شیدا گریجویٹ اور ’’سوشلسٹ‘‘ میڈیا!

شیدے گریجویٹ نے گوالمنڈی میں ملاں حلوائی کی دکان سے پیڑوں والی لسی پینے کے بعد سرخ رنگ کے مفلر سے وہ سفید مونچھیں صاف کیں جو اس کے ہونٹوں پر لسی سے بن گئی تھیں۔ پھر اس نے بلاپان شاپ سے قوام والا پان خریدا اور ایکس ایل آئی کے ایکسلیٹر پر پائوں کا اتنا دبائو ڈالا کہ ٹائروں اور راہگیروں کی چیخیں نکل گئیں۔ اس پر اس نے بھرپور قہقہہ لگاتے ہوئے میری طرف داد طلب نظروں سے دیکھا اور میں نے ایک پیشہ ور خوشامدی کی طرح دانت نکال کر اس کے اس کارنامے کی داد دی۔

شیدا گریجویٹ گزشتہ دس برس سے میرا دوست ہے کہ اسے امیر ہوئے بھی تقریباً اتنا ہی عرصہ ہوا ہے اس کا گھر ڈیفنس میں ہے، دکان برانڈرتھ روڈ پر ہے اور لسی پینے وہ گوالمنڈی آتا ہے۔مجھے علم نہیں کہ شیدے کے نام کے ساتھ گریجویٹ کا لفظ کیسے لگا کیونکہ وہ میٹرک میں اسکول سے بھاگ گیا تھا ۔اس کے بعد اسے لڑکیوں کے اسکول کے علاوہ کسی اسکول کے باہر نہیں دیکھا گیا۔ اس کے باپ کو بھی لوگ حاجی کہتے تھے حالانکہ وہ بھی حاجی نہیں تھے بلکہ ان کے منہ پر لوگ انہیں حاجی صاحب اور پیٹھ پیچھے بہت کچھ کہتے تھے۔شیدے کو اس امر کا پختہ یقین ہے کہ وہ بین الاقوامی اور قومی سیاست کا ماہر ہے اس کے علاوہ اقتصادیات پربھی اس کی گہری نظر ہے۔ اسے یہ بھی یقین ہے کہ اسے ملک کا وزیر اعظم یا چیف ایگزیکٹو بنا دیا جائے تو ملک کے سارے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔اس کی ان صلاحیتوں کا اعتراف میرے علاوہ وہ سب احباب بھی کرتے ہیں جو اس کے دسترخوان یا اس کی ’’شام کی محفلوں‘‘ میں شریک ہوتے ہیں اس روز بلے نے غالباً پان میں تمباکو زیادہ ڈال دیا تھا چنانچہ وہ معمول سے کچھ زیادہ اپنی ماہرانہ آرا کا اظہار کر رہا تھا۔ اس نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’ آج میں نے اپنے کالم میں لکھا ہے ....‘‘میں آپ کو یہ بتانا بھول گیا تھا کہ شیدا گریجویٹ ان سینکڑوں کالم نگاروں میں سے ایک ہے جن کے ’’کالم‘‘ ان دنوں اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ شیدا کا کالم ’’شاہد چودھری انجان‘‘کے نام سے شائع ہوتا ہے ۔ شاہد چودھری اس کا اصل نام ہے اور انجان اس کا تخلص ہے کیونکہ اس کا ارادہ جن شرائط کے ساتھ کالم نگار بنتا ہے، اسی طرح شاعر بننے کا بھی ہے اس سلسلے میں ایک شاعر سے اس کی بات بھی ہوچکی ہے۔

معافی چاہتا ہوں میں آپ کو بتا رہا تھا کہ شیدے گریجویٹ نے مجھے مخاطب کیا اور بتایا کہ اس نے آج اپنے کالم میں لکھا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں عوام دشمن ہیں اور حکومت کبھی ان کے سپرد نہیں کرنی چاہئے!میں نے پوچھا ’’پھر حکومت کس کے سپرد کرنی چاہئے بولا ’’میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا تم اپنی آنکھوں کا علاج کرائو کیا تمہیں اپنے ساتھ بیٹھا ہوا شخص بھی نظر نہیں آتا ‘‘؟مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیاتھا چنانچہ میں نے فوراً اس کی تلافی کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’و ہ تو میں جانتا ہوں کہ تم سے زیادہ اس ذمہ داری کا اہل کوئی نہیں لیکن میں پوچھنا یہ چاہتا تھا کہ تمہیں اقتدار میں کیسے لایا جائے ؟ تم تین دفعہ الیکشن ہار چکے ہو جو ہماری قوم کی بدقسمتی اور سیاسی بے شعوری کی علامت ہے۔ مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آیا کہ کیلشیم کے علاوہ تم میں کس چیز کی کمی ہے مگر میں سوچتا رہتا ہوں کہ تم ایسے جمہوریت کا اصلی چہرہ پہچاننے والے کو کس طرح اقتدار میں لایا جائے کیونکہ بدقسمتی سے فوجی حکومت بھی جمہوریت کی بات کرتی ہے اور اصلی جمہوریت میں حکومت اسی جماعت کو ملتی ہے جسے لوگ اپنے ووٹوں سے برسراقتدار لاتے ہیں !‘‘

’’مگر 1971ء میں شیخ مجیب الرحمٰن کو تو حکومت نہیں دی گئی تھی حالانکہ عوام کی بڑی تعداد نے اسے ووٹ دیئے تھے ‘‘ شیدا نے کہا ’’اس کے نتیجے میں ملک بھی تو ٹوٹ گیا تھا اور بڑے ذلت آمیز طریقے سے ہمیں اپنے ازلی حریف کی فتح کا اعتراف کرنا پڑا تھا ‘‘ میں نے جواب دیا، ’’یہ بات تو تم ٹھیک کہتے ہو‘‘ شیدے نے اختلاف رائے برداشت کرنے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ’’مگر پھر بھی آج کی دو بڑی جماعتوں کو بھی برسر اقتدار نہیں آنا چاہئے‘‘ میں نے پوچھا ’’کسے لائیں ؟‘‘ میں نے یہ بات اس طرح پوچھی جیسے یہ فیصلہ میں نے خود کرنا ہے پاکستانی عوام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔’’میں ان دنوں خود ایک سیاسی جماعت بنانے والا ہوں بس اسے اقتدار میں آنا چاہئے‘‘شیدے نے جواب دیا۔ میں نے کہا ’’واہ واہ تم نے دل خوش کر دیا تم نے میرے دل کی بات کہہ دی مگر اس کیلئے حکومت کو ایک آرڈیننس جاری کرنا پڑے گا اور وہ یہ کہ عوام فلاں جماعت کے علاوہ کسی کو ووٹ نہ ڈالیں اس طرح تمہارا کام بن جائے گا کیونکہ کچھ جماعتیں عوام میں مقبول نہیں چنانچہ انہیں ووٹوں کے علاوہ امیدوار بھی دستیاب نہیں ہوتے ۔ اس کے بعد تم ہی تم رہ جائوں گے باقی رہا ووٹ کا مسئلہ تو اس کا ایک چور دروازہ ہے وہ تم مجھ پر چھوڑ دو‘‘۔مگر ایک پرابلم پھر بھی موجود ہے۔ شیدے کے چہرے پر تشویش کے آثار ظاہر ہوئے۔’’ آئین کی دفعہ 62-63کے مطابق، کوئی گناہ گار الیکشن میں امیدوار نہیں ہوسکتا اور تم مجھے تو جانتے ہو‘‘ ۔

’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘‘میں نے شیدے گریجویٹ کو تسلی دیتے ہوئے کہا ’’تم ابھی سے اسلامی نظام کے نفاذ کا نعرہ لگانا شروع کر دو اور اس سے کام نہ چلے تو بس اک کام اور کرنا اور وہ یہ کہ الیکشن تک شیو نہ کرانا ۔ کامیابی یا ناکامی خدا کے ہاتھ میں ہے ، مگر انسان کوشش تو کر سکتا ہے ‘‘۔یہ سن کر شیدے نے ایک لمبا سانس لیا اور کہا ’’مگر ان شرعی لوگوں کی وڈیوز کاکیا کریں جو ان دنوں ’’سوشل میڈیا‘‘ پر پھیلائی جا رہی ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’ یہ کوئی مسئلہ نہیں تم ہر جگہ اپنی تقریروں میں کہنا یہ سوشل میڈیا نہیں ’’ سوشلسٹ میڈیا‘‘ ہے جو پارسالوگوں کی کردار کشی کر رہا ہے، میں اقتدار میں آتے ہی اس نام نہاد سوشل میڈیا پر مکمل پابندی عائد کر دوں گا ‘‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *