صدر نے 1.2 ارب روپے کے جعلی انوائسز اسکینڈل میں ایف بی آر درخواستیں مسترد کردیں

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے 1.2 ارب روپے کے جعلی انوائسز اسکینڈل میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی درخواستیں مسترد کردیں اور 42 درخواستوں کو نمٹا دیا۔

 رپورٹ کے مطابق ایف بی آر نے وفاقی ٹیکس محتسب کے ازخود نوٹس کیسز میں فیصلے کے خلاف صدر مملکت کے پاس درخواستیں جمع کرائی تھیں جن میں وفاقی ٹیکس محتسب کے ازخود مقدمات کے احکامات پر تنقید کی گئی جس میں جعلی دعویداروں کو ایف بی آر حکام کی جانب سے جعلی سیلز ٹیکس ریفنڈ جعلی دعویداروں کو مکمل یا جزوی طور پر ادا کیے گئے تھے۔

ایف بی آر کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن اِن لینڈ ریونیو نے اس جعلسازی کا پردہ چاک کیا تھا لیکن فیلڈ فارمیشن کو ریڈ الرٹ جاری کیے جانے کے باوجود ملوث حکام اور جعلی دعویداروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

وفاقی ٹیکس محتسب نے معاملے کا ازخوز نوٹس لیتے ہوئے ایف بی آر کو ہدایت کی تھی وہ رجسٹرڈ افراد کی تصدیق میں ملوث اہلکاروں کے خلاف تحقیقات اور تادیبی کارروائی کرے۔

ایف ٹی او کی سفارشات اور یکساں مقدمات میں صدر پاکستان کے احکامات کی روشنی میں ایف بی آر نے 6 فیکٹ فائنڈنگ کمیٹیاں تشکیل دیں جنہوں نے ری فنڈ کے جعلی دعوؤں سے متعلق 130 ازخود نوٹس کیسز کی تحقیقات کرنی تھی۔

کمیٹیوں کے قیام کا مقصد ہر کیس میں غلط کام میں ملوث عہدیدار کی نشاندہی کرنا اور ذمہ داری عائد کرنا تھا، ان کمیٹیوں کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی کہ وہ ہر عہدیدار کے حوالے سے ایک چارج شیٹ کا مسودہ اور الزامات کا بیان تیار کریں اور 30 دنوں کے اندر ایف بی آر کو رپورٹ پیش کریں۔

صدر عارف علوی نے کمیٹیوں کی تحقیقات کی روشنی میں مکمل اور جزوی جعلی ادائیگیوں کے متعلق ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کردیں۔

انہوں نے ایف بی آر کو ہدایت کی کہ جب تک ہر کیس میں کارروائی مکمل نہیں ہوجاتی ایف ٹی او کے دفتر میں ماہانہ عمل درآمد رپورٹ جمع کرائی جائے۔

انہوں نے یہ حکم بھی دیا کہ اگر کسی افسر کے خلاف محکمانہ کارروائی کی تجویز دی جائے تو انصاف اور بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اسے شوکاز اور سماعت کی سہولت دی جائے۔