Site icon Dunya Pakistan

شیخوپورہ میں بھائی کے ہاتھوں دو بہنوں کا قتل: ’میری بیٹیوں کا قتل غربت اور جہالت نے کیا‘

’میری بیٹیاں غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں قتل ہوئی ہیں۔ میں 2010 میں بیوہ ہوئی تھی۔ اس کے بعد لوگوں کے گھروں میں محنت مزدوری کر کے بچوں کو پالا۔ میں خود فاقے کرتی تھی لیکن بچوں کو کھانا کھلاتی تھی۔ میری تو زندگی بھر کی کمائی ہی اجڑ گئی، میں تباہ و برباد ہو گئی۔‘

یہ کہنا ہے صوبہ پنجاب کے ضلع شیخوپورہ کے علاقے فیروزوالا میں دو مقتول بہنوں کی ماں تسلیم بی بی کا، جن کو ان کے بھائی، یعنی تسلیم بی بی کے بیٹے نے گھر سے باہر نکل کر روزگار تلاش کرنے کی کوشش پر قتل کر دیا ہے۔

تھانہ فیروزوالا میں دونوں مقتول بہنوں کی والدہ تسلیم بی بی کی جانب سے درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ’میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ گھریلو حالات تنگ ہونے کی وجہ سے میرے گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہتا تھا۔ اس دوران میری 23 سالہ بڑی بیٹی، جس کی چھ ماہ پہلے شادی ہوئی تھی، طلاق کے بعد واپس گھر آ گئی۔‘

’گھریلو حالات تنگ ہونے کی وجہ سے میری دونوں بیٹیاں کام کرنا چاہتی تھیں لیکن میرا بیٹا ان کو منع کرتا تھا۔ واقعے سے پہلے کی رات بھی گھر میں اسی بات پر جھگڑا ہوا تھا۔ میری دونوں بیٹیاں کام کی تلاش میں باہر جانا چاہتی تھیں جبکہ بیٹا منع کر رہا تھا۔‘

تسلیم بی بی کی مدعیت میں درج مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’میں نے پھر بیچ بچاؤ کروایا اور دودھ لینے چلی گئی لیکن جب واپس پہنچی تو اہل محلہ نے بتایا کہ میرا بیٹا اپنی دونوں بہنوں کو قتل کر کے بھاگ گیا ہے۔ گھر میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ بڑی بیٹی کی لاش اپنے گھر کی چھت پر جبکہ چھوٹی بیٹی کی لاش ہمسایوں کے گھر کی چھت پر تھی۔‘

درج مقدمہ میں مقتول بہنوں کی والدہ نے کہا ہے کہ ’میرے بیٹے نے دونوں بہنوں کا گلا دبا کر قتل کیا اور وجہ عداوت ان کی گھر سے باہر نکل کر کام کرنے کی خواہش تھی۔‘

واضح رہے کہ تسلیم بی بی کی قتل ہونے والی بیٹیوں میں سے بڑی بیٹی کی عمر 23 برس جبکہ چھوٹی بیٹی کی عمر 19 برس تھی۔

پولیس کیا کہتی ہے؟

تھانہ فیروز والا کے ایس ایچ او شاہ فیصل کے مطابق ملزم فی الحال مفرور ہے لیکن جلد ہی اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہماری ابتدائی تفتیش کے مطابق بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کے گھر میں دونوں مقتول لڑکیوں کے کام کرنے کی خواہش پر لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے۔‘

’ان دونوں بہنوں کو ملزم بھائی نے منع کر رکھا تھا کہ دونوں نے باہر نکل کر کام نہیں کرنا جبکہ دونوں بہنوں کی خواہش تھی کہ وہ کام کریں۔‘

شاہ فیصل کے مطابق وقوعے والے روز بھی ان کا جھگڑا ہوا تھا جس پر ان کی والدہ نے بیچ بچاؤ کروایا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’دونوں مقتول بہنیں کام کی تلاش میں باہر جانے کی خواہش رکھتی تھی۔ ملزم ان کو دیکھتا رہا اور جب ان کی ماں گھر سے کسی کام کے لیے باہر نکلی تو اس نے پہلے ایک بہن اور پھر دوسری بہن کو ان ہی کے دوپٹوں سے پھندہ ڈال کر قتل کر دیا۔‘

پولیس ایس ایچ او شاہ فیصل کا کہنا تھا کہ پولیس ابتدائی تفتیش کر رہی ہے اور گواہوں کے بیانات وغیرہ بھی قلم بند ہو رہے ہیں۔

’قصے کہانیوں میں نہیں حقیقت میں فاقے دیکھے ہیں‘

تسلیم بی بی کا کہنا تھا کہ حالات کی وجہ سے وہ اپنی بیٹیوں کو پڑھا نہیں سکی تھیں۔

’بڑی بیٹی صرف ساتویں جماعت تک پڑھی تھی جبکہ چھوٹی نے تین، چار سال پہلے ہی میٹرک کیا تھا۔ ان کے والد مزدور تھے اور ان کی وفات کے بعد تو میرے پاس بچوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔‘

تسلیم بی بی کا کہنا تھا کہ ’میرے بچوں نے بہت زیادہ غربت دیکھی۔ کبھی ان کو پاؤں میں چپل نصیب ہوتی، کبھی نہیں ہوتی تھی۔ اردگرد کے لوگ، محلے دار، رشتہ دار جو پرانے کپڑے دے دیتے تھے وہ ان کو استعمال کرتی تھیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر میرے بچے مختلف رنگوں کے کپڑے اور چپل پہنتے ہیں۔ ان کے سائز کے مطابق چپل اور کپڑے تو دستیاب ہی کبھی نہیں ہوئے۔ محلے کی دکانوں پر للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے مگر مجھے نہیں یاد کہ کبھی میرے پاس اتنے پیسے ہوئے ہوں کہ ان کو دکان سے دوسرے بچوں کی طرح کوئی چیز دلا سکوں یا ان کو پیسے دے سکوں کہ وہ خود خریداری کرسکیں۔‘

’اکثر جب وہ ضد کرتے تو ان کو مار کر دکان سے گھر لاتی تھی۔ دکان والے راشن کا ادھار تو دے دیتے تھے مگر بچوں کی ٹافیاں ادھار نہیں دیتے تھے۔‘

تسلیم بی بی کا کہنا تھا کہ ’لوگوں نے تو قصے کہانیوں میں فاقوں کی باتیں سنی ہوں گی لیکن ہم نے حقیقت میں فاقے دیکھے ہیں۔ میں نے کئی ایسے دن گزارے ہیں جب سارا سارا دن کھانا نہیں کھاتی تھی، جو کھانا دستیاب ہوتا وہ اپنے بچوں کو کھلا دیتی تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب دیکھتی کہ بچوں کے بس سے بھوک باہر ہو رہی ہے تو پھر ان کو ایک ایک کر کے کسی محلے دار،رشتہ دار کے گھر کھانے کے وقت پر بھیجتی جہاں پر ان کو کھانا مل جاتا تھا لیکن خود شرم کے مارے نہیں جاتی تھی۔‘

’ان حالات میں بیٹے بڑے ہوئے تو ایک بیٹا کرایہ کا رکشا چلاتا ہے جبکہ دوسرا ریڑھی لگاتا تھا مگر حالات بہتر نہیں ہوئے۔‘

’لوگ طعنے ماریں گے‘

تسلیم بی بی کہتی ہیں کہ ان کے حالات اس وقت بہت زیادہ خراب ہو گئے جب ان کی بڑی بیٹی بھی طلاق کے بعد گھر آ گئی۔

’بہنوں اور بھائیوں کے درمیاں اکثر بات ہوتی۔ بھائی بہنوں سے کہتے کہ گھر میں رہ کر کوئی کام کرو۔ کوئی سلائی کڑھائی کا کام سیکھ لو۔ کچھ کر لو مگر باہر نہیں جانا۔‘

تسلیم بی بی نے بتایا کہ ’میر بیٹیوں کا کہنا تھا کہ بہت مہنگائی ہے، اگر وہ بھی کوئی کام کاج کریں گی تو معاشی حالات بہتر ہونے کی امید ہو گی مگر میرے بیٹے کہتے کہ لوگ طعنے ماریں گے، لوگوں کو کیا جواب دیں گے کہ ہماری بہنیں گھر سے باہر نکل کر کام کرتی ہیں، فاقے کر لیں گے مگر یہ گوارہ نہیں ہو گا۔‘

تسلیم بی بی کا کہنا تھا ’میری بیٹیوں نے سلائی کڑھائی سیکھنے کے لیے سینٹر میں داخلہ لینے کی بھی کوشش کی مگر وہاں کلاسز شروع ہونے اور مزید جگہ نہ ہوبے پر انھیں کچھ عرصے بعد دوبارہ آنے کو کہا گیا جس پر دونوں بہت مایوس ہوئی تھیں۔‘

تسلیم بی بی نے بتایا کہ دونوں بیٹیوں نے کام کرنے کی ضد ہی پکڑ لی تھی۔

’اکثر مختلف لوگوں سے بھی اپنے کام کاج کا کہتی تھیں مگر دونوں کے پاس تعلیم نہیں تھی، جس بنا پر ان کو کیا کام کاج ملتا جو کام کاج ملتا وہ بھائی نہیں کرنے دیتے تھے۔‘

تسلیم بی بی کہتی ہیں کہ ’میں ان پڑھ ہوں مگر ایک بات بتاؤں میری بیٹیوں کا قتل غربت اور جہالت نے کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج میں اتنا برا دن دیکھ رہی ہوں جو خدا کسی دشمن کو بھی نہ دکھائے۔‘

Exit mobile version