طالبان نے امدادی ٹرکوں سے پاکستان کا پرچم اتارنے والے اہلکاروں کو گرفتار کرلیا

طالبان نے امدادی ٹرکوں سے پاکستان کا پرچم اتارنے والے کارکنان کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے اس عمل سے پاکستانی عوام کو ٹھیس پہنچنے پر معذرت کر لی۔

یہ ٹرک ضروری امدادی سامان لے کر طورخم سرحد کے راستے افغانستان پہنچے تھے۔

اتوار کو پاکستان نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ضروری اشیائے خورونوش سے لدے 17 کنٹینر ٹرک افغانستان میں طالبان کی نو تشکیل شدہ حکومت کو عطیہ کیے تھے۔

طورخم سرحد پر امدادی اشیا افغان طالبان کے حوالے کرنے کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاک افغان تعاون فورم کے چیئرمین حبیب اللہ خان نے دیگر پاکستانی عہدیداران کے ہمراہ سامان سے لدے کنٹینرز طالبان رہنما مولوی مبارز افغانی کے حوالے کیے۔

تقریب سے خطاب میں حبیب اللہ خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ ایسے وقت میں کیا گیا جب جنگ زدہ اور غربت کے شکار افغانستان کے عوام کو اس طرح کی مدد کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

تاہم سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو میں طالبان کارکنان کو ٹرک کی سائیڈ میں لگا پاکستانی جھنڈا اتارتے دیکھا گیا۔

ویڈیو میں، جس میں عام شہری اور طالبان جنگجو نظر آرہے ہیں، لوگوں کو جھنڈے کو 'پھاڑنے' کا کہتے ہوئے سنا گیا۔

جھنڈے کو اتارتے ہی بلند آواز میں نعرے سنائی دیے جبکہ ایک طالبان جنگجو کا کہنا تھا کہ جھنڈے کو جلا دینا چاہیے۔

ویڈیو پر ردعمل میں طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا کہ پاکستانی جھنڈے کو ٹرک سے ہٹانے پر اسلامی امارات کی پوری کابینہ 'افسردہ' ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'اس واقعے سے یقیناً ہمسایہ ملک کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہوگی جس پر ہم معذرت کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ ہر قسم کے اچھے تعلقات چاہتے ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پرچم کے ہٹانے میں جو اہلکار ملوث تھے انہیں گرفتار کیا جاچکا ہے، ان اہلکاروں سے اسلحہ بھی واپس لے لیا گیا جبکہ اسلامی امارات کے قانون کے مطابق انہیں سزا دی جائے گی۔