Site icon Dunya Pakistan

صدر کا خطاب اور پریس گیلری کو تالہ

گزشتہ کئی برسوں سے ہمارے حکمران پاکستان کی بدنامی سے بہت خائف رہتے ہیں۔اسی باعث مجھ ایسے ڈنگ ٹپائو لکھاریوں سے بھی توقع باندھی جاتی ہے کہ وہ سیاپا فروشی کے بجائے وطن عزیز کی اچھی باتوں کی تشہیر کریں۔’’نوکر کی تے نخرا کی‘‘ سوچتے ہوئے اپنے تئیں مذکورہ حکم کی ہر صورت تعمیل کرنا چاہتا ہوں۔ میرا سر مگر اس وقت چکرانا شروع ہوجاتا ہے جب ہمارے حاکم بذاتِ خود ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو میرے ملک کو دنیا بھر میں رسوا کردیتا ہے۔ گزرے پیر کے دن بھی ایسی ہی حماقت سرزد ہوئی ہے۔

چوتھے پارلیمانی سال کے آغاز کے ساتھ صدرمملکت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے روایتی خطاب کرنا تھا۔ خطاب کی یہ رسم بنیادی طورپر نمائشی ہوتی ہے۔ دنیا کو پیغام دینا چاہتی ہے کہ ہم برطانیہ جیسا ایک ملک ہیں۔ یہاں منتخب پارلیمان ہے جو حکومتی کارکردگی پر کڑی نگاہ رکھتی ہے۔وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف سے بالاتر صدر مملکت کا منصب بھی ہے جو برطانیہ کی ملکہ کی طرح سب پاکستانیوں کا سرپرست ونگہبان ہے۔

1990کی دہائی سے تاہم ہمارے صدور جھکی بزرگوں کی طرح سیاسی بندوبست میں مسلسل مداخلت کرنا شروع ہوگئے۔افسر شاہی کے حتمی نمائندے کی حیثیت میں غلام اسحاق خان ہمارے ’’با با‘‘ بن گئے۔ان کی مداخلت حد سے بڑھی تو محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی قیادت میں ان دنوں کی اپوزیشن نے صدر کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سرجھکائے سننے سے انکار کردیا۔ ’’گو با باگو‘‘ کے نعروں سے ان کی تقریر کی روانی میں خلل ڈالنے کی کوشش ہوئی۔صدارتی خطاب کے دوران ہنگامے کی روایت فاروق لغاری کے دور میں بھی برقرار رہی ۔حتیٰ کہ فوجی وردی پہنے صدر مشرف بھی پارلیمان میں ہوئی تقریر کے دوران ہوئی ہنگامہ آرائی سے اکتا کر فضا میں مکا لہرانے کومجبور ہوئے۔صدر مملکت کے سالانہ خطاب کے دوران اپوزیشن کا شور شرابہ یوں کئی حوالوں سے ہماری پارلیمانی روایات کا حصہ بن گیا ہے۔ہم اس کے عادی ہوچکے ہیں۔

صدر کے خطاب کے دوران تاہم ایوان میں جو شور شرابہ ہوتا ہے پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہم وہاں بیٹھے جو دیکھ رہے ہوتے اسے فقط رپورٹ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔عمران حکومت کے چند نورتنوں کو نجانے کس نے اطلاع دی کہ اب کی بار ایوان سے زیادہ پریس گیلری میں بھی ہنگامہ آرائی ہوگی۔ اس کے تدارک کے لئے لہٰذا کسی طاقت ور نابغے نے فیصلہ کردیا کہ پریس گیلری ہی کو تالہ لگادیا جائے تاکہ بانس رہے نہ بانسری۔ میڈیا کی موجودگی کے بغیر ہوئی پارلیمانی کارروائی مگر دنیا بھر کے جمہوری ممالک کے لئے عجوبہ شمار ہوئی۔

اسلام آباد میں مقیم ہر ملک کے سینئر ترین سفارت کار صدرِ مملکت کا پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے خطاب سننے آتے ہیں۔ پیر کے روز بھی ایسے ہی ہوا۔سفارت کار مگر پارلیمان کی بلڈنگ میں داخل ہوئے تو لفٹ کی جانب لے جانے والی راہداری میں صحافی دیوار سے لگے ایک لمبی قطار میں بیٹھے تھے۔سفارت کاروں کو فوراََ پیغام مل گیا کہ میرے ملک میں جمہوری نظام اور صحافت کی اصل اوقات کیا ہے۔ اپنے خطاب کے دوران صدرِ مملکت بھی میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے صحافیوں سے خالی گیلری کو دیکھتے ہوئے ہکا بکا رہ گئے۔

عمران حکومت کے میڈیا نورتنوں کی پریشانی کا اصل سبب وہ دھرنا تھا جو صحافتی تنظیموں نے پارلیمان کے عین سامنے اتوار کی دوپہر سے دے رکھا تھا۔ مقصد اس دھرنے کا حکومت کو محض یہ پیغام دینا تھا کہ میڈیا پر کامل کنٹرول کی خاطر سوچے قانون کو متعارف ولاگو کرنے سے اجتناب برتا جائے۔اس دھرنے کے کئی سرگرم شرکاء میرے چھوٹے بھائیوںجیسے ہیں۔میں ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں بھی رہا ہوں۔بخداان میں سے کسی ایک کے ذہن میں بھی یہ ارادہ نہیں تھا کہ دھرنے سے اٹھ کر پارلیمان پر دھاوا بول دیا جائے اور صدرِ مملکت کے خطاب کے دوران پریس گیلری میں آزادیٔ صحافت کی حمایت میں نعرے بلند ہوں۔

ہمار ے ہاں ہر غلط کام کا ذمہ دار ’’ایجنسیوں‘‘ کو ٹھہرادیا جاتا ہے۔میں نے بھی کئی بار انہیں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔پیر کے روز مگر خبر ڈھونڈنے کے ہنر کو میں نے دیانت دار تجسس سے استعمال کیا۔میری جستجو نے بالآخر دریافت یہ کیا ہے کہ کسی ایک ’’ایجنسی‘‘ نے بھی حکومت کو پریس گیلری میں ممکنہ ہنگامے کی بابت خبردار نہیں کیا تھا۔ حکومتِ وقت کے میڈیا نورتنوں نے ازخود یہ فرض کرلیا کہ مختلف تنظیموں میں بٹے صحافیوں کے مابین اس سوال کی بابت دست وگریبان والا جھگڑا شروع ہوجائے گا کہ صدر مملکت کے خطاب کے دوران پریس گیلری سے احتجاجاََ واک آئوٹ کیا جائے یا نہیں۔ قومی اسمبلی کے سپیکر جناب اسد قیصر یہ امکان سن کر مزید گھبرا گئے کہ صحافیوں کے مابین ’’گھسن مکی‘‘ شروع ہوگئی تو کسی صحافی کو ایوان میں بھی پھینک دیا جائے گا۔یوں پریس گیلری کو تالہ لگانے کا فیصلہ ہوا۔

میں 1985سے پارلیمانی کارروائی کا مشاہدہ کرتے ہوئے انگریزی میں پریس گیلری والا کالم لکھ رہا ہوں۔ اس برس سے نمودار ہونے والی تقریباََ ہر حکومت نے مجھے اپنا خیرخواہ تصور نہیں کیا۔عموماََ مجھ سے شاکی ہی رہی۔حکومتی جبرکے بدترین دنوں میں بھی لیکن کسی نے میرا پارلیمان میں داخلہ روکنے کی کوشش نہیں کی۔ عمر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد پیر کے دن یہ ذلت بھی دیکھ لی ہے۔ میں غصے سے مغلوب ہونے کے بجائے اداس ہوگیا ہوں۔

زمانہ طالب علمی کے دوران ذہین اور امتیازی نمبروں سے پاس ہونے والا شخص تصور کیا جاتا تھا۔ اپنی صلاحیتوں کو کسی اور شعبے میں آزمانے کے بجائے میں نے صحافت سے عشق کا روگ پال لیا۔ اس عشق نے معاشی اعتبار سے مجھے ہمیشہ کمزور ہی رکھا۔ جی مگر مطمئن رہا۔ صحافت کی ساکھ اور وقار مگر اب مٹی میں مل چکے ہیں۔کسی اور شعبے میں اب جانہیں سکتا۔ زندگی کے جو دن رہ گئے ہیں انہیں صحافت کے ذریعے رزق کمانے کے ذریعے ہی گزارسکتا ہوں۔مردہ دلی کے ساتھ لہٰذا اس شعبے سے چپکا ہوا ہوں۔

میں لیکن محض ایک فرد ہوں۔میری پریشانی کا اصل سبب پاکستان کی شناخت اور امیج ہے۔پاکستان کے صدر کے خطاب کے دوران پارلیمان کی پریس گیلری صحافیوں سے خالی ہو تو میں کس منہ سے دیگر ممالک کے سفارت کاروں اور صحافیوں کے روبرو سینہ پھلاکر اپنے ملک کو ایک توانا جمہوری ملک کے طورپر پیش کرسکتا ہوں جہاں صحافت بھی آزاد اور جاندار ہے؟

پاکستان کے سافٹ امیج کے فروغ کے لئے گزشتہ کئی برسوں سے میڈیا میں کروڑوں کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ہمیں ففتھ جنریشن وار کے لئے بھی تیار کیا جاتا ہے۔حاضر حاضر لہور ہمارا۔ پیر کے دن پریس گیلری کی بندش نے دنیا کے روبرو مگر پاکستان کا جو چہرہ دکھایا وہ ہرگز خوش گوار نہیں تھا۔دیکھنا ہوگا کہ مجھ جیسے دو ٹکے کے لکھاریوں کو پاکستان کا ’’مثبت چہرہ‘‘ دکھانے کو اُکساتے حاکم پیر کے روز میرے ملک کی بدنامی کا باعث ہوئے نورتنوں کو لگام کیسے ڈالتے ہیں۔

Exit mobile version