’صحرائی پتنگ‘: تین ملکوں میں پھیلا ایک قدیم اور پراسرار معمہ

دنیا کے ایک دور افتادہ علاقے میں پراسرار قدیم پتھریلی چٹانیں ماہرین آثار قدیمہ کے لیے ایک معمہ بنی ہوئی ہیں۔

یہ معمہ وسطی ایشیا میں قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے درمیان پھیلا ہوا ریتلی اور چٹیلی وادیوں پر مشتمل دو لاکھ مربع کلومیٹر طویل ’استرت‘ نامی وسیع و عریض سطح مرتفع (پلیٹیو) میں موجود ہے۔ اس علاقہ کا دور دراز ہونا اس علاقے تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیتا ہے۔

اس علاقے کی وسعت اپنی جگہ لیکن یہاں کا ناقابل اعتبار موسم اور بارشوں کی کمی کے باعث یہاں رہائش پزیر ہونا جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ایک جانب منفی چالیس ڈگری کی سردی اور دوسری طرف چالیس ڈگری سینٹی گریڈ تک کی گرمی کو برداشت کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔

اسی لیے اس وسیع و عریض چٹیل میدان میں چند نیم خانہ بدوش قبائل ہی آباد ہیں۔ لیکن جب دیکھنے والوں کی نظر یہاں پر موجود اُن ہزاروں پراسرار پتھریلی چوٹیوں پر جاتی ہے، جو جگہ جگہ کسی قدیم قلعے کی فصیل کی مانند سر اٹھائے کھڑی ہیں، تو ایک بار یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ کسی گزرے زمانے میں یہاں پر تمام تر نامساعد حالات کے باوجود کوئی قوم مقیم تھی جو انھیں ایک ایسی پہلیلی کی شکل میں چھوڑ گئی جسے سلجھانا ماہرین آثار قدیمہ کے لیے بھی آسان نہیں۔

کیا استرت کا میدان کبھی ایک وسیع و عریض سمندر تھا؟

صحرائی پتنگ

استرت میں موجود چونے کے پتھر کی چوٹیاں موسمی تباہ کاریوں کا شکار ہو کر کچھ عجیب و غریب خد و خال رکھتی ہیں اور اُن میں سے چند کی بلندی دو سو میٹر کے قریب بھی ہے۔

مقامی زبان میں ان کو ’چنک‘ کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بارش نایاب تو ہے لیکن اگر کبھی بارش برسے تو یہاں کثرت سے پھیلے عارضی نمکین گڑھے جھیل کا روپ دھار لیتے ہیں۔

اس علاقے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ 21 ملین سال قبل یہ ایک ایسے سمندر کا حصہ تھا جس کا نام ’ٹیتھس‘ بتایا جاتا ہے اور خیال ہے کہ اسی سمندر نے وقت کے ساتھ بحر اسود، ارال سمندر اور بحیرہ قزوین کو جنم دیا۔

کیا کبھی ماضی میں یہ خشک اور پتھریلی چٹانوں سے مزین میدان ایک بڑا سمندر تھا؟ یہاں کی نمک سے اٹی سفید رنگت کی ڈھلوانوں میں پتھر ہو جانے والے شارک کے دانتوں سمیت ایسے شواہد موجود ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس خشک میدان میں کبھی سمندری نباتات اور حیاتیات کا ڈیرہ تھا۔

استرت میں موجود پُراسرار صحرائی پتنگ کیا ہیں؟

صحرائی پتنگ

اس علاقے کے کونوں پر مٹی کے پتھروں کا ایک ایسا سلسلہ موجود ہے جنھیں ’صحرائی پتنگ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ نام ان برطانوی اور فرانسیسی پائلٹوں کا دیا ہوا ہے جنھوں نے سنہ 1920 میں پہلی بار ہوا میں اڑتے ہوئے اس علاقے میں ان پتھروں کو دیکھا جو لمبی تیر نما شکلوں میں دو سے تین لائنوں میں مرتب ہو کر ایک بند گول گڑھے میں ختم ہو جاتیں ہیں۔

گذشتہ 35 سال سے یہ صحرائی پتنگ نما پتھر ماہرین آثار قدیمہ کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ایک فرانسیسی ریسرچ پراجیکٹ ’عالمی پتنگ‘ کے مطابق یہ نمونے صرف استرت میں ہی نہیں پائے جاتے بلکہ ایسے ہی پراسرار پتھریلے سلسلے سعودی عرب، یمن اور آرمینیا میں بھی موجود ہیں۔ اس ریسرچ کے مطابق دنیا بھر میں ایسے تقریبا 5800 سلسلے گنے جا چکے ہیں۔

