طالبان افغان کرکٹ کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے، افغانستان کرکٹ بورڈ

طالبان نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرکٹ سے کوئی مسئلہ نہیں اور وہ افغانستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کے امور میں مداخلت نہیں کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق جہاں ایک طرف طالبان نے مردوں کی ٹیم کو کھیلنے کی اجازت دے دی ہے وہیں خواتین کی ٹیم کا مستقبل غیریقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

اتوار کو کابل پر طالبان کے کنٹرول کے باوجود افغان کرکٹ بورڈ نے تصدیق کی کہ سری لنکا میں پاکستان کے خلاف ٹی20 سیریز شیدول کے مطابق ہو گی اور وہ شپاگیزا ٹی20 لیگ میں توسیع بھی کررہے ہیں۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے میڈیا آپریشنز کے سربراہ حکمت حسن نے کہا کہ طالبان کو کرکٹ سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور انہوں نے ہمیں کہا ہے کہ ہم اپنے منصوبے شیڈول کے مطابق جاری رکھ سکتے ہیں جس کے بعد ٹیم پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے کابل میں دو روزہ تربیتی کیمپ مکمل کر لیا ہے جبکہ ہمارے اسپانسرز، پروڈکشن ٹیم اور کٹ بھی تیار ہے۔

حکمت حسن نے کہا کہ ہم پراعتماد ہیں کہ سیریز میں شرکت کر سکیں گے اور آنے والے ہفتوں میں اس کی تیاری کریں گے، میرا نہیں خیال کہ اس میں کوئی مسئلہ ہو گا۔

90 کی دہائی میں اپنے سابقہ دور میں طالبان نے کثر تفریحی پروگراموں اور کھیلوں پر پابندی عائد کردی تھی لیکن انہیں رکٹ سے کبھی بھی کوئی مسئلہ نہیں رہا اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے کیمپ میں افغان باشندوں نے اس کھیل کو سیکھ کر عبور حاصل کیا۔

اس کے بعد یہ کھیل وہاں پر یکساں مقبول ہے اور راشد خان اور محمد نبی کو وہاں سپر اسٹار کا درجہ حاصل ہے۔

افغانستان کی مقامی سطح کی ٹی20 لیگ شپاگیزا میں مزید دو فرنچائزیں شامل کی گئی ہیں اور یہ ٹورنامنٹ 10 سے 25 ستمبر تک منعقد ہو گا۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے عہدیدار نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ کھیل قومی کو یکجا کرنے کا ایک ذریعہ ہے جس سے مقامی افراد کے چہروں پر خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔

البتہ ملک میں خواتین کرکٹ کے حوالے سے غیریقینی صورتحال بدستور برقرار ہے جہاں اس وقت 25 لڑکیوں کا افغان کرکٹ بورڈ سے معاہدہ ہے۔

طالبان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ وہ اسلامی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کریں گے لیکن ابھی تک خواتین کے کھیلوں کے حوالے سے کوئی عندیہ نہیں دیا۔

اپنے سابقہ دور حکومت میں انہوں نے خواتین اور لڑکیوں کو کام کرنے اور اسکول جانے سے روک دیا تھا اور خواتین کے گھر سے نکلنے کے لیے حجاب کی پابندی عائد کی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *