صدر عارف علوی کے خطاب کے دوران پارلیمانی پریس گیلری کے دروازے صحافیوں پر بند

پاکستان میں نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر صدر مملکت کے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر حکومت نے پریس گیلری میں صحافیوں کا داخلہ بند کر دیا۔

وفاقی حکومت کی طرف سے اس اقدام کے بارے میں کوئی وضاحتی بیان تو نہیں آیا لیکن وزارتِ داخلہ کے ایک ذریعے کے مطابق خفیہ اداروں نے حکومت کو رپورٹ دی تھی کہ صدر کے خطاب کے دوران صحافی پریس گیلری سے اس بل کے خلاف نعرے بازی کرسکتے ہیں۔

وزارت داخلہ میں موجود ذریعے کے مطابق خفیہ اداروں کی رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا تھا کہ چونکہ نئے پارلیمانی سال کے آغاز میں صدر مملکت کے خطاب کے دوران سروسز چیفس کے علاوہ غیر ملکی سفارت کار بھی ہوں گے، اس لیے اگر ان کی موجودگی میں ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو اس سے حکومت کی سُبکی ہوگی۔

پیر کے روز سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی رہائش گاہ پر اجلاس ہوا جس میں اس تمام صورتحال اور بالخصوص پارلیمنمٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کے دھرنے کا جائزہ لینے کے بعد پریس گیلری کو صدر کے خطاب کے دوران بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن(پی آر اے) کے صدر صدیق ساجد نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر مملکت کے نئے پارلیمانی سال کے موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے قبل صحافیوں نے قومی اسمبلی کے سپیکر کو حلف نامہ دیا تھا کہ وہ صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران نہ تو شور شرابہ کریں گے اور نہ ہی پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے خلاف نعرے بازی کریں گے۔

دھرنا

انھوں نے کہا کہ صحافیوں کی اس یقین دہانی کے بعد پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ نے 25 صحافیوں کے خصوصی پاس جاری کیے تھے۔ صدیق ساجد کے بقول انھوں نے یہ پاس خود وصول کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پیر کی دوپہر دو بجے تک سب کچھ ٹھیک تھا اور پھر اس کے بعد انھیں سپیکر آفس سے کال آئی کہ صدر کے خطاب کے دوران صحافیوں کے لیے پریس گیلری بند کر دی گئی ہے۔

پی آر اے کے صدر کا کہنا تھا کہ ان 25 صحافیوں کی جگہ پی آئی ڈی نے اپنے چند ’چہیتے‘ صحافیوں کو خصوصی پاس جاری کیے لیکن جب ان کے لیے بھی پریس گیلری کے دروازے بند کر دیے گئے تو وہ بھی صحافیوں کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو گئے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر صحافیوں نے سپیکر قومی اسمبلی کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وزیر اعظم اور سروسز چیفس کو قومی اسمبلی کے ایوان میں جانے کے لیے اپنا راستہ تبدیل کرنا پڑا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے خطاب کے دوران ایک موقعے پر کہا کہ ’میڈیا کا میں شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘ اور اس دوران میڈیا گیلری کی جانب دیکھ کر ہاتھ سے یوں اشارہ کیا گویا پوچھ رہے ہوں کہ گیلری خالی کیوں ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کی تنظیموں نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی بل کے خلاف اپنا احتجاج جاری رکھا جس کو سرکاری ٹی وی چینل کے علاوہ تمام نجی ٹی وی چینل کچھ کچھ وقفے کے بعد دکھاتے رہے۔

صحافیوں کے اس احتجاجی مظاہرے میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی شرکت کی اور ان دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب کے دوران اس مجوزہ بل کو نہ صرف کالا قانون قرار دیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ’فیک نیوز‘ کی آڑ میں اس طرح کا قانون لانے کا مقصد صحافیوں کو کنٹرول کرنا ہے۔

ان رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں اس بل کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہونے دیں گی۔ اس احتجاجی مظاہرے میں حکمراں اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ پاکستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر امین الحق نے بھی شرکت کی اور صحافیوں کو اپنی بھرپور حمایت کا یقین دلایا۔

اس احتجاجی مظاہرے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے علاوہ انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی نے بھی شرکت کی۔

صحافی تنظیموں کی طرف سے اس احتجاج کے دوران ایک کیمپ اس احتجاجی مظاہرے کے ساتھ بھی لگا ہوا ہے اور یہ کیمپ ان صحافی رہنماؤں کی طرف سے لگایا گیا تھا جنھوں نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے بل سے متعلق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے ملاقات کی تھی۔

پاکستان

جن صحافیوں نے وفاقی وزیر اطلاعات سے اس بل کی حمایت کے لیے ملاقات کی تھی، ان کے بارے میں پاکستان میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات سے ملاقات کرنے والے صحافی تنظیم کے نمائندہ نہیں ہیں۔

ان صحافیوں کی طرف سے لگائے گئے کیمپ سے حکومت کے خلاف نعرے نہیں لگائے جارہے تھے بلکہ یہ کہا جارہا تھا کہ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ کسی سیاسی رہنما یا کسی تنظیم کے منتخب نمائندے نے اس کیمپ کا دورہ نہیں کیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *