شیڈو باکسنگ

اسلام آباد میں واقع لال مسجد، جامعہ فریدیہ اور لڑکیوں کا مدرسہ جامعہ حفصہ دو بھائیوں مولانا عبد الرشید غازی اورمولانا عبد العزیز کے زیرِ انتظام ہے۔ان مساجد اور مدرسے کی حفاظت پر AK-47سے مسلح طالب متعین ہیں۔آج کل ان مذکورہ مولانا برادران کی اشتعال انگیز سرگرمیوں کی بدولت میڈیا اور سول سوسائٹی کی تنظیموں میں شدید برانگیختگی پھیلی ہوئی ہے۔یہ لوگ اسامہ بن لادن کی سرعام حمایت کرتے ہیں، اسلام کی انتہا پسندانہ تشریحات کے حامی ہیں اورپاکستان میں نفاذِشریعت کے لئے جہادلڑنے کو بھی تیار ہیں۔تاہم ان کی سرگرمیوں پر انتظامیہ نے جو ردعمل ظاہر کیا ہے اس سے اس پورے معاملے سے ”نمٹنے“کے سلسلے میں اس کے کردار کے بارے میں سنجیدہ نوعیت کے سوالات جنم لیتے ہیں!
آج لال مسجد اور جامعہ حفصہ اسلام آباد میں مذہب پرست عسکریت پسندی کا مرکز بن چکے ہیں۔سن دو ہزار چار میں پولیس نے مذکورہ مولانا برادران میں سے ایک کی ملکیتی گاڑی سے چند راکٹ برآمد ہوئے تھے جس کی وجہ سے آئی جی پی نے اس کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا تھا۔تاہم مذہبی امور کے وزیر اعجاز الحق نے حکومت کو اس معاملے کی تہہ میں جانے سے روک دیا تھا جس کے بعد اس آئی جی پی کا تبادلہ کر دیا گیا تھا اور وہ احکامات بھی واپس لے لئے گئے تھے۔سن دو ہزار پانچ میں متعدد ایسے دہشت گرد گرفتار کئے گئے جن کا تعلق لال مسجد اور جامعہ حفصہ کمپلیکس سے ہی تھا لیکن پھر بھی اس کی سرگرمیوں اور اس کے اغراض و مقاصد کے بارے میں کوئی تحقیقات نہیں کی گئیں!
دو ماہ پہلے جب دارالحکومت کے ترقیاتی ادارے نے شہر میں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مساجد اور مدارس کے انہدام کی کاروائی شروع کی تو جامعہ حفصہ کی شٹل کاک برقعوں میں ملبوس و ملفوف لاٹھی بردارطالبات نے احتجاجاًقریب ہی واقع بچوں کی ایک لائبریری پر قبضہ کر لیا!ابھی تک اس مقبوضہ لائبریری کی ”آزادی“ کے لئے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے بلکہ مذہبی امور کے وفاقی وزیر جناب اعجازالحق نے دونوں بھائیوں کو تحریری یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت منہدم مساجد کی دوبارہ تعمیر کروائے گی اورکوئی بھی غیر قانونی مسجد ان کی اجازت کے بغیر منہدم نہیں ہو گی!!!
پچھلے ہفتے جامعہ حفصہ کی اسی برقعہ پوش جتھے نے راولپنڈی کے ایک مبینہ قحبہ خانے کو بند کروا کر وہاں سے تین عورتوں کو اپنی حراست میں لے لیاتھا۔اس پر انتظامیہ نے مدرسے کے چار اساتذہ کو گرفتار کیا لیکن ان ”لڑکیوں“ نے جوابی کاروائی کرتے ہوئے پولیس کے دو آدمی اغوا ء کر لئے!!اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ جامعہ حفصہ والوں نے راولپنڈی اسلام آباد میں ویڈیو اور میوزک دکانوں کو بند کروانے کی دھمکی بھی دی ہے جو کہ بالکل انہی دھمکیوں کی طرح ہے جو گزشتہ چند ماہ سے فاٹا اور صوبہ سرحد میں طالبان کی جانب سے دی جاتی رہی ہیں لیکن حکومت اس پر بھی بے بسی سے محض ہاتھ ملتی رہ گئی ہے!
ان سب مواقع میں سے ہر ایک پر حکومت نے جو ردعمل ظاہر کیا وہ انتہائی ناقابلِ وضاحت ہے۔لال مسجداور جامعہ حفصہ کمپلیکس میں ہتھیاروں کی تلاش کے لئے کبھی مناسب طورسے کوئی چھان بین ہوئی ہی نہیں اور نہ ہی کبھی اس کی سرگرمیوں کی سنجیدگی سے کوئی نگرانی کی گئی۔انیس سو ننانوے میں جب مذکورہ مولانا برادران نے بچوں کی لائبریری کے سامنے موجود وزارتِ تعلیم کی ملکیتی اراضی پر قبضہ کر نے کی ٹھانی اور سن دو ہزار دو میں وہاں مدرسہ بنایا تو متعلقہ وزارت، سی ڈی اے یا ڈپٹی کمشنر نے اس پر چوں تک نے نہیں کیا تھا۔سن دو ہزار چار میں یہ معاملہ وزارتِ تعلیم کے سامنے لایا گیا تو وزیرِ تعلیم نے اس کی ذمہ داری لینے سے کلی احتراز کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ مدرسہ ایک عرصے سے وہاں موجود ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ اسے تین سال میں تعمیر کیا گیا ہو!ہر محکمے میں اس معاملے کی ذمہ داری دوسرے کے سر ڈالی ہے اور وجہ اس کی یہ ہے یہ لوگ ملّاؤں کو بھڑوں کا ایک چھتہ سمجھتے ہیں جسے نہ چھیڑنا ہی بہتر ہوتا ہے!!تاہم ان کا یہ تصور مبنی بر صداقت نہیں!
ایک طرف جنرل مشرف کے زیرِ سربراہی فوج امریکہ کے ساتھ دفاعی لحاظ سے بامعنی اتحاد چاہتی ہے اور بھارت کے ساتھ قیامِ امن کی بھی خواہاں ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ جہاد سے قطعِ تعلق کر کے ان انتہا پسندانہ اور ہندو مخالف جذبات کا خاتمہ کیا جائے جو سول سوسائٹی میں جہادی نظریات کی بقاء کا باعث ہیں۔”اعتدال پسندانہ روشن خیالی“ کی ضرورت بھی اسی لئے پڑتی ہے۔تاہم دوسری طرف ذاتی طور پر جنرل مشرف ابھی تک سویلین عناصر کو اختیارات کی تفویض تو دور کی بات، منجدھار کی اعتدال پسند سیاسی جماعتوں کے ساتھ اشتراکِ اقتدار پر ہی راضی نہیں ہوئے ہیں!!اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام پرستانہ سیاست کا کلی خاتمہ ان کے لئے ممکن نہیں ہو گا کیونکہ اس سے ایم ایم اے کی مستقل خفگی مول لینے کا انہیں خدشہ ہے جو کہ ان کی ممکنہ حلیف ہے۔جے یو آئی تو اب بھی ان کے لئے داخلہ و خارجہ پالیسیوں میں پی پی پی جیسی ہنگامہ خیز جماعت کے مقابل توازن کا محرک عنصر معلوم ہوتی ہے جبکہ افغانستان میں پختون طالبان کے ساتھ روابط بھی اسی کے ذریعے ممکن ہیں۔انہی سب وجوہات کی بنیاد پر جنرل مشرف مدارس سے متعلقہ اصلاحات، جے یو آئی اورطالبان کے ساتھ نرمی اختیار کئے ہوئے ہیں۔جنر ل صاحب کے بعض مشیر تو انتہا پسندی کے ایسے گاہے گاہے مظاہروں پر خوش بھی نظر آتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ اس سے اس تاثر اور رائے کی تشکیل میں مدد ملتی ہے کہ پاکستان میں مسئلہ جمہوریت کا نہیں بلکہ مذہبی انتہا پسندی کا ہے جس سے نمٹنے کے لئے جنرل مشرف جیسے سیکولر اور فوجی شخص کی ضرورت ہے۔موجودہ سیاسی صورتحال میں اسلام آباد میں مذہبی جنونیت کا یہ مظاہرہ چیف جسٹس کی برطرفی سے جنم لینے والے آئینی جواز کے بحران سے انحرافِ توجہ کے مقصد کی بھی تکمیل کرتا ہے۔تاہم یہ سوچ کئی وجوہات کی بنیاد پر غلط ہے۔سب سے پہلے تو یہ کہ یہ بات کوئی بھی نہیں مانتا کہ حکومت مذہبی انتہا پسندوں کے سامنے بے بس ہے کیونکہ حکومت نے ضرورت پڑنے پر کئی بار ان کے خلاف مؤثر کاروائی کی ہے۔دوسرے یہ بات سب تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کو جمہوریانے اوراعتدال پسندانہ روشن خیالی کے لئے قومی اتفاقِ رائے کی توسیع کے ذریعے ہی مذہبی انتہا پسندی سے نمٹا جا سکتا ہے۔بہ الفاظِ دیگر انتہا پسندی کا حل جمہوریت اور منجدھار پسندی ہی ہے۔ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا جا سکے گا۔تیسرے جنرل مشرف کے پاس وقت اب بہت کم ہوتا جا رہا ہے۔انہیں خیالی دشمنوں سے شیڈو باکسنگ کرنے کی بجائے جلد از جلددرست فیصلے اور درست اتحاد تشکیل دے دینے چاہئیں!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: