Site icon Dunya Pakistan

صدیوں پہلے یورپ میں استعمال ہونے والے ہندسے جو ایک راز بن گئے

لندن کے نیلام گھر کرسٹی نے سنہ 1991 میں ایک ایسی نادر شے نیلامی کے لیے پیش کی جس میں اس کی دلکشی نہیں بلکہ اس پر کندہ پراسرار نشانات کی وجہ سے بہت دلچسپی ظاہر کی گئی۔

یہ آلہ زمانہ قدیم سے تعلق رکھتا تھا جو یورپ والوں کے آبا ؤ اجداد فلکیاتی حساب کتاب کے لیے استعمال کرتے تھے۔

مذکورہ آلہ غالباً ہسپانیہ میں 14ویں صدی عیسوی میں بنایا گیا تھا اور وہ مختلف ہاتھوں سے گزرتا ہوا موجودہ دور تک پہنچا ہے۔

اس آلہ میں دلچسپی رکھنے والوں میں برطانوی تاریخ دان ڈیوڈ اے کنگ بھی شامل تھے جنہوں نے اس آلے پر کندہ نقش و نگار سے ملتے جلتے نشانات شمالی فرانس کے علاقے نارمنڈی سے اسی دور کے کچھ مسوادات پر بھی دیکھے تھے۔

یہ نشانات اصل میں ہندسوں کا نظام تھا جس سے قرون وسطیٰ کے دور اور ریاضی کی تاریخ کے ماہرین بھی آگاہ نہیں تھے۔

اس وقت عربی زبان کے ریاضی کے ہندسے رومی ہندسوں کی جگہ لے رہے تھے لیکن اس سے کئی صدیوں قبل یہ ہندسے وسیع پیمانے پر استعمال میں تھے۔

،تصویر کا کیپشنمیتیو دی پیرس نے اپنی ایک کتاب میں ان ہندسوں کو لکھنے کا طریقہ بیان کیا ہے

ریاضی کے ہندسے تحریر کرنے کا یہ طریقہ 13 ہویں صدی میں مسیحیوں کے ایک فرقے کے راہبوں نے دریافت کیا تھا جو یورپ کی خانقاہوں میں دو صدیوں تک رائج رہا۔

مسیحیوں کے فرقے سسٹیشین کے پیرکاروں نے بحث میں پڑے بغیر کہ کونسے ہندسے بہتر ہیں اپنے طریقہ ترقیم کو تیسرے متبادل کے طور پر اپنائے رکھا جو برطانیہ سے اٹلی اور سپین سے سویڈن تک کے راہبوں کے لیے فائدہ مند تھا۔

یہ طریقہ ترقیم کافی مقبول بھی تھا کیونکہ رومن ہندسے کے برعکس اس طریقے میں کسی ایک ہندسے کو ایک علامت سے ظاہر کیا جانا ممکن تھا۔

رومن طریقے کے برعکس سسٹیشین ہندسے ضرب اور تقسیم کے لیے آسانی سے استعمال نہیں ہوتے تھے۔

جس وقت تک یہ مسودات کتابی شکل میں دستیاب ہوئے ایک سے لے کر نو تک کی گنتی پوری دنیا میں رائج ہو چکی تھی۔

اور رومن ہندسے D,C,L,X,V,I اور M تاریخ کے لیے محفوظ ہو گئے۔

سسٹیشین کے ہندسے متروک ہو گئےاور ایک صدی بعد وہ ایک پراسرار راز بن گئے۔

برطانوی تاریخ دان کنگ کے مطابق 18ویں صدی میں اس کا استعمال صرف شراب کے پیپے پر نمبر لگانے تک محدود رہ گیا یا فلانڈرز میں گہرائی ماپنے والے آلہ میں کیا جاتا تھا۔

سسٹیشین ہندسے تاریخ میں چند ہی مواقعوں پر سامنے آئے ہیں۔ فری میسن تحریک نے پیرس میں سنہ 1780 میں یہ طریقہ اختیار کیا تھا جب کہ 20ویں صدی میں جرمن لوک روایت کی قوم پرستانہ تحریروں میں یہ ہندسے نظر آئے۔

دلکش ہندسے

کنگ کے مطابق سسٹیشین راہبوں کا یہ نظام اس سادہ سے اصول پر بنایا گیا کہ ایک سے لے کر 99 تک کے ہندسے کے لیے ایک علامت ہونی چاہیے۔ تیرہویں صدی میں جان آف بیسنگ سٹوک نامی راہب اس طریقے کو ایتھنز سے انگلینڈ لے کر پہنچے۔

اس عرصے میں علامت کے ذریعے ہندوسوں کے اظہار کا طریقہ وسعت پا گیا اور ایک سے لے کر 9999 تک کے ہندسوں کی الگ الگ علامات بنالی گئی تھیں۔

پوپ بینیڈکٹ کے دور کے راہب اور تاریخ دان ماتیو دی پیرس نے اپنی مشہور کتاب ’کرونیکا میجورا‘ میں اس کو لکھنے کا طریقہ بیان کیا ہے۔

ذیل میں دی گئی تصویر میں ہر کونا یا قوس اکائی، دہائی، سینکڑا، ہزار اور دس ہزار کو ظاہر کرتا ہے۔

سسٹیشین خانقاہوں میں یہ نظام معمولی تبدیلیوں کے ساتھ رائج رہا۔ یہ تبدلیاں مختلف علاقوں میں بولی جانے والے زبانوں کی وجہ سے آئیں۔

ایک وقت میں ابتدائی لائن افقی ہوا کرتی تھی لیکن 14ویں صدی میں فرانسیسی راہبوں نے دوبارہ پرانا طریقہ اختیار کر لیا۔

ماتیو دی پیرس نے اس بات پر زور دیا کہ اس طریقہ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ جو عربی اور رومن ہندسوں میں نہیں کہ کوئی بھی ہندسہ اس طریقے میں ایک انفرادی علامت میں لکھا جا سکتا ہے۔

بلاشبہ اس میں صرف یہ مسئلہ ہے کہ آپ کو لکھنا اور پڑھنا آتا ہو۔ لیکن اگر اس کے بنیادی اصول سے آپ آشنا ہوں تو جتنا مشکل انھیں پڑھنا لگتا ہے یہ طریقہ اتنا مشکل نہیں ہے۔

Exit mobile version