شہروز کاشف: 19 سالہ شہروز کاشف کے ٹو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے

پاکستانی کوہ پیما شہروز کاشف آج 19 سال کی عمر میں دنیا کی دوسری بلند اور مشکل ترین چوٹی کے ٹو (8611 میٹر) پر پہنچ کر اس چوٹی کو سر کرنے والے دنیا کے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے ہیں۔

شہروز کاشف نے دو ماہ قبل دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے سب سے کم عمر پاکستانی ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

شہروز کاشف کے والد کاشف سلمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ شہروز نے آج منگل کی صبح 8 بج کر 10 منٹ پر کے ٹو کو سمٹ (چوٹی کو سر) کر لیا تھا۔

یاد رہے اس سے قبل کے ٹو کو سر کرنے والے سب سے کم عمر کوہ پیما ہونے کا اعزاز محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ کے پاس تھا جنھوں نے 2019 میں 20 سال کی عمر میں کے ٹو کو سر کیا تھا۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے شہروز، کے ٹو اور ماؤنٹ ایورسٹ کے علاوہ براڈ پیک بھی سر کر چکے ہیں یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ انھیں ’براڈ بوائے‘ کے نام سے جاتے ہیں۔

شہروز نے ماؤنٹ ایورسٹ (8848 میٹر)، براڈ پیک (8047 میٹر) کے علاوہ مکڑا پیک (3885 میٹر)، موسی کا مصلہ (4080 میٹر) چمبرا پیک (4600 میٹر)، منگلک سر (6050 میٹر)، گوندوگرو لا پاس (5585 میٹر)، خوردوپن پاس (5800) اور کہسار کنج (6050 میٹر) کو بھی سر کر رکھا ہے۔

شہروز

سنہ 1953 میں ایک امریکی کوہ پیما نے اس خوبصورت پہاڑ کو ’سیویج ماؤنٹین‘ یعنی خونی پہاڑ کا نام دیا تھا۔ آٹھ ہزار میٹر سے بلند 14 چوٹیوں میں کے ٹو پر ہونے والی اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے جسے سر کرنے کی کوشش کرنے والے اوسطاً ہر چار میں سے ایک کوہ پیما کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

تقریباً دو ماہ قبل جب شہروز نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ایورسٹ کو سر کیا، تب ان کے والد کاشف سلمان نے مجھے بتایا تھا کہ 13 سال کی عمر میں جب شہروز نے شمشال میں 'منگلک سر' سر کرنے والے مہم جوؤں کے ساتھ جانے کی ضد کی تو انھوں نے انھیں 'بہت چھوٹا' سمجھ کر ساتھ لے جانے سے انکار کر دیا تھا۔

اور آج اسی شہروز نے کے ٹو کے ’خونی پہاڑ‘ کو محض 19 برس کی عمر میں سر کر لیا ہے۔

کاشف بتاتے ہیں کہ چونکہ شہروز کا جی پی ایس کافی رک رہا تھا تو ہم سمجھے کہ ابھی ذرا نیچے ہی ہے، اتنے میں تین یوکرینئن جو اوپر پہنچے انھوں نے لائیو سٹریم شروع کر دی، دیکھا تو پیچھے شہروز بھی کھڑا ’ہائے‘ کر رہا تھا۔

’پھر ہم نے بیس کیمپ سے پوچھا تو ہمیں بتایا گیا کہ شہروز بھی اسی ٹیم کے ساتھ گیا ہے اور اس نے سمٹ کر لیا ہے۔ بعد میں ہمارا گارمین پر رابطہ ہو رہا ہے۔‘

شہروز کی امی کہتی ہیں ’تم دیکھ لینا میرا بیٹا سب سے آگے ہو گا‘ اور ویسا ہی ہوا

شہروز
،تصویر کا کیپشنشہروز کے والد چاہتے ہیں کہ وہ اپنا خواب پورا کرے کیونکہ ’ایکسپلور کرنے، مختلف کمیونٹیز میں گھلنے ملنے اور دنیا بھر کے کوہ پیماؤں سے مل کر انسان ایسا بہت کر سیکھتا ہے۔۔۔ جو شاید کتابوں میں نہیں ملتا‘

چونکہ شہروز 14 جولائی کو بیس کیمپ پہنچے تھے اور 13 دنوں کے اندر اندر انھوں نے کے ٹو کو سر بھی کر لیا ہے، تو کیا وہ پوری طرح ایکلیمٹائزڈ تھے؟ (سطح سمندر سے بُلندی پر آکسیجن کی کمی کے ساتھ انسانی جسم کے موافقت اختیار کرنے کے عمل کو ایکلیمٹائزیشن کہتے ہیں)۔

اس حوالے سے کاشف بتاتے ہیں کہ شہروز نے پہلی روٹیشن تو پوری کی لیکن دوسری میں وہ تیسرے کیمپ پر جا کر رک گیا تھا اور اس وقت تک وہ کافی حد تک ایکلیمٹائزڈ ہو چکا تھا۔

شہروز کی صحت کے حوالے سے وہ بتاتے ہیں کہ ’جو تصاویر اور رفتار نظر آ رہی ہے اس سب کے حساب سے تو وہ ٹھیک حالت میں لگ رہا ہے اور وہ باقیوں سے تیز رفتار بھی ہے۔۔ ابھی مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ کیمپ فور تک پہنچ چکا ہے جبکہ باقی کوہ پیما پیچھے ہیں اور شہروز ان کا انتظار کر رہا ہے۔‘

کاشف بتاتے کہ کہ شہروز کی والدہ انھیں حوصلہ دیتی رہتی ہیں ’مجھے تو تھوڑی بہت گھبراہٹ ہوتی رہتی ہے لیکن شہروز کی امی کہتی ہیں ’تم دیکھ لینا میرا بیٹا سب سے آگے ہو گا۔۔ ایورسٹ پہ بھی وہ سب سے پہلے پہنچنے والوں میں شامل تھا اور آج بھی ایسے ہی ہوا۔‘

جس ایک پورٹر کو شہروز ساتھ لے کر گیا وہ بھی بیمار پڑ گئے

شہروز
،تصویر کا کیپشنتعلیم کے متعلق کاشف بتاتے ہیں کہ 'شہروز آئی سی ایس کے پیپر دے کر پہلے 14 چوٹیاں سر کرنے کا مشن پورا کتنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد اس نے وعدہ کیا ہے کہ گریجویشن کروں گا۔'

کاشف نے بتایا کہ کے ٹو سر کرنے والے کوہ پیما کم از کم مہینہ مہینہ پہلے جا کر کے ٹو کے بیس کیمپ پر بیٹھتے ہیں لیکن شہروز 14 جولائی کو بیس کیمپ پہنچا ہے اور آج صبح اس نے چوٹی کو سر بھی کر لیا ہے۔

’کیونکہ شہروز نے بالکل آخری وقت پر پروگرام بنایا تھا لہذ اسے کوئی پورٹر نہیں ملا، ایک پورٹر ملے جنھوں نے چھ سال سے کوئی کلائمب نہیں کی تھی، لیکن شہروز کو اتنا جنون تھا کہ وہ انھیں ساتھ لے لیا مگر وہ پورٹر بھی بیمار پڑ گئے اور شہروز کو چھوڑ آئے۔‘

کاشف سلمان نے بتایا کہ چونکہ اس بیچارے کے پاس کوئی پورٹر نہیں تھا لہذا اس نے وہاں نیپالی پائینر ٹیم سے بات کی کہ ’آپ میری آکسیجن کی بوتلیں وغیرہ ڈمپ کروا دیں تو میں باقی سامان خود اٹھا لوں گا۔‘

کاشف کے مطابق باقی سامان تو شہروز نے خود اٹھایا لیکن نیپالی ٹیم نے اس کی کافی مدد کی اور شہروز نے اسی ٹیم کے ساتھ اور ان کی مدد سے ہی کلائمب کیا ہے۔

’میں ڈرتا ہی رہا مگر شہروز سُپر مین ہے‘

Kashif Salman

نیپال میں واقع اناپورنا کے بعد کے ٹو کو دنیا کی خطرناک ترین چوٹی سمجھا جاتا ہے۔ انا پورنا (شرح اموات 32 فیصد) کے مقابلے میں کے ٹو پر اموات کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا کی سب سے بلند چوٹی ایورسٹ پر یہی شرح چار فیصد ہے۔

کے ٹو اس قدر مشکل پہاڑ ہے کہ جہاں ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کرنے والوں کی تعداد چار ہزار سے بھی زیادہ ہے، وہیں کے ٹو کو سر کرنے والے افراد کی تعداد چار سو سے بھی کم ہے۔

میں نے کاشف سے پوچھا کہ جیسا کہ کے ٹو پر جانے والا ہر چار میں سے ایک کوہ پیما واپس نہیں لوٹ پاتا اور علی سد پارہ اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ ہونے والا حادثہ جس نے پاکستان میں کوہ پیمائی سے وابستہ افراد کے اہلِ خانہ کو کافی حد تک خوفزدہ کیا تھا، اس سب کے باوجود انھوں نے اپنے کم عمر بیٹے کو کے ٹو سر کرنے کی اجازت کیسے دی؟

وہ بتاتے ہیں کہ جب شہروز ایورسٹ سر کر کے آیا تو اس کے کچھ دن بعد ’ایک دن میں دفتر سے لوٹا تو دیکھا کہ وہ بیگ سے کچھ چیزیں نکال رہا ہے، میں نے اسے کہا یار میں نے تمہیں کہا تھا کہ ایورسٹ کی چیزیں دھوپ میں نکال کر رکھو تاکہ خراب نہ ہو جائیں تو آگے سے شہروز نے کہا ’نہیں میں تو پیک کر رہا ہوں۔‘

کاشف بتاتے ہیں ’میں نے اسے پوچھا تم کہاں جا رہے ہو تو اس نے کہا ’میں کے ٹو جا رہا ہوں‘ میں نے پوچھا وہاں کیا کرنے جا رہے ہو وہاں تو بیس کیمپ پر بہت رش ہے تو آگے سے شہروز نے جواب دیا ’میں کلائمب کر رہا ہوں۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ وہ یہ سن کر کافی حیران ہوئے کہ اس سب کے لیے تو تیاری کرنی پڑتی ہے لیکن شہروز نے دو سے تین دن میں سارا انتظام کر لیا اور کے ٹو کی جانب نکل گیا۔

’اسے جو پورٹر ملا اس نے اسے ہائر کر لیا، بے شک وہ بعد میں چلا ہی نہیں۔۔۔ میں ڈرتا ہی رہا کہ اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا لیکن شہروز ’سُپر مین ہے۔‘

’شاید میں نے اسے کے ٹو پر جانے کر اجازت اسی لیے دے دی کہ میرے پیسے نہیں لگ رہے تھے‘

Kashif Salman

کاشف سلمان موبائل گیم ڈویلپمنٹ کے کاروبار سے وابستہ ہیں اور شہروز کے علاوہ ان کے تین اور بیٹے ہیں۔

شہروز کے ایورسٹ سر کرنے کی مہم پر ایک کروڑ آٹھ لاکھ روپے لگے تھے اور یہ تمام رقم کاشف نے اپنی جیب سے ادا کی تھی، اس وقت انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ ’میں بہت تھک گیا ہو اور شاید اب شہروز کو مزید کوئی اور پِیک نہ کروا سکوں۔‘

تو اس مرتبہ شہروز کی کے ٹو مہم کو کس نے سپانسر کیا، کاشف کے مطابق اس مرتبہ یونیورسٹی آف لاہور اور انھی کی ایک آئی ٹی کمپنی ہے جس نے کچھ مدد کی ہے، اس کے علاوہ ایک اور گروپ نے کاشف کی مہم کو سپانسر کیا ہے۔

کاشف ہنستے ہوئے کہتے ہیں ’شاید میں نے اسے کے ٹو پر جانے کر اجازت بھی اسی لیے دے دی تھی کہ میرے پیسے نہیں لگ رہے تھے ’میں نے کہا اچھا چلے جاؤ۔‘

شہروز 23 سال کی عمر میں دنیا کی 14 بلند ترین چوٹیاں سر کرکے چھنگ داوا شرپا کا ریکارڈ توڑنا چاہتا ہے

Kashif Salman

شہروز نے اب تک دنیا کی بلند ترین 14 چوٹیوں میں سے تین کو سر کر لیا ہے، تو کے ٹو کے بعد کس چوٹی کو سر کرے کا ارادہ ہے؟

کاشف بتاتے ہیں کہ نیپال کے چھنگ داوا شرپا نے 30 سال کی عمر میں ساری چوٹیاں سر کی لی ہیں اس لیے شہروز چاہتا ہے کہ 23 سال کی عمر میں ساری چوٹیاں سر کر لے۔

’کے ٹو کے بعد شہروز مناسلو (8163) سر کرنا چاہتا ہے اور اگر کوئی بہتر سپانسر مل جائے تو شہروز کا ارادہ ساتھ ہی دولاگیری (8167 میٹر) کو بھی بھی سر کرنے کا ہے۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.