صرف 10 سال کی عمر میں شطرنج کے ایک گرینڈ ماسٹر کو شکست دینے والے فریڈی

فریڈرک والڈہاؤزن گورڈن صرف 10 برس کے ہیں اور انھوں نے ابھی سے شطرنج کے ایک گرینڈ ماسٹر کو شکست دے دی ہے۔

تاہم سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھنے والے باصلاحیت فریڈی اپنی خوشی کا اظہار اپنے سکول کے دوستوں سے یہ سوچ کر نہیں کیا کیونکہ انھیں لگا یہ دکھاوا کرنے کے مترادف ہو گا۔

فریڈی نے چھ برس کی عمر میں شطرنج کھیلنا شروع کی اور ایک ہفتے کے اندر وہ اپنے والدین کو ہرانے لگے جنھوں نے ریاضی میں ڈاکٹریٹ کر رکھی تھی۔

ان کے والدین نے ان فتوحات کے بعد انھیں ایڈنبرا چیس اکیڈمی میں داخل کروایا جہاں وہ سکول کے اوقات کے بعد دو گھنٹے اور سنیچر اور اتوار کو چار گھنٹے مشق کرتے تھے۔ فریڈی نے ساتھ ساتھ یوٹیوب پر بہترین کھلاڑیوں کا کھیل دیکھنا شروع کیا اور ساتھ اپنے شطرنج کے استاد اور ان کے والدین کے قریبی دوست سے شطرنج کے گُر سیکھنا شروع کر دیے۔

فریڈی ابھی سے برطانیہ کے انڈر 10 چیمپیئن بن چکے ہیں، وہ اس وقت سکاٹ لینڈ کی تاریخ کے سب سے زیادہ شطرنج گریڈ حاصل کرنے والے جونیئرز میں سے ہیں اور اس وقت وہ ملک کے بہترین انڈر 18 کھلاڑی ہیں۔

اس سال مارچ میں انھوں نے بوگڈان لالک نام گرینڈ ماسٹر کو شکست دے کر انگلش چیس فیڈریشن پری ریپڈ ایوینٹ اپنے نام کیا تھا۔ شطرنج کے کھیل میں گرینڈ ماسٹر وہ کھلاڑی کہلاتا ہے جس نے بین الاقوامی ٹورنامنٹ جیت رکھے ہوں۔

فریڈی
،تصویر کا کیپشنیہ چیمپیئن شپ کووڈ کی پابندیوں کے باعث آن لائن کھیلی گئی تھی، اس لیے فریڈی کو اپنے والد کی سٹڈی میں بیٹھ کر یہ ٹورنامنٹ کھیلنا پڑا

اس ٹورنامنٹ کے چھ میچوں میں ان کا سامنا اپنی عمر سے زیادہ کے افراد کے ساتھ ہوا تاہم فریڈی کے مطابق کروشیا سے تعلق رکھنے والے 57 سالہ گرینڈ ماسٹر کے ساتھ میچ کے دوران انھیں سب سے زیادہ مزہ آیا۔

فریڈی جارج ہیریئٹ سکول کے طالبعلم ہیں اور انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس میچ کی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ 'میں بہت گھبرایا ہوا تھا، لیکن میں نے سوچا کہ جو بھی ہوا میں اس سے مزید سیکھ سکوں گا تاکہ میں زیادہ دباؤ میں نہ رہوں۔ انھوں نے کچھ ایسی چالیں چلیں جو میرے نزدیک غلط تھیں اور میں نے ان کا فائدہ اٹھایا۔ جیسے جیسے میچ آگے بڑھا ان کی یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں بہت بڑی لگنے لگیں۔'

'آخر میں ہم دونوں نے ایک دوسرے کے ایک جتنے مہرے ہی مارے تھے لیکن میں نے زیادہ اہمیت والے مہروں کو مارا تھا۔'

'پھر ایک وقت ایسا آیا جب میں جیتنے کے بہت قریب تھا تو لالک نے ہار مان لی۔'

یہ چیمپیئن شپ کووڈ کی پابندیوں کے باعث آن لائن کھیلی گئی تھی، اس لیے فریڈی کو اپنے والد کی سٹڈی میں بیٹھ کر یہ ٹورنامنٹ کھیلنا پڑا۔

'فتح کے بعد میں نے خوشی سے چھلانگیں لگائیں'

انھوں نے کہا کہ 'کھیل کے دوران مجھے مکمل خاموشی درکار ہوتی ہے اس لیے جس دوران میں کمرے کا دروازہ بند کر کے کھیل رہا تھا میرا خاندان باغ میں میرا انتظار کرتا رہا۔

'میں بہت زیادہ دفاعی انداز نہیں اپناتا بلکہ میں اپنے مخالفین کو ہر وقت ہوشیار رکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔'

'جیسے ہی میچ مکمل ہوا تو میں خوشی سے چھلانگیں لگانے لگا کیونکہ کرسی پر اتنی دیر تک بیٹھنا بھی آپ کو تھکا دیتا ہے۔'

اینڈریو گرین
،تصویر کا کیپشنگرین نے بتایا کہ شطرنج کے کھیل کی مقبولیت میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران 'تیزی سے اضافہ' دیکھنے میں آیا ہے

فریڈی نے پھر یہ پرمسرت خبر اپنے والدین اور چھوٹی بہن کو کمرے کی کھڑکی سے چیخ کر بتائی۔ ڈاکٹر ماجا اور پروفیسر آئن گورڈن ان کے والدین ہیں جبکہ ان کی 12 سالہ بہن کا نام جوزفین ہے۔

انھوں نے ابھی تک ٹورنامنٹ میں اپنی اس کامیابی کے بارے کسی کو نہیں بتایا جس میں انگلش گرینڈ ماسٹر کیتھ آرکل کے ساتھ میچ ڈرا بھی کرچکے تھے۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 'میں نے اپنے سکول میں کسی کو اس لیے نہیں بتایا کیونکہ مجھے لگا کہ ایسا کرنا دکھاوا کرنے کے مترادف ہے۔' 12 جون سے شروع ہونے والے سکاٹش جونیئر ٹورنامنٹ میں فریڈی بھی شریک ہوں گے۔ یہ ایونٹ جو چھ سال سے 18 سال کی عمر کے کھلاڑیوں کے لیے ہے اسے جیتنے والے کھلاڑیی کو 10 ہزار پاؤنڈ کی انعامی رقم دی جائے گی۔

اس کے شریک بانی اینڈریو گرین جو ایڈنبرا چیس اکیڈمی کے مالک بھی ہیں ایک دس سالہ بچے کا ایک گرینڈ ماسٹر کو شکست دینا 'غیرمعمولی' قرار دیتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ 'فریڈی جیسے اور بھی انتہائی باصلاحیت شطرنج کے کھلاڑی سامنے آ رہے ہیں۔ میرا خواب ہے کہ سکاٹ لینڈ اپنے شطرنج کے کھلاڑیوں کی وجہ سے جانا جائے۔'

انھوں نے بتایا کہ شطرنج کے کھیل کی مقبولیت میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران 'تیزی سے اضافہ' دیکھنے میں آیا ہے۔

میگی
،تصویر کا کیپشنسکاٹ لینڈ سے دیگر کم عمر کھلاڑیوں میں ایڈنبرا کی میگی وینگ بھی شامل ہیں جن کی عمر صرف نو برس ہے

انھوں نے کہا کہ ایک اس کی وجہ یہ ہے کہ اب لوگ زیادہ تر وقت گھروں پر گزارتے ہیں اور اس دوران شطرنج کھیلنے والی لڑکی پر بننے والی نیٹ فلکس کی 'دی کوئینز ایمبٹ' سیریز بھی خاصی مقبول ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ میگنس کارلسن، ہکارو ناکامورا اور بوٹیز بہنوں نے بھی گذشتہ چند سالوں میں اس کھیل کی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔

سکاٹ لینڈ سے دیگر کم عمر کھلاڑیوں میں ایڈنبرا کی میگی وینگ بھی شامل ہیں جن کی عمر صرف نو برس ہے۔ وہ ڈیوڈسن مینز پرائمری میں پڑھتی ہیں اور انھیں دو برس قبل شطرنج کھیلنا بھی نہیں آتی تھی اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اب سیکھنے کے مراحل میں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'میں اس ٹورنامنٹ کے لیے تیاری پزلز کھیل کر، آن لائن شطرنج سے متعلق ویڈیوز دیکھ کر اور میچز کھیل کر کر رہیں ہوں۔

'ایرک روسن میرے پسندیدہ کھلاڑی ہیں اس لیے میں ان کی ویڈیوز بہت زیادہ دیکھتی ہوں اور سیکھتی ہوں کہ کیسے مختلف قسم کی چالیں چلی جا سکتی ہیں جیسے مخالف کھلاڑی کو اپنے جال میں پھنسانے کی چال۔'

میگی نے کوئینز گیمبٹ کی کچھ قسطیں دیکھی ہیں اور انھوں نے سیریز میں موجود لڑکی کے اس عمل کو دہرانے کی کوشش بھی کی جس کے ذریعے وہ چھت پر شطرنج کے مہروں کو حرکت کرتا دیکھ سکتی تھیں۔

بیتھ ہارمن
،تصویر کا کیپشنمیگی نے کوئینز گیمبٹ کی کچھ قسطیں دیکھی ہیں اور انھوں نے سیریز میں موجود لڑکی کے اس عمل کو دہرانے کی کوشش بھی کی جس کے ذریعے وہ چھت پر شطرنج کے مہروں کو حرکت کرتا دیکھ سکتی تھیں

تاہم وہ کہتی ہیں: 'میں ایسا کرنے میں ناکام رہی۔ میں آنکھیں بند کر کے کچھ چالیں تو یاد رکھ سکتی ہوں، لیکن کھلی آنکھوں کے ساتھ میرے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے۔'

میگی کے والد شوؤ وینگ کا کہنا ہے کہ وہ انھیں شطرنج کھیلتے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہیں کیونکہ اس سے انھیں زندگی کے بارے میں متعدد سبق سیکھنے میں مدد ملے گی۔

میگی کے والد 41 سالہ سافٹ ویئر ڈیولپر ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ 'وہ کوئی کام کرنے سے پہلے زیادہ توجہ دے سکتی ہیں اور اس بارے میں مزید سوچ سکتی ہیں۔

شطرنج روزمرہ کی زندگی میں بہت کام آتی ہے۔ یہ اسے وہ چیزیں سکھا رہی ہے جس سے اسے شطرنج کے علاوہ بھی فائدہ ہو گا۔

'اسے پتا ہے کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ جیتتے ہیں یا ہارتے ہیں، اصل بات صرف اپنی شخصیت میں نکھار لانے کی ہے۔ اس کے بعد وہ اس علم کو دوسروں تک پہنچا سکتی ہیں۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *