کے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری بھی ہال میں آئے تاہم مولانا فضل الرحمان موجود نہیں تھے۔