صادق خان دوبارہ بنے لندن کے مئیر

6/ مئی کو انگلینڈ، ویلس اور اسکاٹ لینڈ میں کاؤنسل، صوبائی اور مئیر الیکشن ہوا۔ جس میں انگلینڈ کے کاؤنسل الیکشن میں کنزرویٹیو پارٹی کو شاندار کامیابی ملی۔ جبکہ ویلس میں لیبر پارٹی نے اور اسکاٹ لینڈ میں اسکوٹش نیشنل پارٹی نے اپنی جیت کو بر قرار رکھا۔

اس کے علاوہ مانچسٹر میں مئیر الیکشن کو لیبر پارٹی نے دوبارہ جیت لیا اور لندن میں لیبر پارٹی کے صادق خان دوسری مرتبہ لندن کے مئیر کی حیثیت سے اپنے حریف کنزرویٹیو پارٹی کے شان بیلی کو شکست دے کر کامیبای حاصل کی۔ہفتہ8 / مئی کے دوپہر جب لندن کے مئیر الیکشن کا نتیجہ آنے لگا تو دھیرے دھیرے اس بات کی امید ہونے لگی کہ اب لندن کے نئے مئیردوبارہ صادق خان ہی ہوں گے۔ ویسے چند روز قبل ہی ایکزٹ پول نے صادق خان کی جیت کی پیشن گوئی کر دی تھی۔ صادق خان کی جیت سے جہاں لیبر پارٹی کوکچھ حد تک راحت ملی تو اس سے کہیں زیادہ پاکستانی اور ایشیائی لوگ ان کی جیت کا جشن منا رہے ہیں اور منائیں بھی کیوں نہیں کیونکہ صادق خان کے والدین کا تعلق پاکستان سے رہا ہے اور اس کے علاوہ صادق خان مسلمان بھی ہیں۔ صادق خان نام سے اور لندن کے مسلم مئیر بننے پر اُن تمام لوگوں کی طرح مجھے بھی بے حد خوشی اور ہمدردی ہورہی ہے۔

صادق خان کی جیت کو لندن مئیر الیکشن کا ایک راحت ملنے والانتیجہ مانا جا رہا ہے۔ لندن کے ہر حصےّ سے صادق خان نے ووٹ پایا ہے جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ صادق خان کو ہر طبقے اور مذہب کے لوگوں نے ووٹ دیا ہے۔ان کی اس جیت سے اس بات کا بھی اندازہ ہورہا ہے کہ لیبر پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت میں کچھ سدھار آجائے۔صادق خان کو پوری مہم کے دوران پسندیدہ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔ کچھ رائے دہندگان نے یہ پیشن گوئی کی تھی کہ وہ پہلے راؤنڈ میں آدھے سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے۔ تاہم 2016
کے مقابلے میں اس بار ووٹوں کی تعداد کم رہی لیکن انہوں نے 228,000ووٹوں کی اکثریت سے جیت حاصل کی۔

صادق خان کی پیدائش ایک پاکستانی خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کے والد روزگار کے سلسلے میں پاکستان سے لندن ہجرت کر کے آے تھے اور لندن میں بس ڈرائیور تھے۔ صادق خان کا پورا خاندان جنوبی لندن کے کونسل اسٹیٹ (وہ رہائشی مکان جس میں کم آمدنی یا غریب لوگ رہتے ہیں)میں آباد تھا۔ اسی وجہ سے صادق خان نے ہمیشہ اپنی تقریر میں اس بات کا ذکر کیا کہ میں ایک بس ڈرائیور کا بیٹا ہوں اور میری پرورش ایک کونسل اسٹیٹ میں ہوئی ہے۔ صادق خان پیشے سے ایک وکیل ہیں اور انہوں نے ایم پی بننے سے پہلے انسانی حقوق کے وکیل کے طور پر کام کیا تھا۔ ان کی شادی سعدیہ سے چھبیس سال پہلے ہوئی تھی اور ان دونوں کے دو بیٹیاں ہیں۔ صادق خان کی بیوی سعدیہ بھی پیشے سے ایک وکیل ہیں۔ صادق خان کے پاس ان کا ایک کتا بھی ہے جسے وہ اکثر اپنے انسٹا گرام پر شئیر کرتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔

صادق خان اور ان کے گھر والے ہمیشہ رمضان پابندی سے مناتے ہیں اور یہ پہلے برٹش منسٹر تھے جنہوں نے حج کے فرائض بھی ادا کئے ہیں۔ صادق خان کا کہنا ہے کہ ’میں نے ٹوٹنگ اور بالہم کے علاقے میں مدرسہ میں عربی اور دینیات کی تعلیم حاصل کی ہے جس کی وجہ سے کم عمری سے ہی انہیں توحید،نماز،زکاۃ،روزہ اور حج جو کہ اسلام کے پانچ ستون ہیں اس کا علم ہوا۔ صادق خان نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنی جوانی کے زیادہ تر دنوں کو انتہا پسندی کے خلاف لڑنے میں گزاری ہے۔

انگلینڈ کی پوری مسلم آبادی کے لگ بھگ 40% چالیس فی صد مسلمان لندن میں آباد ہیں اور صادق خان نے ہمیشہ مسلمانوں کے معاملے میں کھل کر باتیں کی ہیں۔ اسی لئے ایسا مانا جا رہا ہے کہ صادق خان کی ان ہی خوبیوں کی وجہ سے لندن کے زیادہ تر مسلمانوں نے صادق خان کو ایک طرفہ ووٹ دیا ہے۔

لندن کے مئیر کے اختیار میں سب سے اہم چیزیں ٹرانسپورٹ، پولیس، ماحول اور نئے مکانوں کی تعمیر اور پلاننگ ہوتی ہیں جس کے لئے مئیر شہر کی ترقی اور تعمیری کاموں کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ لندن اسمبلی کے ممبران ہوتے ہیں جو مئیر کی پالیسی کی حمایت میں ووٹ دے کر مئیر کے کا موں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ اس میں ایک اہم بات یہ ہے کہ صادق خان نے اپنے منثور میں اس بات کا وعدہ کیا ہے کہ اگر وہ مئیر بنے تو چار سال تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ نہیں بڑھائینگے۔

صادق خان نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنی تقریر میں کہا کہ’میری مہم بنا تنازعہ کے نہیں تھی لیکن قابلِ تعریف ہیں وہ ووٹر س جنہوں نے مجھے چنا ہے۔اس لئے مجھے امید ہے کہ میں لندن شہر کے لئے ان تمام وعدوں کو پورا کرونگا جو میں نے کیا ہے۔میں اپنی پوری کوشش کرونگا کہ لندن شہر کو مزید بہتر بناؤں‘۔صادق خان نے یہ بھی عہد کیا کہ وہ لندن اسمبلی کو شفاف، شمولیت اور رسائی والاانتظامیہ بنائینگے جو کہ اب تک لندن والوں نے نہیں دیکھا ہے۔صادق خان نے مزید کہا کہ ’میں ہمیشہ تمام لندن کے مئیر رہوں گا، اس شہر میں ہر ایک فرد کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے کام کروں گا۔

صادق خان کی شاندار جیت سے جہاں مسلمانوں اور خاص کر پاکستانی نژاد کے لوگوں کو خوشی ہوئی ہے تو وہیں لندن کے ہر ذات اور مذہب کے لوگ بھی صادق خان کی شاندار جیت سے خوش ہیں۔ اور خوشی ہونے کی بات بھی ہے کیونکہ دوسری بار ایک مسلم اور پاکستانی نژاد انسان لندن کا مئیر بنا ہے۔ لیکن وہیں تنقید نگار صادق خان کی ان باتوں کو بھی یاد دلا رہے ہیں جس کی وجہ سے وہ تنازعہ کے شکار رہیں ہیں۔ مثلاً چند سال قبل برطانوی پارلیمنٹ نے ہم جنس شادیوں کو قانونی درجہ دینے کے لئے ایک بل پارلیمنٹ میں پیش کیا تھا جس کی حمایت میں صادق خان نے اپنا ووٹ دیا تھا تب سے صادق خان کو کئی دھمکیاں بھی مل چکی ہیں۔

2016میں جب صادق خان پہلی بار مئیربنے تو انہوں نے کئی ایسی پالیسی کا نفاذ کیا جس سے لوگوں می کافی ناراضگی تھی۔ اس کے علاوہ صادق خان کی سائیکل لین پر بھی لوگوں میں کافی ناراضگی دکھائی دی۔جس سے مقامی بزنس پر برا اثر پڑ رہا تھا۔ لوگوں نے مئیر صادق خان سے ہفتہ اور اتوار کو لندن شہر میں گاڑی چلانے پر کنزیشن چارج پر بھی رنج کا اظہار کیا تھا۔ تاہم صادق خان نے دوبارہ مئیر بننے پرکنزیشن چارج ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

میں صادق خان کی شاندار کامیابی پر انہیں دلی مبارک باد پیش کر تا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ وہ تاریخی شہر لندن کی خوبصورتی میں مزیدچار چاند لگائینگے اور دنیا کے سب سے اچھے ٹرانسپورٹ نظام کو اور مزید بہتر بنا ئینگے۔ اس کے ساتھ ساتھ لندن شہر میں مکانوں کی قلت کو دور کرینگے اور جرم کو کم کرنے کے لئے پولیس ڈپارٹمنٹ کو اور بہتر بنائینگے۔تاکہ آنے والے دنوں میں تاریخی شہر لندن صادق خان کو صرف نام سے نہیں بل کہ فخریہ ایک کامیاب مسلمان مئیر کے نام سے یاد رکھے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: