ضلع کرم میں اغوا ہونے والے مزدور: ’سب لڑکوں سے کلمہ سُنا، نماز پڑھوائی، مگر میرے بھائی کے سر میں گولی مار دی‘

ساجد مقبول کو اس ’خطرناک‘ علاقے میں پہنچے تیسرا روز تھا، جب انھوں نے پہلی مرتبہ اُن لوگوں کو اپنے سامنے کھڑے دیکھا۔

وہ آٹھ لوگ تھے، اُن کے بال لمبے اور بےترتیب داڑھیاں تھیں اور وہ بھاری اسلحے سے لیس تھے۔

ساجد کے مطابق ’ان کے پاس اتنا اسلحہ تھا کہ اگر انھیں فوج کے ساتھ بھی جنگ کرنا پڑ جاتی تو وہ چار پانچ گھنٹے آرام سے لڑائی کر سکتے تھے۔‘

اُس وقت دن کے چار بجے کا وقت تھا اور تیز آندھی کے ساتھ بارش ہو رہی تھی۔ ساجد اور ان کے ساتھی ایک خیمے میں پناہ لیے بیٹھے تھے۔ مسلح افراد نے انھیں باہر نکلنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی اُن پر تشدد کرنا شروع کر دیا۔

پھر انھوں نے ساجد مقبول اور ان کے باقی پندرہ ساتھیوں کو قطار میں کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع کرم کے اس پہاڑی علاقے میں ان مسلح افراد نے انتہائی اطمینان کے ساتھ باری باری ان سولہ افراد کا انٹرویو لینا شروع کیا۔

ان میں زیادہ تر افراد کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع اوکاڑہ کے مختلف دیہاتوں سے تھا۔ وہ تمام لوگ مزدور تھے اور اس پہاڑی علاقے میں ایک نجی موبائیل کمپنی کے لیے مواصلاتی ٹاور نصب کرنے کا کام کر رہے تھے۔

جلد ہی مسلح افراد نے چھ افراد کو باقی لوگوں سے الگ کر لیا۔ ساجد مقبول ہی کے گاؤں بمبی گشکوری سے تعلق رکھنے والے اُن کے ساتھی گلفراز احمد بھی ان چھ افراد میں شامل تھے۔

ساجد کے مطابق ’وہ چُن چُن کر لوگوں کو الگ کر رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ انھوں نے پہلے ہی سے ہماری مخبری کر رکھی تھی۔ میں نے گلفراز کو ایک طرف کر کے چھپانے کی کوشش بھی کی مگر وہ اسے ڈھونڈ کر علیحدہ کر لیتے تھے۔‘

مسلح افراد نے ہر ایک لڑکے سے پہلے کلمے سُنے اور پھر اُن کے مسلک اور عقیدے کے بارے میں سوالات کیے گئے۔

گلفرار کے والد فوج سے بطور سپاہی ریٹائر ہوئے تھے اور گلفراز نے پوچھ تاچھ کے دوران مسلح افراد کو یہ بات بتا دی تھی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ساجد مقبول نے بتایا کہ اُن کے خیال میں ’یہی گلفراز کی غلطی تھی۔ میرے بھی والد فوج سے ریٹائر تھے لیکن میں نے یہ بات نہیں بتائی اُنھیں۔‘

ساجد مقبول
،تصویر کا کیپشنساجد کے مطابق 'وہ چُن چُن کر لوگوں کو الگ کر رہے تھے‘

انھیں کب معلوم ہوا کہ وہ اغوا ہو گئے تھے؟

اس کے بعد ہر لڑکے سے نماز پڑھوائی گئی۔ چھ مردوں کو الگ کرنے کے بعد ان تمام افراد کے ہاتھ ان کی کمر پر باندھ دیے گئے اور مسلح افراد انھیں ہانکتے ہوئے پہاڑی سے نیچے اُترانے لگے۔ ساجد کو علم نہیں تھا کہ وہ کہاں جا رہے تھے لیکن انھیں یہ معلوم ہو چکا تھا کہ وہ اغوا ہو چکے ہیں۔

انھیں اتنا یاد ہے کہ سخت تکلیف کے عالم میں انھیں کئی گھنٹے پیدل جل کر سمڑیال نامی اس پہاڑی سے نیچے اُترنا پڑا۔ راستے میں ایک چشمے کے قریب رُک کر جب انھوں نے پانی مانگا تو مسلح افراد نے ہر ایک مغوی کو صرف ایک ایک گھونٹ پانی پلایا۔

اس کے بعد دوبارہ انھیں چلنے کا حکم دیا گیا۔ قریباً رات کے دس بجے کے قریب وہ پہاڑی سے نیچے اترے تو اغواکاروں نے ساجد اور باقی نو ساتھیوں کے ایک دوسری چھوٹی پہاڑی پر چڑھنے کا حکم دیا۔

’انھوں نے کہا اس پہاڑی پر ہمارا ایک ساتھی بیٹھا ہے، تمہیں اس سے ملنا ہے۔ اگر کسی نے راستے میں اِدھر ادھر دیکھا تو وہ گولیوں سے بھون دے گا۔‘

ان کے باقی ساتھیوں کو کہاں لے جایا گیا؟

گلفراز سمیت ان کے باقی چھ ساتھیوں کو وہ ساتھ لے کر غائب ہو گئے۔ جاتے ہوئے وہ ساجد اور ان کے ساتھیوں کے موبائل فون، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا ساتھ لے گئے۔ ساجد کے مطابق علی الصبح وہ پہاڑی کے اوپر پہنچ کر بھوک اور تھکن سے نڈھال ہو کر گر پڑے تھے۔

’صبح ایک چرواہا اس طرف آیا۔ اس نے ہمارے ہاتھ کھولے اور ہمیں نیچے لے جا کر آرمی کے پاس پہنچایا۔‘ چند روز بعد ساجد اپنے گاؤں واپس اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ چکے تھے لیکن وہ اپنے دوست گلفراز کے لیے فکرمند تھے۔

انھیں میڈیا کے ذریعے بعد میں پتا چلا کہ وہ مسلح افراد ایک دہشت گرد گروہ سے تعلق رکھتے تھے جنھوں نے ان کے چھ ساتھیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ دو روز بعد ساجد کے گاؤں میں خبر پہنچی کہ سکیورٹی اداروں کو اسی پہاڑی علاقے سے ایک لاش ملی تھی جسے گولیاں مار کر قتل کیا گیا تھا۔

فائل فوٹو بلوچستان
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

گلفراز کے گھر والوں کو خبر کیوں نہ ہوئی؟

اوکاڑہ کے گاؤں بمبی گشگوری میں گلفراز کے خاندان والے سخت پریشان تھے۔ ساجد کی واپسی پر گلفراز کے بڑے بھائی سرفراز احمد نے اُن کی تلاش شروع کر دی تھی۔ اب تک وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ ہمیشہ کی طرح گلفراز چند روز میں واپس لوٹ آئیں گے۔

سب سے پہلے انھوں نے ساتھ والے گاؤں سے تعلق رکھنے والے اس ٹھیکیدار سے رابطہ کیا جو گلفراز کو کام پر لے کر گئے تھے۔ ساجد مقبول کے مطابق ٹھیکیدار نے انھیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ کام انھیں کرم کے علاقے میں کرنا تھا جہاں دہشت گردوں کا خطرہ موجود تھا۔

’ہمیں کہا گیا تھا کہ کوہاٹ جانا ہے۔ جب کوہاٹ پہنچے تو کہا دو آبہ آ جاؤ۔ وہاں سے تین گھنٹے کی مسافت پر دیر کا علاقہ ہے پھر وہاں بلایا گیا اور اس کے بعد چھ گھنٹے سفر کر کے ہم اس پہاڑی پر پہنچے تھے۔‘

ساجد کے مطابق انھوں نے ٹھیکیدار سے دریافت کیا تھا کہ اس علاقے میں کوئی خطرہ تو نہیں تو ’انھوں نے بتایا کہ دو ماہ سے یہاں کام ہو رہا تھا، کوئی خطرہ نہیں ہے۔‘

ٹھیکیدار نے گلفراز کے بھائی سرفراز کو بتایا کہ ان کے بھائی سمیت چھ لوگوں کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا تھا۔ وہ کروڑوں روپے تاوان مانگ رہے تھے۔

گلفراز کو چھوٹی عمر میں تعلیم چھوڑ کر کام کرنا پڑا

ساجد مقبول
،تصویر کا کیپشنساجد، گلفزار کی قبر پر فاتحہ خانی کرتے ہوئے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلفراز کے بھائی سرفراز نے بتایا کہ ٹھیکیدار انھیں صحیح بات نہیں بتا رہے تھے۔ ’انھیں جب بھی فون کرتے، یا تو بند ہوتا تھا یا پھر وہ تسلی دے دیتے تھے کہ جلد ہمارا بھائی واپس آ جائے گا۔ کپمنی اقدامات کر رہی تھی۔‘

گلفراز اپنے گھر والوں کے بہت لاڈلے تھے۔ وہ چار بھائی تھے۔ سرفراز اور ایک چھوٹا بھائی کھیتی باڑی کرتے ہیں اور ایک چھوٹا بھائی ابھی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔

گلفراز نے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد ٹاورز نصب کرنے کے پراجیکٹس پر محنت مزدوری کا کام شروع کر دیا تھا۔

ان کے بھائی کے مطابق ’والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد گھر کے حالات ایسے ہو گئے تھے کہ وہ آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکے تھے اور چھوٹی ہی عمر میں انھیں کام کاج تلاش کرنا پڑا تھا۔‘

گاؤں کے دوسرے لڑکے ٹاورز نصب کرنے کے کام پر ٹھیکیداروں کے ساتھ جاتے تھے۔ گلفراز نے بھی جانا شروع کر دیا تھا۔ انھیں کبھی اس قسم کے خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ وہ ایک مہینے میں 35 سے 40 ہزار روپے کما لیتے تھے۔ ان کے گھر میں وہ سب سے زیادہ کمانے والے فرد تھے۔

جنگل سے ملنے والی لاش کس کی تھی؟

ٹھیکیدار کے جوابوں سے مایوس ہو کر سرفراز احمد نے اپنے بھائی کی تلاش کے لیے اپنے اور دوستوں کے تعلقات استعمال کرنا شروع کر دیے۔ ان کے ایک چچا فوج میں تھے جن کی مدد سے انھیں مزید معلومات اور ایک تصویر موصول ہوئی تھی۔

یہ اس لاش کی تھی جو سکیورٹی اداروں کو جنگل سے ملی تھی۔ وہ سرفراز کو بھجوائی گئی تھی کہ وہ اس کی شناخت میں مدد کریں۔ موبائل فون پر موصول ہونے والی تصویر دیکھ کر سرفراز اور ان کے گھر والوں نے دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیا تھا۔

ان کی والدہ تو بے ہوش ہو گئی تھیں۔

’یہ گلفراز کی تصویر تھی۔ انھوں (اغواکاروں) نے ہمارے بھائی کو شہید کر دیا تھا۔ سر میں گولی ماری تھی۔‘

انھیں بظاہر تاوان کی رقم نہ ملنے پر پہلی ڈیڈ لائن کے اختتام پر وارننگ کے طور پر مارا گیا تھا۔ دہشت گرد وہاں کے مقامی ٹھیکیداروں سے تاوان کی رقم کا مطالبہ کر رہے تھے اور انھوں نے دھمکی دے رکھی تھی کہ پیسے نہ ملنےکی صورت میں تمام مغویوں کو ایک ایک کر کے مار دیا جائے گا۔

ہمارا تو سب کچھ تباہ ہو گیا

گلفراز
،تصویر کا کیپشن’'جوان بھائی تھا ہمارا۔ بازو تھا ہمارا‘

گلفراز کی لاش کو ایمبولینس کے ذریعے اسلام آباد پہنچایا گیا۔ سرفراز احمد اوکاڑہ سے اسے وصول کرنے کے لیے یہاں پہنچے تھے۔ گرمی کی وجہ سے لاش کی حالت تھوڑی خراب ہو چکی تھی۔ وہ جلد اسے لے کر گھر کے لیے روانہ ہو گئے تھے۔

گاؤں میں 20 سالہ گلفراز کی لاش پہنچنے پر کہرام مچ گیا تھا۔ ان کے والد دہائیاں دے کر روتے ہوئے بے ہوش ہو گئے۔ تدفین کے بعد تین روز گزر جانے کے بعد بھی ان کی صحت اتنی زیادہ خراب تھی کہ وہ تعزیت کے لیے آنے والے افراد سے نہیں مل رہے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گلفراز کے بھائی سرفراز احمد کا کہنا تھا کہ ’جوان بھائی تھا ہمارا۔ بازو تھا ہمارا۔ جب سے اس کی لاش گھر آئی ہے سارے گھر والے بیہوش پڑے ہیں۔ ہمارا تو سب کچھ تباہ ہو گیا۔‘

گلفراز کے ساتھ اغوا ہونے والے دیگر پانچ افراد کو بعدازاں پاکستانی فوج نے بازیاب کروایا تھا۔

فوج کے پبلک ریلیشنز کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق ’تمام پانچ مغوی افراد کو بازیاب کروا لیا گیا جبکہ علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔‘

یاد رہے کہ مزدورں کی بازیابی سے قبل 13 جولائی کو ان مغوی مزدوروں کی بازیابی کے لیے کیے جانے والے ایک ابتدائی آپریشن میں شدت پسندوں سے فائرنگ کے تبادلے میں فوج کے ایک کیپٹن اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

پولیس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ آپریشن خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے قبائلی علاقے کرم میں خوائداد خیل کے مقام پر کیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کے دوران شدت پسندوں کی جانب سے ہونے والی فائرنگ سے کیپٹن محمد باسط اور ایک سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔

چندہ مانگتے، کچھ بھی کرتے ہم اپنے بھائی کو بچا لیتے

سرفراز احمد کو خوشی تھی کہ باقی تمام خاندانوں کو اس اذیت سے نہیں گزرنا پڑا جس سے وہ اور ان کے گھر والے گزر رہے ہیں۔ بھائی کی موت کے غم کے ساتھ غصہ بھی تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹھیکیدار ان کے بھائی کی موت کے ذمہ دار تھے۔

’انھوں نے ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ہمیں تو اس وقت پتہ چلا جب ہمارا بھائی مارا جا چکا تھا۔ اگر ان (ٹھیکیداروں) سے پیسوں کا بندوبست نہیں ہو رہا تھا تو ہمیں بتاتے۔ بیشک ہم غریب ہیں لیکن چندہ مانگتے، کچھ بھی کرتے، ہم اپنے بھائی کو بچا لیتے۔‘

سرفراز کو لگتا تھا کہ انھیں موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ اپنے بھائی کو بچانے کی کوشش کر پاتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ حکومت ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جنھوں نے ان کے بھائی کو قتل کیا ہے۔ ’حکومت چاہے تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔‘

وہ ان لوگوں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کرنا چاہتے ہیں جنھوں نے ان کے بھائی کو ’موت کے منھ میں دھکیلا۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *