صادق سنجرانی کی سینیٹ الیکشن میں جیت اور سات مسترد شدہ ووٹوں کا معاملہ: ’فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوگا لیکن نام پر ووٹ لگا دیا تو مسترد کرنا بنتا نہیں'

جمعے کو سینیٹ چیئرمین کے انتخاب کے فیصلے پر ہونے والے تنازع پر پاکستان میں جمہوری نظام میں شفافیت اور قانون سازی کے حوالے سے قائم ادارے پلڈاٹ کی آسیہ ریاض نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے جو فیصلہ چیئرمین کے انتخاب پر دیا اس کو سمجھنا کافی مشکل ہے اور عمومی طور پر اسے نا انصافی' سمجھا جارہا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پریذائڈنگ آفیسر کی ہدایات کی جس طرح انھوں نے ترجمانی کی، وہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میرے خیال میں انھوں نے صحیح فیصلہ نہیں دیا'۔

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے سات ووٹوں کو مسترد کرنے کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کی جانب سے ووٹ مسترد نہ کرنے کے حق میں پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔

دریں اثنا سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں اپنے دونوں امیدواروں کی جیت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹر فیصل جاوید کے ہمراہ پارلیمنٹ میں میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آج اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی پشت میں چھرا گھونپ دیا ہے اور اسی گفتگو میں اپوزیشن اتحاد کی تدفین کا بھی اعلان کردیا۔

واضح رہے کہ جمعے کو اسلام آباد میں سینیٹ چیئرمین انتخاب میں شکست کے بعد حزب اختلاف کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے اپنے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد کیے جانے پر عدالت جانے کا اعلان کردیا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کیلیے ہونے والے انتخاب میں حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کو 48 اور یوسف رضا گیلانی کو 42 ووٹ ملے جس کے بعد صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو گئے۔

پریزائیڈنگ افسر مظفر حسین شاہ نے گنتی کے موقع پر کہا کہ ووٹروں نے یوسف رضا گیلانی کے نام کے اوپر مہر لگائی جس کی وجہ سے یہ ووٹ مسترد ہوئے جبکہ ایک ووٹ اس لیے مسترد ہوا کیوں کہ دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگائی گئی تھی۔

انھوں نے انتخاب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہو،ے کہا کہ لگتا ایسے ہے آج کے7 ووٹ ان کے حامیوں نے بدنیتی سے خراب کیے، اگر وہ سمجھتے ہیں فیصلہ درست نہیں تو عدالتیں کھلی ہوئی ہیں۔اس حوالے سے مزید پڑھیے

سینیٹ

اس فیصلے پر آسیہ ریاض نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے لیے بنائے گئے قواعد اس بارے میں بڑے واضح ہیں کہ چئرمین اور ڈپٹی چئیرمین کےانتخابات کیسے ہونے چاہیے لیکن ووٹ ڈالنے کے عمل کے بارے میں وہاں تفصیلات نہیں ہیں۔

‎ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی صبح ہونے والے کیمرے سے متعلق تنازع کے بارے میں پریزائڈنگ آفیسر مظفر حسین شاہ نے تفصیلی رولنگ نہیں دی وہ بہت مایوس کن تھا۔

'آج کا دن پاکستان میں جمہوریت کیلیے ‎ بہت افسوسناک دن ہے۔ جس طرح سے یہ انتخابات منعقد ہوئے اور جس قسم کی چیزیں دیکھنے میں آئی ہیں، اس سے ہمارے ملک میں شہریوں کی نظر میں جمہوریت کی ساکھ میں بہتری نہیں ہوئی، صرف نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں جب بی بی سی نے تجزیہ نگار اور سینئیر صحافی سرل المیڈا سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں قوانین اور قواعد کی ترجمانی کرنے میں مسئلہ یہ ہے کہ ان کے بارے میں قائم ماضی کی نظیر اور روایات پر عمل نہیں کیا جاتا۔

'پاکستان میں یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے اور ماضی میں قوانین کی متعدد پراسرار نوعیت کی ترجمانی ہوئی ہے جس کے باعث ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہاں کچھ بھی ہونا ممکن ہے، چاہے وہ درست ہو یا غلط۔'

حزب اختلاف کے پاس موجود آپشنز پر بات کرتے ہوئے صحافی سرل المیڈا نے سوال اٹھایا کہ کیا حزب اختلاف خود اتنا جذبہ رکھتی ہے کہ وہ اس فیصلے پر عدالت جانے کی دھمکی کو پورا کرے۔

'ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں انھیں بھرپور شکست ہوئی ہے اور ممکن ہے کہ پی ڈی ایم اب اپنے عوامی مظاہروں پر دوبارہ توجہ دے گی، بجائے کہ وہ اس ہار پر توجہ دیں جو کہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔'

سینیٹ

'فاروق نائیک کے دلائل میں وزن تھا'

سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے اسی حوالے سے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ اپوزیشن انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے کے لیے سپریم کورٹ جا سکتی ہے اور حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے پولنگ ایجنٹ فاروق ایچ نائیک کی جانب سے پریزائڈنگ افسر مظفر علی شاہ کو پیش کیے گئے دلائل میں وزن تھا۔

'اس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں ہوگا۔ لیکن نام کے اووپر ووٹ لگا دیا تو مسترد کرنا بنتا نہیں ہے۔'

اسی حوالے سے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے بھی موقف اختیار کیا کہ فاروق نائیک کے ساتھ انھوں نے انتخاب سے قبل سیکرٹری سینیٹ سے مہر لگانے کے بارے میں پوچھا تھا جس پر سیکرٹری سینیٹ نے بتایا کہ نام کےاوپرمہر لگانا ٹھیک ہے۔

حزب اختلاف کا چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں شکست کے بعد عدالت جانے کا فیصلہ

اپوزیشن کے رہنماؤں نے انتخاب میں شکست کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر مشترکہ طور پر پریس کانفرنس کی جس سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھاکہ جس طریقے سے ان کے امیدوار کو اکثریت کے باوجودہرایا گیا وہ قابل مذمت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امید ہے عدالت میں یوسف رضا گیلانی کامیاب ہوں گے۔ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھاکہ حکومت نے ہر حربہ استعمال کرکے الیکشن چوری کیا۔

مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال کا کہنا تھاکہ آج پی ڈی ایم کامیاب ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے امیدوار کو 49 ووٹ ملے لیکن یوسف رضا گیلانی کو سات ووٹ مسترد کرکے ہرایا گیا۔

احسن اقبال نے پریس کانفرنس کے دوران پاکستان میں ماضی کے عدالتی فیصلے بھی پڑھے اور کہا کہ 'سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں کہ ووٹر کی نیت دیکھنی ہے۔ نام کے خانےمیں مہر لگانے کا مطلب ہےکہ ووٹرکی نیت درست ہے، جومہر امیدوار کےخانےمیں نام پر لگایاگیا وہ درست ہے۔'

بلاول

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے متعدد ایسے فیصلے اور الیکشن کمیشن کی رولنگ ہے کہ خانے کے اندرڈالا گیا ووٹ درست ہے، چاہے وہ نام کے اوپرکیوں نہ ہو۔۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ مسترد کیے جانے والے ساتوں ووٹ میں امیدوار کے نام کےخانےمیں مہرلگائی گئی تھی اس لیے وہ اس کو چیلنج کریں گے اور انھیں عدالت سے توقع ہے کہ وہ اس کی درستگی کرے۔

بلاول بھٹو کا پریس کانفرنس سے خطاب

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں اپوزیشن امیدواروں کی شکست کے بعد چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چوری کیا گیا۔

حزب اختلاف کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن چوری کیا گیا اور عوام کی آنکھوں کے سامنے چوری کیا گیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم قیادت سے مشاورت کے بعد انھوں نے عدالت میں جانے کافیصلہ کیاہے۔

'ثبوت موجود ہے کہ سیکرٹری سینیٹ ہمارے لوگوں کو بتارہے ہیں کہ آپ ڈبے کے اندر مہر لگا سکتے ہیں، میں نے بھی عام انتخابات میں اپنے نام کے اوپر مہر لگائی تھی۔'

بلاول بھٹو نے کہا کہ یہ ایک کھلا کیس ہے ہمیں امید ہے کہ عدالتوں سے ہمیں انصاف ملے گا۔

اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر انتخاب کے بعد کہا کہ 'قانون کہتا ہے نام کے اوپر لگائی گئی مہر ٹھیک ہے، ہم یہ ڈاکہ نہیں ہونے دیں گے۔'

رہنما پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف تحریک عدم اعتماد بھی لا سکتی ہے۔

حکومتی رد عمل

شبلی فراز

سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں اپنے دونوں امیدواروں کی جیت کے بعد وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے سینیٹر فیصل جاوید کے ہمراہ پارلیمنٹ میں میڈیا بریفنگ کے دوران دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے آج اپنی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی پشت میں چھرا گھونپ دیا ہے اور اسی گفتگو میں اپوزیشن اتحاد کی تدفین کا بھی اعلان کردیا۔

وفاقی وزیر نے حزب اختلاف پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ 'کرپٹ پریکٹس کے یہ ماسٹر ہوگئے ہیں، پی ایچ ڈی کر لی ہے، کیمروں کے شرمناک ڈرامے پر انہیں عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔'

اُن کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کا خیال تھا کیمروں کے تنازع کو اچھال کر اس الیکشن پر اثر ڈال سکیں گے۔

سینیٹر فیصل جاوید نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کی فتح صادق سنجرانی کی نہیں، پورے بلوچستان کی فتح ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے سیاسی امور شہبازگل نے کہا کہ 'کپتان نےکہا تھا خفیہ ووٹنگ پر مت جائیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کے ساتھ 'وہی ہوا کہ شادی کی گاڑی کسی اورنے سجائی اوردلہن کوئی اور لےگیا۔'

سوشل میڈیا پر رد عمل: ’یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے بریانی کے ساتھ روٹی بھی آرڈر کر دی جائے‘

جہاں سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے بعد فریقین کے مختلف رد عمل سامنے آئے، وہیں سوشل میڈیا پر صرف اسی بارے میں گفتگو نظر آئی۔

کہیں پر صارفین نے اس بارے میں طنز و مزاح سے بھرپور جملے کسے تو کسی نے میمز کا سہارا لیا۔

جیو نیٹ ورک سے منسلک صحافی بینظیر شاہ نے نتیجہ آنے پر ٹویٹ کرتے ہوئے سوال کیا کہ ان کی دلچسپی تو صرف یہ جاننے میں ہے کہ کس ووٹر نے دونوں امیدواروں کے نام پر مہر لگائی۔

اس پر ٹوئٹر پر معروف صارف ماہو بلی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تو ایسا ہی ہے کہ جیسے بریانی کے ساتھ روٹی بھی آرڈر کر دی جائے۔

ٹوئٹر

ادھر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے، جو جمعے کو صبح سے ٹوئٹر پر کافی متحرک دکھائی دے رہے تھے، مرزا محمد آفریدی کی ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن پر جیت کے بعد ٹویٹ میں کہا کہ 'خوشی کی بات ہے کہ ڈپٹی چئرمین کے ووٹ میں ایک بھی ووٹ ضائع نہیں ہوا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن سینیٹرز کے سیکھنے کی صلاحیت کافی اچھی ہے۔'

واضح رہے کہ چیئرمین کے انتخاب میں جہاں آٹھ ووٹ مسترد ہوئے، ڈپٹی چیئرمین کے مقابلے میں ایک بھی ووٹ مسترد نہیں ہوا۔

ٹوئٹر

ادھر رکن قومی اسمبلی زین حسین قریشی نے بھی اپنی ٹویٹ میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ نتیجہ شاید 'مکافات عمل' تھا۔

جہاں چند صارف اپنی سیاسی حمایت کا مظاہرہ کر رہے تھے، وہیں چند کو صرف اس معاملے دلچسپی اپنے لیے محظوظ ہونے کی حد تک تھی۔

ایک صارف ہاکس بے لکھتے ہیں کہ مجھے تو صرف کوئی یہ بتا دے کہ کونسا ٹی وی چینل اس جیت پر زیادہ بڑھکیں مار رہا ہے، مجھے وہ دیکھنا ہے۔

تین سال قبل ہونے والے سینیٹ چیئرمین انتخابات میں پی پی پی کے سربراہ بلاول بھٹو نے ٹویٹ کرتے ہوئے صادق سنجرانی کی جیت پر انھیں مبارک باد دی تھی اور اسے وفاق اور بلوچستان کی جیت قرار دیا تھا۔

اسی ٹویٹ کو لے کر کئی صارفین نے انھیں یاد دہانی بھی کرائی۔ صارف اور سماجی کارکن فہد دیسمکھ نے بلاول بھٹو کے تین سال پرانے بیان کو دہراتے ہوئے ٹویٹ کی: 'پی پی پی کے اوپننگ بیٹسمین کو شکست ہوئی۔ لیکن بلوچستان کی اور وفاق کی جیت ہوئی۔'

حسن اتفاق یہ تھا کہ صادق سنجرانی کی پہلی جیت بھی تین سال قبل 12 مارچ کو ہی ہوئی تھی۔

ٹوئٹر

لیکن صحافی سرل المیڈیا نے حزب اختلاف کی امیدیوں پر پانی پھیرتے ہوئے صادق سنجرانی کے خلاف 2019 میں لائی جانے والی تحریک عدم اعتماد کا حوالہ دیا اور ٹویٹ میں لکھا کہ 'جب اپوزیشن 60 سے زیادہ کی اکثریت ہونے کے باوجود سنجرانی کو ہرا نہیں سکی تو اب بھی ایسا نہیں ہو سکے گا۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *