شہباز شریف کی عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت

وزیر اعظم شہباز شریف نے سابق وزیر اعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے وزیر اعظم کو عمران خان کی سیکیورٹی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو سابق وزیر اعظم کو ہر حوالے سے بہترین سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے عمران خان کو فوری طور پر چیف سیکیورٹی افسر فراہم کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

وزیر اعظم نے تمام صوبائی حکومتوں کو بھی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو جلسے، جلوسوں کے دوران سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزارت داخلہ کے ترجمان نے بیان میں تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں عمران خان کو فول پروف سیکیورٹی کے انتظامات کو یقینی بنایا جارہا ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو سابق وزیر اعظم کے لیے مقرر سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی پر مکمل عملدرآمد کے لیے کہا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے بنی گالہ ہاؤس کی سیکیورٹی کے لیے پولیس اور ایف سی کے 94 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جس میں اسلام آباد پولیس کے 22 اور ایف سی کے 72 اہلکار شامل ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ایس ایم ایس سیکیورٹی کمپنی کے 26 اور عسکری سیکیورٹی کمپنی کے 9 اہلکار بھی بنی گالہ ہاؤس کی سیکیورٹی پر مامور ہیں۔

اس کے علاوہ خیبر پختونخوا پولیس کی طرف سے 36، گلگت بلتستان پولیس کے 6 اہلکاروں کو بھی ان کی متعلقہ حکومتوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے دارالحکومت اسلام آباد سے باہر سفر کے دوران اسلام آباد پولیس کی 4 گاڑیاں اور 23 اہلکار، جبکہ رینجرر کی ایک گاڑی اور 5 اہلکار ان کے ساتھ ہمہ وقت موجود ہوتے ہیں۔

ترجمان کے مطابق وزارت داخلہ کے زیر نگرانی 'تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی' سابق وزیر اعظم کی سیکیورٹی سے متعلق معاملات کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔

وزارت داخلہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان سے کہا گیا ہے کہ اگر ان کے پاس کوئی مخصوص اطلاع ہے تو وہ اسے وزارت داخلہ سے ضرور شیئر کریں تاکہ ان کے لیے سیکیورٹی کے مزید انتظامات کیے جاسکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ بطور سابق وزیر اعظم ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی جان کو لاحق ممکنہ خطرات، سازش اور دیگر معاملات سے وزارت داخلہ اور متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں۔ وزارت داخلہ، سابق وزیر اعظم عمران خان سے حاصل شدہ معلومات اور شواہد کی روشنی میں مزید اقدامات کرے گی۔

عمران نیازی امریکی سازش کی طرح، اپنی جان کو خطرے کا بیانیہ بنا رہے ہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نیازی امریکی سازش کی طرح اب مسلسل اپنی جان کو خطرے کا بیانیہ بنا رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کے پاس ممکنہ خطرے سے متعلق اگر کوئی ٹھوس ثبوت ہے تو اسے وزارت داخلہ سے فی الفور شئیر کریں، حکومت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کروانے کے لیے تیار ہے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ اگر عمران نیازی چاہیں تو اس معاملے پر ایک جوڈیشل کمیشن بھی قائم کر سکتے ہیں اور جوڈیشل کمیشن، عمران نیازی کے فراہم کردہ شواہد اور معلومات کا جائزہ لے کر آزادانہ فیصلہ دے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عمران نیازی اپنی جان کے خطرے سے متعلق معلومات فراہم نہیں کرتے تو امریکی سازش کی طرح اس بیانیے کو بھی ایک سیاسی بیان ہی تصور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک سابق وزیر اعظم کا اپنی جان کے خطرے کو سیاسی بیان کے طور پر پیش کرنا انتہائی افسوسناک اور خطرے کا باعث ہوسکتا ہے۔

انہوں نے مشورہ دیا کہ عمران نیازی اپنی سیکیورٹی کو سیاسی پروپیگنڈے کے طور پر پیش نہ کریں، شواہد ہیں تو ہم سے شئیر کریں۔

مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی، عمران خان

واضح رہے کہ 30 مارچ کو سب سے پہلے پی ٹی آئی رہنما فیصل واڈا نے حکومت کے خاتمے سے قبل ’اے آر وائی‘ کے پروگرام 'آف دی ریکارڈ' میں دعویٰ کیا تھا کہ سابق عمران خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے اور سابق وزیر اعظم کو ملک بیچنے سے انکار پر سازش کرکے قتل کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

اس کے اگلے دن سابق وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے انکشاف کیا تھا کہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے کا منصوبہ سامنے آیا ہے۔

ٹوئٹر پیغام میں انہوں نے کہا تھا کہ ’ان رپورٹس کے بعد حکومتی فیصلے کے مطابق وزیر اعظم کی سیکیورٹی میں اضافہ کردیا گیا ہے‘۔

بعد ازاں 20 اپریل کو لاہور کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عطیاب سلطان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو تجویز دی تھی کہ لاہور جلسے میں ‘سیکیورٹی خدشات’ ہیں اس لیے سابق وزیر اعظم عمران خان ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کریں۔

تاہم عمران خان نے ریلی میں شرکت کی تھی اور پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات حسان خاور نے ڈان نیوز کو بتایا تھا کہ حکومت کے اس طرح کے حربوں سے پارٹی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاسکتی۔

انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کی مہم سے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔

بعدازاں پی ٹی آئی کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سیالکوٹ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خلاف قتل کی سازش تیار ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے ویڈیو ریکارڈ کروالی ہے جس میں تمام کرداروں کے نام لیے ہیں۔

انہوں نے کہا تھا کہ میرے خلاف بند کمروں کے اندر ملک سے باہر اور ملک کے اندر ایک سازش ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کی جان لے لی جائے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سازش کا مجھے پہلے سے پتا تھا اور چند دن پہلے مجھے پورا علم ہوچکا ہے، میں نے ایک ویڈیو ریکارڈ کروائی ہے، ویڈیو محفوظ جگہ پر رکھ دی ہے۔

سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر مجھے کچھ ہوگیا تو یہ ویڈیو سامنے لائی جائے گی اور اس ویڈیو میں پچھلی گرمیوں سے میرے خلاف جو سازش ہوئی اور جو اس سازش میں ملوث ہیں، اس میں ایک، ایک کا نام لیا ہے۔

انہوں نے گزشتہ روز دوبارہ کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور اگر مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام مجھے انصاف دلائیں، مجھے کچھ ہوا تو لوگوں وڈیو دیکھ کر مجھے انصاف دلانا، جن جن کے نام وڈیو میں ہیں ان کو کٹہرے میں لانا۔

فیصل آباد میں بھی ریلی سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے وڈیو ریکارڈ کروائی ہے کیونکہ میں پاکستان کی تاریخ جانتا ہوں، یہ ہمارے نظام انصاف کا بتاتی ہے کہ نظام طاقتور مجرمان کو نہیں پکڑ سکتا، جبکہ مجھے کچھ ہوا تو پاکستان کے عوام مجھے انصاف دلائیں۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم ایسا کرو گے؟ تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا پڑے گا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو جن لوگوں کے نام میں نے ویڈیو میں بتائے ہیں تمہیں ان لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ پہلی بار 'طاقتور' لوگ قانون کا سامنا کریں۔

error: