صاحبِ رفعت شاعر

اجمل نیازی بھی چلا گیا، میرے جوانی کے دور کے دوست ایک ایک کرکے رخصت ہوتے جا رہے ہیں۔ خالد احمد، نجیب احمد ایسے بےپناہ خوبصورت شاعر میری آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔ گلزار وفا چودھری ایسے تیکھے جملے لکھنے والے کو برس ہا برس پہلے سیالکوٹ کے چرچ میں دولہا بنا کر لے گیا اور پھر گورا قبرستان کی لحد میں بھی اسے اپنے ہاتھوں سے اتارا، خوبصورت گیت نگار حسن رضوی اور شرارتی مسکراہٹ والا حسن رضوی بھی اب ہم میں نہیں ہے۔ ہمارے درمیان شاعری کرتے، نثر لکھتے اور محفلوں میں ایک دوسرے پر جملے کستے یہ دوست جدا ہوتے وقت سوچتے بھی نہیں کہ اگر چھوڑ کے ہی جانا تھا تو اتنی محبتیں پالی ہی کیوں تھیں۔ محمد منشا یاد ایک عظیم افسانہ نگار، جب میرے اور امجد اسلام کے جملوں سے زچ ہو جاتا تو ’’مکا‘‘ تان کر ہم پر حملہ آور ہو جاتا۔ اس کے گول مٹول ہونے اور ’’حملے‘‘ کے دوران ہم پر گر جانے کی ادا سے ہم اسے جاپانی پہلوان کی مناسبت ’’ساکا پہلوان‘‘ کہتے تھے اور جو سینئر ہم سے رخصت ہوئے، ان کے بعد اب ہم ایسے سینئر ہی مارکیٹ میں رہ گئے ہیں۔

اجمل نیازی جب موسیٰ خیل سے لاہور آیا تو اس کے اولین دوستوں میں، میں ہی تھا اس وقت وہ کلین شیو ہوتا تھا سرخ و سفید رنگ، مگر سنگل پسلی، چھوٹا سر اور اس چھوٹے سر میں بڑی دانش کی باتیں ہوتی تھیں۔ بعد میں اس نے خوبصورت داڑھی رکھ لی اور سر پر پگڑی بھی باندھ لی اور اس حلیے میں وہ مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا فارغ التحصیل لگتا تھا۔ اس نے نوائے وقت میں کالم بھی لکھنا شروع کر دیا۔ جو کالم وہ اپنے مخصوص صوفیانہ انداز میں لکھتا تھا اور جن میں افراد کا تذکرہ نہیں ہوتا تھا، وہ کالم لاجواب تھے۔ جن میں افراد کا تذکرہ ہوتا اچھا یا برا وہ ان کا تراشا مذکورہ افراد کو بھی پوسٹ کرتا یا بوقت ملاقات ان کی خدمت میں دستی پیش کر دیتا۔ ایک دفعہ مشرقی پنجاب ’’انڈیا‘‘ کا وزیر اعلیٰ پاکستان کے دورے پر آیا تو ہمارے پاکستان کے وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اس کے اعزاز میں عصرانہ دیا۔ میں اور اجمل بھی اس عصرانے میں شریک تھے۔ دوران گفتگو اجمل نے اپنی بغل میں سے اس روز کا نوائے وقت نکالا اور مہمان وزیر اعلیٰ کو پیش کرتے ہوئے کہا ’’میں نے اپنے کالم میں آپ کا ذکرِ خیر کیا ہے‘‘۔ مہمان نے کہا بہت شکریہ مگر مجھے تو اردو نہیں آتی پھر کچھ دیر توقف کے بعد اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اخبار تھامتے ہوئے کہا ’’میں اسے اپنے اس دورے کی ایک خوبصورت یاد کے طور پر اپنے ساتھ لے جائوں گا‘‘۔

میں اور اجمل نیازی ایک دفعہ مشاعروں میں شرکت کے لئے انڈیا بھی گئے۔ مجھے اس دوران دنیا دار اجمل کسی اور دنیا کا باشندہ لگا۔ واپسی پر اس نے انڈیا کا سفرنامہ لکھا جو ’’مندر میں محراب‘‘ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوا اور اس کتاب میں وہی نثر تھی جس کا میں فین تھا۔ بالکل انوکھی تعظیمات، بالکل انوکھا انداز یہی انداز اس کی شاعری میں بھی پایا جاتا تھا۔ وہ شاعری کی طرف زیادہ توجہ نہ دے سکا مگر پھر بھی وہ آج کے دور کا بڑا صاحبِ اسلوب شاعر ہے، اس کا ایک شعر سنیں؎

عہدِ غفلت میں مجھے مثلِ سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کےگھر بھیجا گیا

میں نے حسبِ شرارت فوری طور پر اس غزل کی پیروڈی کرکے اسے سنا دی۔ اجمل کو بہت جلد غصہ آجاتا تھا مگر پیروڈی سن کر وہ کھلکھلا کر ہنس پڑا۔

اجمل کی علالت کے دوران میں اور توفیق بٹ دوبار اس کی عیادت کے لئے اس کے گھر پر گئے۔ ہمیں دیکھ کر اس کی خوشی دیدنی تھی مگر ہم خوش نہیں تھے۔ دھاڑنے والا اجمل بےبسی سے چار پائی پر لیٹا ہوا تھا ہم سے اس کی یہ حالت دیکھی نہ گئی چنانچہ میں نے اس کی پژمردگی دور کرنے کے لئے بہت دلچسپ واقعات سنانا شروع کئے اور میں نے محسوس کیا کہ اس کے چہرے کی مسکراہٹ واپس آرہی ہے اور پھر اس کے سر کی طرف تکیہ رکھ کر اسے بٹھا دیا گیا۔ وہ بول نہیں سکتا تھا مگر اس کے چہرے سے بشاشت پھوٹ رہی تھی اور پھر کمال یہ ہوا (اور یہ آخری ملاقات کی بات ہے) کہ اپنے بیٹوں کے کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر وہ مجھے اور توفیق بٹ کو باہر کار تک چھوڑنے آیا اور اس کے چند ہفتوں بعد وہ ہم سے رخصت ہو گیا۔

یہ کوئی پچیس تیس سال پہلے کی بات ہے کہ میں، امجد اسلام، حسن رضوی، توفیق بٹ اور کچھ دوسرے دوست ناروے کے شہر اوسلو میں مدعو کئے گئے۔ وہاں ایک دن ساحلِ سمندر پر جانے کا پروگرام بنا ہمارے ساتھ جمشید مسرور بھی تھے وہاں طے پایا کہ ہم سب کچھے پہن کر ساحل پر جائیں گے۔ ہم سب شاید اس انتظار میں تھے چنانچہ ہم سب نے آناً فاناً کپڑے اتار دیے۔ اجمل نے پگڑی، قمیض اور بنیان تو اتار دی اور ایک ہڈیوں کا پتلا ہمارے سامنے آ گیا۔ اس دوران مجھے حسن رضوی کی مخصوص دبی دبی وہ ہنسی سنائی دی جو کسی شرارت سے پہلے وہ ہنسا کرتا تھا اور ساتھ ہی اس نے اجمل کے دبلے پتلے جسم کی طرف اشارہ کیا اور ’’چرغا‘‘ کہہ کر ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا۔ اجمل کا چہرہ غصے سے تمتمانے لگا بہرحال اجمل کچھا پہننے کو تیار نہ تھا۔ ہم نے اصرار کیا تو بولا ’’مجھے پتہ ہے کہ کچھ دیر بعد تم نے کہنا ہے کہ یورپ میں ساحل سمندر پر کچھ بھی نہیں پہنا جاتا‘‘۔ تاہم وہ اس وقت یہ برداشت کر گیا بعد میں جب حسن نے اس کی چھیڑ بنالی تو پھر چراغوں میں روشنی نہیں رہتی تھی۔

مجھے گزری صحبتیں یاد آتی جا رہی ہیں۔ ایک بار میانوالی میں اجمل کے ساتھ ایک شام تھی لاہور سے میں،حسن رضوی اور گلزار وفا چودھری مدعو تھے۔ ہم نے اس دور میں لاہور سے میانوالی تک چلنے والی ’’ماڑی ایکسپریس‘‘ میں اپنی نشستیں بک کروائیں ۔ میانوالی میں اجمل کے ساتھ شام ہوئی اور بہت دھوم دھڑکے سے ہوئی مگر کھانے کی ٹیبل پر حسن رضوی نے اجمل سے کہا ’’یار تم نے بہت تکلف کیا ہے بس چرغے کی کمی ہے ‘‘اور اس کے ساتھ ہی بھاگ کھڑا ہوا اور اجمل ہاتھ میں چھری تھامے اس کے پیچھے پیچھے! ’’واپس آئو آج میں تمہیں چرغا بنائوں گا اور پلیٹوں میں سجا کر رکھوں گا‘‘مگر پھر کچھ ہی دیر بعد خود اجمل کھلکھلا کر ہنسنے لگا ۔ اسے غصہ آتا بھی بہت تھا اور بہت جلدی جاتا بھی تھا۔ اور یوں اجمل بہت سے مشکل مقامات میں میرے کام آیا ۔ابا جی مجھے فلمیں نہیں دیکھنے دیتے تھے مجھے جب فلم دیکھنا ہوتی تو میں اپنے باریش دوستوں یعنی صوفی عارف اور اجمل کو اپنے گھر بلاتا۔ اجمل آتا تو ابا جی اس کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے اور کہتے ماشااللہ کتنا نورانی چہرہ ہے ۔اس خبیث کو بھی کچھ سمجھایا کرو۔ یہ بے دین دوستوں کے ساتھ پھرتا رہتا ہے اسے اپنے ساتھ رکھا کرو’’چنانچہ میں اپنے اس نورانی چہرے والے دوست کے ساتھ فلم ’’جٹ دا کھڑاک‘‘ دیکھنے چلا جاتا۔باتیں بے شمار ہیں مگر کالم بارہ سو الفاظ سے زیادہ لکھنے کی اجازت نہیں چنانچہ آخر میں وہی غزل جس کا مطلع میں نے آپ کو کالم کے آغاز میں سنایا تھا!

عہدِ غفلت میں مجھے مانندِ سحر بھیجا گیا

دیر تک سوئے ہوئے لوگوں کے گھر بھیجا گیا

کربلائے عشق میں تیری نظر کے سامنے

جسم کے نیزے پہ رکھ کر میرا سر بھیجا گیا

روبرو ہے وہ مرے لیکن ہر اس لمحے کے بعد

ایسے لگتا ہے اُسے بارِ دگر بھیجا گیا

زندگی اپنی بچھڑتی ساعتوں کا دائرہ

کرچی کرچی کر دیا اور در بدر بھیجا گیا

اب گلے سے لگ کے رونے کی روایت بھی گئی

شہر گریہ میں مجھے بے چشم تر بھیجا گیا

وہ یہ ہمراز تو بنتا نہیں پھر کیوں اسے

غم کے سب رشتوں پہ میرا ہم سفر بھیجا گیا

ہے کوئی ایسا طرحدار اور منفرد شاعر فیشنی غزل کے اس دور میں؟میں رفعت بھابھی اور خوبصورت شعر کہنے والے شاعروں سے اجمل نیازی کی تعزیت کرتا ہوں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: