شہزادہ اینڈریو کو ’جنسی استحصال‘ کے مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا، امریکی عدالت

امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ملکہ برطانیہ کے بیٹے 61 سالہ شہزادہ اینڈریو کو ورجینیا رابرٹ گفی نامی خاتون کی جانب سے دائر کردہ ’جنسی استحصال‘ کے مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق نیویارک کی مقامی عدالت کے جج نے 12 جنوری کو فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ اینڈریو کو مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

امریکی عدالت نے 46 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ خاتون ورجینیا رابرٹ گفی کے پرانے معاہدے کا شہزادہ اینڈریو کے خلاف دائر کردہ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔

اس سے قبل امریکی عدالت میں شہزادہ اینڈریو کے وکلا نے درخواست دی تھی کہ خاتون نے 2009 میں جیفری اپسٹن نامی شخص سے 5 لاکھ ڈالرز کے عوض معاہدہ کیا تھا کہ وہ کسی شخص کے خلاف کیس نہیں کریں گی، اس لیے وہ اب شہزادہ اینڈریو کے خلاف بھی مقدمہ نہیں کر سکتیں۔

شہزادہ اینڈریو کے وکلا نے عدالت سے ورجینیا رابرٹ گفی کے پرانے خفیہ معاہدے کو عام کرنے کی اپیل کرتے ہوئے موکل کے خلاف کیس خارج کرنے کی درخواست دی تھی۔

عدالتی حکم پر ورجینیا رابرٹ گفی کا معاہدہ رواں مہینے کے آغاز میں عام کیا گیا تھا، جس کے مطابق خاتون نے جیفری اپسٹن سے پانچ لاکھ ڈالر لے کر اس نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کسی کے خلاف کوئی مقدمہ دائر نہیں کریں گی۔

ورجینیا رابرٹ گفی نے اگست 2021 میں شہزادے پر مقدمہ کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی
ورجینیا رابرٹ گفی نے اگست 2021 میں شہزادے پر مقدمہ کیا تھا—فائل فوٹو: اے پی

تاہم اب کئی سال بعد خاتون نے شہزادہ ایںڈریو کے خلاف 1999 سے 2001 کے درمیان تین بار جنسی استحال کا مقدمہ دائر کیا تو برطانوی شہزادے نے عدالت میں درخواست دی تھی کہ خاتون پیسوں کے عوض کسی طرح کا مقدمہ نہ کرنے کا معاہدہ کر چکی تھیں۔

عدالت نے مذکورہ معاہدہ کا جائزہ لینے کے بعد اب 12 جنوری کو فیصلہ دیا ہے کہ پرانے معاہدے کے باجود شہزادہ اینڈریو کو خاتون کے مقدمے کا سامنا کرنا ہوگا۔

عدالت کے مطابق خاتون کی جانب سے دائر کردہ مقدمہ ’مبہمِ اور ’قیاس آرائیوں‘ پر مبنی نہیں، بلکہ خاتون نے تین مقامات کی نشاندہی کی ہے، جہاں شہزادہ ایںڈریو نے بلوغت سے قبل ان کا جنسی استحصال کیا۔

عدالتی فیصلے کے بعد خاتون ورجینیا رابرٹ گفی کے وکلا نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی فیصلے کو اپنی جیت قرار دیا جب کہ شہزادہ اینڈریو کے وکلا نے فوری طور پر کوئی رد عمل نہیں دیا۔

خیال رہے کہ ورجینیا رابرٹ گفی کو 15 برس کی عمر میں جیفری اپسٹن نامی امریکی شخص نے جسم فروشی کے لیے استعمال کیا تھا اور انہیں کم عمری میں ہی دنیا کے متعدد سیاسی، سماجی اور اہم بااثر شخصیات کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

خاتون کے مطابق شہزادے نے انہیں بلوغت سے قبل تین بار استحصال کا نشانہ بنایا—اسکرین شاٹ، پیپلز میگزین ٹی وی
خاتون کے مطابق شہزادے نے انہیں بلوغت سے قبل تین بار استحصال کا نشانہ بنایا—اسکرین شاٹ، پیپلز میگزین ٹی وی

خاتون کو 1999 سے 2004 تک جسم فروشی کے لیے استعمال کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2019 میں جیفری اپسٹن کو جسم فروشی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، جنہوں نے اگست 2019 میں جیل میں ہی خودکشی کرلی تھی۔

جیفری اپسٹن کی خاتون دوست گیلین میکسویل کے خلاف بھی امریکی عدالت میں ٹرائل چل رہا تھا اور حال ہی میں عدالت نے خاتون کو بھی جسم فروشی کے 5 جرائم کا مجرم قرار دیا تھا اور انہیں جلد سزا سنائی جائے گی۔

جیفری اپسٹن اور گیلین میکسویل نامی خاتون نے ورجینیا رابرٹ سمیت دیگر خواتین کو بلوغت سے قبل جسم فروشی کے لیے استعمال کرتے ہوئے انہیں متعدد افراد کے ساتھ سیکس کرنے پر مجبور کیا تھا۔

جیفری اپسٹن اور گلین میکسویل نے جن خواتین کو بلوغت سے قبل امیر اور طاقتور مرد حضرات کے ساتھ ’سیکس‘ کے لیے مجبور کیا، ان میں رابرٹ ورجینیا گفی بھی شامل تھیں۔

جنہوں نے اگست 2021 میں شہزادہ اینڈریو کے خلاف نیویارک کی عدالت میں ’جنسی استحصال‘ کا سول مقدمہ دائر کیا تھا۔

خاتون نے مقدمے میں دعویٰ کیا تھا ہے کہ انہیں جیفری اپسٹن نے کم عمری میں جسم فروشی کے لیے استعمال کیا اور انہیں مختلف افراد کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے پر مجبور کیا گیا۔

خاتون نے مقدمے میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں شہزادہ اینڈریو کے ساتھ بھی 1999 سے 2001 تک تین مختلف مواقع پر لندن، نیویارک اور ورجن آئی لینڈ میں ’سیکس‘ کرنے پر مجبور کیا گیا اور اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی جب کہ ملکہ برطانیہ کے بیٹے ان کی کم عمری سے متعلق ہر بات جانتے تھے۔

شہزادہ اینڈریو نے خاتون کے الزامات مسترد کردیے تھے—فوٹو: این بی سی/ دی سن
شہزادہ اینڈریو نے خاتون کے الزامات مسترد کردیے تھے—فوٹو: این بی سی/ دی سن

error: