Site icon Dunya Pakistan

شہرِسخن

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے تعلیم و ثقافت یونیسکو کے نام سے جانا جاتا ہے۔امن اور تحفظ عامہ کے مقصد کے تحت قائم ہونے والے اس ادارے کا منشور ہے کہ ثقافتی ملاپ اور تعلیم و سائینس کے شعبے میں عالمی سطح پر تعاون سے بین الاقوامی امن و امان کا حصول ممکن ہے۔اقوام متحدہ کے اس ذیلی ادارہ کی جانب سے لاہور کوادب کا شہر قراردیا گیا ہے۔لاہور پاکستان کا پہلا شہر ہے جسے اس قسم کا اعزازیونیسکو سے ملا ہے۔شہرِلاہورصدیوں سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے۔اس پس منظر میں اسے عالمی ادارے کی جانب سے ادب کا شہر قرار دیا جانا،ایک مستحسن اقدام ہے۔اور اس شہر کے ایک تاریخی وصف کااعتراف بھی ہے۔ مغل بادشاہ جہانگیر کی چہیتی ملکہ نورجہان نے اپنے ایک فارسی شعر میں لاہور کواپنی جان کے برابرقیمت اداکرکے خرید کر بھی سستاخرید لینے کااعلان کیا ہے۔وہی ملکہ نورجہاں جو برصغیرپاک وہند کی واحدخاتون ہے جن کے نام کے سکےّ جاری ہوئے۔شہنشاہ جہانگیر نے جو اپنی زندگی کی محدودڈھائی ضرورتیں بتائیں ان میں سے ایک یہی شاعرہ ملکہ بیان کی گئی ہیں۔اپنی زندگی کی آخری دو دہائیاں لاہورمیں گزار کراسی شہر میں اپنے شوہر شہنشاہ کے قریب دفن ہیں۔یہ مقبرہ بھی ملکہ نے خود تعمیرکروایا تھا۔اس وضاحت کی طوالت کی وجہ یہ بھی ہے کہ باربارذہن نورجہان کا نام سن کرملکہ ترنم نورجہان کی طرف جاتا ہے۔میڈم نورجہاں نے گرچہ لاکھوں دلوں پر حکومت کی ہے اور لاہور کی آن بان شان ہیں،مگریہاں ملکہ نور جہان سے مرادمغل شہنشاہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔جن کا یہ شعران کے شاہدرہ میں واقع مزارپردرج ہے۔

برمزارِماغریباں نی چراغی نی گلی
نی پرِپروانہ سوزد نی صدایئ بلبلی

مغلیہ عہد سمیت ایک ہزار سال تک لاہوری ادب زیادہ ترفارسی زبان میں تخلیق کیا گیاہے۔بعض دوستوں کے لئے شایدیہ حیرت کاسبب ہوکہ راجہ رنجیت سنگھ اورتمام سکھ عہد میں تختِ لاہورکی سرکاری زبان فارسی تھی۔فارسی زبان اورشہر کے اسی ایک ہزارسال پر محیط باہمی تعلق پرگورنمنٹ کالج کی فارغ التحصیل ہماری ہم مکتب ساتھی سکالرڈاکٹر انجم طاہرہ نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے،فارسی زبان میں شائع ہونے والی ”لاہوردرشعرِفارسی“ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔فارسی اب لاہور میں چونکہ زیادہ مقبول نہیں رہی،اس لئے اس زبان میں تخلیق کیا گیا ادب بھی اب ویسا مقبول نہیں رہاجیساکبھی ہواکرتاتھا۔ مقامی زبانوں کی بات کریں توشاہ حسین سے چراغوں کا ایک سلسلہ علامہ اقبال اور فیض احمد فیض تک آتا ہے۔اگرچہ بلھے شاہ قصور اور وارث شاہ شیخوپورہ میں مدفون ہیں مگردونوں کا پیرخانہ لاہور میں ہی تھااوران کے مرشدعنائیت قادری اسی شہر میں دفن ہیں جن سے کسبِ فیض کیا۔سعادت حسن منٹواوراحمدندیم قاسمی سے لے کرانتظارحسین،اشفاق احمد،منوّ بھائی،منیرنیازی ایک طرف شعروسخن سے اس شہر کی فضامہکاتے رہے تو دوسری جانب استاد دامن اور حبیب جالب جیسے عوام دوست انقلابی قرطاس وقلم کو وقاربخشتے رہے۔ساغر صدیقی اورناصرکاظمی نے اک نئے رنگ اورآہنگ کو روشناس کرایاتو پطرس بخاری اور ن م راشد نے بھی دبستانِ لاہور کواپنے فن سے رونق بخشی۔اہلِ قلم کی ایک الگ نوعیت کی کہکشاں لاہورفلم انڈسٹری کے وجود میں آنے کے ساتھ ہی ادبی افق پر نمودار ہوئی۔احمد راہی،تنویر نقوی،مسرورکاظمی،احمد عقیل روبی کا نام فقط حوالے کے طور پرتحریرکررہاہوں۔ایک طرف شو بز سے وابستہ اہلِ سخن تودوسری طرف راہِ سلوک کے مسافرادیب اورشاعراس نگرسے گزرے ہیں۔اپنی تحریرسے خوشبوپیداکرنے والے اور اپنے حرفوں کی روشنی سے بھٹکے ہوؤں کوصراط مستقیم دکھانے والے واصف علی واصف ایک انوکھے اورلازوال رنگ ڈھنگ کے طرزتحریرکی بنیادرکھ گئے۔ لاہور کے ادبی منظرنامے کاایک تاریخی حصہ ادبی محافل رہی ہیں۔اس شہر کے اہل حرف کی بیٹھک گزشتہ ایک صدی سے عموماً چائے خانوں اورکافی ہاؤسزپرہواکرتی تھی۔شاعری اورنثرکے تازہ تخلیقی نمونے یہاں برپا ہونے والی تنقیدی نشستوں میں پیش کئے جاتے تھے۔اورصاحبِ کلام اکثرپیش کرنے کے بعدپچھتاتے تھے،چونکہ بقول شخصے اس شہر کے نقادبہت ظالم اور سنگ دل واقع ہوئے ہیں۔اس عہد رفتہ کی واحد یادگارپاک ٹی ہاؤس ہے۔یہ چائے خانہ لاہورکی ایک صدی کی ادبی تاریخ کا عینی شاہد ہے۔یہ بھی ٹھکانہ باقی نہ رہتااگرنوازشریف حکومت اس سلسلے میں خصوصی کاوش نہ کرتی اورمعاصرلکھاری مسلسل اس کی بحالی کا مطالبہ شدومدسے جاری نہ رکھتے۔میں چونکہ گورنمنٹ کالج کے نیوہاسٹل میں مقیم تھا،اس لئے زمانہ طالب علمی میں پاک ٹی ہاؤس اکثرپیدل چلا جاتا تھا۔منوّبھائی بھی کسی زمانے میں وہاں مستقل جاتے تھے۔ایک بار ان کے گھر ملنے گیاتوپوچھنے لگے کہ آج کل بھی ٹی ہاؤس جاتے ہو؟میں نے نفی میں جواب دیاکہ کبھی کبھار۔کہنے لگے کہ اچھاکرتے ہو،اسی لئے تمہاری صحت بہتر لگ رہی ہے۔شہرت بخاری،خالد احمد،محسن نقوی،اسلم کولسری،شہزاداحمد،مشکور حسین یاد،بانوآپاکتنے سارے ستاروں جیسے نام ہیں جوپاک ٹی ہاؤس کے نام کے ساتھ ہی ذہن میں چمک اٹھے ہیں۔یہ انہی رفتگان کافیض ہے کہ اقوام متحدہ جیسے معتبر ادارے نے داتاکی نگری کو”شہرِسخن“قراردے دیا ہے۔رنگوں،خوشبوؤں اورروشنی کایہ ادبی سلسلہ آج بھی بڑے پروقاراورمعیاری اندازمیں آگے بڑھ رہا ہے۔لاہور کی یہ خوش قسمتی ہے کہ پاکستان کے کونے کونے سے آئے ہوئے سینکڑوں اہلِ قلم اس ادبی فضاء کومعطرکرنے میں مصروف عمل ہیں۔خدا اس شہرِسخن اوراس کے سخنوروں کے ہمیشہ شادوآباد رکھے۔

Exit mobile version