’’شہر جاناں میں باصفا‘‘ لوگوں کی تلاش

اصل’’خبر‘‘ تو یہ ہے کہ میرے اور آپ جیسے سینکڑوںپاکستانیوں کی آمدنی میں رتی بھر اضافہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آرہی۔مارچ کا آغاز ہوتے ہی مگر ہمارے گھروں میں بجلی کے جو بل آئیں گے وہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 3روپے کا ناقابل برداشت اضافہ دکھائیں گے۔روزمرہّ استعمال کی ہر شے کے نرخوں میں ایسے اضافوں کے لئے میں کئی ماہ سے اس کالم کے ذر یعے آپ کے ذہنوں کو تیار کررہا ہوں۔مہنگائی کی بابت مچائی دہائی مگر سوشل میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کر پاتی۔لکھنے والے کو اس کے عوض Likesاور Shareنصیب نہیں ہوتے۔

رومن سلطانوں کی رعایا کو سرکس کے تماشوں سے بہلایا جاتاتھا۔ ان کے دلوں میں کھولتی’’شجاعت ودلیری‘‘ کی تسکین کے لئے غلاموں کو کئی دنوں تک بھوکے رکھے خونخوار درندوں سے مقابلے کے لئے بھی چھوڑ دیا جاتا تھا۔ سوشل میڈیا دور حاضر کا ویسا ہی ایک سرکس ہے۔اس پر رونق لگانے کے لئے ’’سنجیدہ اور ذمہ دار صحافت‘‘ کی علامت ہوئے کئی معتبر ساتھی بھی بے چین رہتے ہیں۔

ایسے معتبر اور عوام میں مقبول ساتھیوں کی ’’اصول پسندی‘‘ کی بدولت گزشتہ دو دنوں سے یہ طے کرنے کی کوشش ہوتی رہی کہ ایک خاتون صحافی کے ٹی وی شو میں ایک وفاقی وزیر کی بابت جس نوع کی گفتگو ہوئی وہ ’’ذمہ دارانہ صحافت‘‘ تھی یا نہیں۔مطلوبہ اندازِ صحافت کے اپنے تئیں نمائندہ ہوئے ’’سینئر‘‘ لوگوں نے بالآخر مذکورہ گفتگو کو اخلاقی معیار سے گراہوا بتایا۔ ان کی جانب سے آئی ’’مستند‘‘ رائے نے ٹویٹر پر انگریزی زبان کے حرف ’’جی‘‘ کے استعمال کے ذریعے جس مقبول ترین ٹرینڈ کو بھڑکایا اس کا ذکر کرتے ہوئے گلیوں سے اُٹھے مجھ پھکڑباز کو بھی گھن آتی ہے۔

دنیا کے کئی دیگر ممالک کی طرح ہمارے معاشرے کو بھی رعایا کے حقیقی مسائل سے قطعاََ بیگانہ ہوئی اشرافیہ نے سوشل میڈیا کے ذریعے اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم کردیا۔ ’’شہر جاناں میں باصفا‘‘ لوگوں کی بے قراری سے تلاش جا ری ہے۔ بہت لگن سے ہوئی تلاش مگر بالآخر پیغام یہ دیتی ہے کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ایسے عالم میں خود کو کاملاََ تنہا محسوس کرنے کے علاوہ کوئی چارہ ہی نہیں۔

وزیر اعظم صاحب نے کئی ماہ تک پھیلی جانچ پڑتال کے بعد اپنے وزراء کی بے پناہ اکثریت کو قابل ستائش شمار نہیں کیا۔میری دانست میں اس کے بعد یہ سوال قطعاََ فروعی ہے کہ مراد سعید صاحب ’’وزیر نمبر ون‘‘ کیوں اور کیسے قرار پائے ہیں۔اہم ترین سوال بلکہ یہ ہے کہ وزیر اعظم صاحب کو اپنے وزراء کی کارکردگی اس انداز میں جانچنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی جس کے ذریعے پرائمری اور ہائی سکول کے طالب علموں کی کارکردگی کو ماپا جاتا ہے۔فرض کیا وزیر اعظم کی معاونت کے لئے مذکورہ انداز اختیار کرنا لازمی بھی تھا تو اس کے ’’نتائج‘‘ برسرعام لانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔

عمران خان صاحب کرکٹ کے کپتان رہے ہیں۔اپنی ٹیم کے ہر کھلاڑی کی صلاحیت وکارکردگی کا کپتان کو بخوبی علم ہوتا ہے۔جو کھلاڑی اسے مطمئن نہ رکھ پائے اسے کوئی میچ شروع کرنے سے قبل ’’ڈراپ‘‘ کردیا جاتا ہے۔اپنی کابینہ کے ضمن میں بھی عمران خان صاحب ایسا ہی رویہ اختیار کرسکتے تھے۔انہوں نے مگر وزراء کی کارکردگی والے امتحان کے ’’نتائج‘‘ کو ایک بھرپور تقریب کے ذریعے عوام کے روبرو لانے کا فیصلہ کیا۔جس پیمانے کے ذریعے وزیر خزانہ وخارجہ کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا وہ ان دونوں اہم ترین وزارتوں کو ’’ناقص‘‘کارکردگی کی حامل قرار دیتا ہے۔شوکت ترین اور مخدوم شاہ محمود قریشی اس کے باوجود اپنے مناصب پر قائم ودائم ہیں۔’’ناقص‘‘ کارکردگی دکھانے کے باوجود اگر ان دونوں کو اپنے عہدوں پر برقرار ہی رکھنا ہے تو کارکردگی جانچنے کی مشق میں وقت کیوں ضائع کیا۔

اس سوال پر غور کرتے ہوئے ذہن میں فوری طورپر یہ خیال آتا ہے کہ شاید وزیر اعظم کو یہ توقع تھی کہ عوام کے روبرو اپنی کارکردگی عیاں ہوجانے کے بعد ’’معیار سے گرے‘‘وزراء شرمسار ہوکر ازخود مستعفی ہوجائیں گے۔ایسا مگر ہوا نہیں۔ضدی بچوں کی طرح شاہ محمود قریشی صاحب بلکہ تقاضہ کررہے ہیں کہ ان کا دیا ’’پرچہ‘‘ دوبارہ کسی اور ممتحن یا معیار کے ذریعے ’’چیک‘‘ کیا جائے۔ اپنی خواہش کے اظہار کے لئے انہوں نے وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کو ایک درخواست نما چٹھی لکھی اور اسے پبلک بھی کردیا۔

مخدوم شاہ محمود قریشی سیاست میں نوواردنہیں۔نام نہاد‘‘ خاندانی سیاست دانوں‘‘ کے اس گروہ کے نمائندہ ہیں جو برطانوی استعمار نے بہت مہار ت سے ہمارے سروں پر مسلط کئے تھے۔تحریک انصاف کے نائب صدر اور وفاقی کابینہ کے ’’سینئر‘‘ وزیر ہوتے ہوئے ان کا فرض تھا کہ اپنا احتجاج براہِ راست وزیر اعظم صاحب کے روبرو رکھتے۔ایسی جرأت مگر دکھانہیں پائے۔ارباب شہزاد صاحب کو چٹھی لکھنے کے بعد ’’اسی تنخواہ‘‘ پر کام جاری رکھا اور بلاول بھٹو زرداری کو کسی اور کی جانب سے لکھی ’’پرچی‘‘ کی بنیادپر تقاریر کرنے کا الزام دہراتے ہوئے تضحیک کا نشانہ بناناشروع ہوگئے۔

’’پرچی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے وہ شعوری یا لاشعوری طورپر مراد سعید صاحب سے متاثر نظر آئے۔قومی اسمبلی میں بلاول بھٹو زرداری کی بھد اڑانے کے لئے ’’پرچی‘ ‘ کا الزام سوات سے ابھرے جواں سال اور بلند آہنگ وزیر مواصلات ہی نے لگانا شروع کیا تھا۔ ان کی غضب ناک تقریر کا آغاز ہوتے ہی پیپلز پارٹی کے چیئرمین اپنے ساتھیوں سمیت ایوان سے احتجاجاََ باہر چلے جاتے ہیں۔کئی وزراء کواس کی بدولت یہ گماں لاحق ہونا شروع ہوا کہ ان کے ’’پیا‘‘ یعنی عمران خان صاحب کو بلاول بھٹو زرداری کی مراد سعید کے ہاتھوں ہوئی ’’بے عزتی‘‘ پسند ‘‘ آتی ہے۔ انہیں بھی اس عمل میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔وزراء کی اکثریت مگرمراد سعید جیسا اندازِ تکلم دریافت اور اختیار کرنے میں ناکام رہی۔

فواد چودھری اور حماد اظہر صاحب مخالفوں کی بھداڑانے کے مقابلے میں تاہم دل وجان سے حصہ لیتے نظر آئے۔ وزیر اطلاعات تو روزانہ کی بنیاد پر تحریک انصاف کے سیاسی مخالفین کو ’’بونا‘‘ اور ’’کرپٹ‘‘ ثابت کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔حماد اظہر صاحب مگر اپنے جلال کے اظہار کے لئے قومی اسمبلی ہی کو ترجیح دیتے رہے۔لاہورکے شریف خاندان سے میاں اظہر کے فرزند کے دیرینہ مراسم رہے ہیں۔ میرے شہر میں ایسے تعلق کی وجہ سے ’’آنکھ کی شرم‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی ناخوش گوار حالات میں بھی خاموشی کو ترجیح دی جاتی تھی۔’’نیا پاکستان‘‘ نے مگر لاہور کو بھی ’’نیا‘‘ بنادیا ہے۔حماد اظہر صاحب بے تابی سے شہباز شریف صاحب کی قومی اسمبلی میں آمد کے منتظر رہتے ہیں اور موقعہ ملتے ہی کسی دور میں ’’چاچا‘‘ تصور ہوتے بزرگ کو حقارت بھری آواز اور الفاظ سے رگیدنا شروع ہوجاتے ہیں۔’’کوئی بھی لحاظ ‘‘ نہ رکھنے والی یہ حکمت عملی بھی تاہم فوادچودھری اور حماد اظہر کے کام نہیں آئی ہے۔وزراء کی کارکردگی جانچنے والے ’’ممتحن‘‘ نے ان دونوں کو بھی ’’اچھے نمبر‘‘ نہیں دئیے۔

جس سیاست کامیں کئی دہائیوں سے مشاہدہ کرتا رہا ہوں وہاں سیاست دانوں کے حتمی ’’ممتحن‘‘ عوام ہی شمار ہوتے تھے۔اس تناظر میں ان حلقوں کے ووٹروں کی رائے بھی کلیدی ہے جہاں سے کوئی سیاستدان براہِ راست انتخاب کے ذریعے قومی یا صوبائی اسمبلی تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔عمران حکومت کے وزراء کے ’’حتمی ممتحن‘‘ مگر افسر شاہی سے نمودار ہوئے ایک مشیر تھے جنہوں نے شاید کبھی بلدیاتی انتخاب میں بھی حصہ نہیں لیا ہوگا۔شاہ محمود قریشی جیسے ’’خاندانی سیاست دانوں‘‘کو اگرواقعتا اپنے وقار کی فکر ہوتی تو ایسے ’’ممتحن‘‘کے تیار کردہ ’’پرچے‘‘ کے جوابات دینے سے انکار کردیتے۔ ان جیسے ’’مخدوموں‘‘ کا غضب مگر یوسف رضا گیلانی صاحب جیسے مقامی حریفوں کی بھد اُڑانے کے لئے ہی مختص رہتا ہے۔

بہرحال عمران حکومت کے وزراء کے امتحان کا ’’نتیجہ‘‘ آگیا ہے۔اس نتیجے نے ہمیں سوشل میڈیا پر دہکائے پھکڑپن میں الجھادیا اور ہم بھول گئے کہ مارچ کا آغاز ہوتے ہی ہمیں اپنی آمدنی میں رتی بھر اضافے کے بغیر بجلی کے بلوں میں تین روپے فی یونٹ کی اضافی رقم ادا کرنا ہوگی۔