صحرائی پتنگ سے متعلق ماہرین آثار قدیمہ کا کیا خیال ہے؟

صحرائی پتنگ

چند ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سلسلے پُراسرار نہیں۔

لیکن یہ کس نے اور کیوں بنائے؟ اس سوال پر ایک سے زیادہ آرا موجود ہیں۔

کچھ ماہرین کے مطابق یہ قدیم زمانے کے باسیوں کی رہائش گاہیں تھیں، جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اُن کو جانوروں کے لیے بنایا گیا تھا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ شاید یہ عبادت گاہیں تھیں۔ استرت میں پائے جانے والے ان سلسسلوں کو روسی ماہر آثار قدیمہ سرگیو ٹولسٹیو نے سنہ 1952 میں دریافت کیا تھا جو ماہر نسلیات بھی تھے۔

ریڈیو کاربن طریقے سے یہ اندازہ لگایا گیا کہ یہ کم ازکم دو ہزار سال پرانے ہیں اور ماہرین کا ماننا ہے کہ ان میں سے چند کو بیسویں صدی تک بطور شکار گاہ استعمال کیا جاتا رہا۔ جس نظریے کو فی زمانہ سب سے زیادہ وزن دیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ یہ سلسلے وسطی ایشیا میں پائے جانے والے اس نایاب ہرن کی شکار گاہیں تھیں جو موسمی ہجرت کے دوران اس علاقے میں کثرت سے گزرتے تھے۔

تحقیق کاروں کے مطابق یہاں رہائش پذیر خانہ بدوشوں کے آباؤ اجداد ہرنوں کو مخصوص شکل کے پتھریلے سلسلوں کی طرف ہانک ہر انھیں آرام سے قید کر لیتے تھے اور پھر ضرورت کے تحت جب چاہا انھیں خوراک کے لیے استعمال کر لیتے۔

قدیم تہذیبوں اور طاقتوں کا مسکن

صحرائی پتنگ

گذشتہ کئی صدیوں سے یہاں یکے بعد دیگرے کئی تہذیبیں آباد ہوئیں۔

سکاٹ لینڈ کی ماہر آثار قدیمہ پروفیسر الیسن بیٹس کے مطابق یہ پورا خطہ بیسویں صدی تک موسم سرما میں شکار کے لیے مشہور تھا۔ آمو دریا کا ڈیلٹا یہاں بسنے والے قبائل اور تہذیبوں کے کام آتا رہا۔

پیتل کے دور کے شکاری پانچویں اور ساتویں صدی قبل از مسیح میں پہلی ایرانی سلطنت میں ضم ہو گئے جس کے بعد قرون وسطیٰ میں یہاں منگولوں کا راج رہا۔

پروفیسر الیسن کے مطابق اس علاقے میں موجود قلعوں نے شکست و ریخت کے بہت سے دور دیکھے کیوںکہ یہاں ہونے والا شکار کھالوں، گوشت اور سینگوں کی شکل میں ایک بڑی تجارت کا سبب تھا۔ اور یہ تجارت یہاں پروان چڑھنے والی قوتوں کی معیشت کی بنیاد بنی جس کا دائرہ وسطی ایشیا سے لے کر یورپ تک پھیل چکا تھا۔

اس علاقے تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟

صحرائی پتنگ

اس پراسرار اور قدیم تہذیبوں کے مسکن تک پہنچنا ہو تو قازقستان جانا پڑے گا جہاں کے جنوبی منگستو علاقے میں قازقستان نیچر ریزریو قائم کیا گیا ہے۔

سنہ 1984 میں قائم ہونے والا یہ پارک لندن کے مجموعی رقبے سے سے ڈیڑھ گنا بڑا ہے، جہاں تین سو سے زیادہ انواع کے چرند پرند پائے جاتے ہیں جن میں تلور، خار پشت، نیولے اور جنگلی سور بھی شامل ہیں۔ لیکن اس پارک کا سب سے بڑا قیمتی سرمایہ ایک واحد ایرانی تیندوا ہے جسے پہلی بار سنہ 2018 میں دیکھا گیا اور اب اس کے علاوہ پورے قازقستان میں اس نسل کے صرف دو اور تیندوے پائے جاتے ہیں۔

سائس دانوں اور ماہرین کی کوشش ہے کہ قازقستان کے اس نیچر ریزرو کو اب ازبکستان اور ترکمانستان تک بھی پھیلایا جائے۔

عالمی پتنگ نامی ریسرچ پراجیکٹ کے سربراہ ڈاکٹر ریمی کا تعلق فرانس سے ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ ان پراسرار شکارگاہوں کو بنانے والوں کو ماحولیاتی آگاہ کاری اور سماجی تعاون درکار تھا۔ ان کے مطابق اس علاقے کو محفوظ بنانے سے اس بات کو سمجھنے میں مدد ملے گی کہ ہم سے پہلے لوگوں نے موسم اور ماحولیات کا کیسے سامنا کیا۔

ماہرین کی رائے میں اگر اس علاقے کو کثیر ملکی کوششوں سے محفوظ بنا لیا جاتا ہے تو یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دینے میں مدد ملے گی جس کا فائدہ یہ ہو گا کہ اس علاقے کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے مزید فنڈز کی فراہمی آسان ہو جائے گی۔

error: