طالبان نے کابینہ میں توسیع کردی، خواتین شمولیت سے تاحال محروم

طالبان نے نائب وزرا نامزد کر کے اپنی عبوری کابینہ میں توسیع کی ہے لیکن کابینہ کے پہلے اعلان کے بعد ہونے والی بین الاقوامی تنقید کے باجود کسی خاتون کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق عالمی برادری نے خبردار کیا تھا کہ وہ طالبان کو ان کے اقدامات سے پرکھے گی اور طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ان کے خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے منسلک ہوگا۔

نوے کی دہائی کے آخر میں افغانستان کی اپنی سابقہ حکومت کے دوران طالبان نے لڑکیوں اور خواتین کو اسکولوں، کام اور عوامی زندگی میں شمولیت سے روک دیا تھا۔

تاہم طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں کابینہ میں نئی شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں نسلی اقلیتوں مثلاً ہزارہ کے اراکین بھی شامل ہیں اور ہوسکتا ہے بعد میں خواتین کو بھی شامل کرلیا جائے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے لیے بین الاقوامی شرط پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسے روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ ہماری حکومت کو تسلیم کرے اور دیگر ممالک بشمول یورپی، ایشیائی اور مسلمان ممالک ہم سے سفاتی تعلقات قائم کریں'۔

طالبان نے اپنی موجودہ کابینہ کو عبوری حکومت قرار دیا ہے جس کے مطلب یہ ہے کہ اس میں تبدیلی اب بھی ممکن ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا کبھی انتخابات کروائے جائیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد سے خواتین اور لڑکیوں پر نافذ حالیہ پابندیوں کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں چھٹی سے 12ویں جماعت کی طالبات کو فی الوقت اسکول جانے کی اجازت نہ دینا شامل ہے۔

جس پر انہوں نے کہا کہ یہ عارضی فیصلہ ہے، اس بات کا اعلان جلد کیا جائے گا کہ وہ کب اسکول جاسکتی ہیں، انہیں اسکولز جانے کی اجازت دینے کے لیے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر افغانستان میں چھٹی سے بارہویں جماعت کے طلبا کا تعلیمی سلسلہ بحال کرنے کا اعلان ہوا تھا۔

ترجمان طالبان حکومت نے وزارت امور خواتین کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی جسے گزشتہ ہفتے وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں تبدیل کردیا گیا تھا یعنی نیکی کا حکم، دینا اور برائی سے روکنا۔

کابینہ میں مزید شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’یہ عہدے امارات کے کام کرنے کے لیے اہم ہیں۔

سرکاری ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مہنگائی پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں لیکن ان پر کام کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔

طلوع نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مقامی ریونیو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے لیکن ہم افغان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کررہے ہیں۔

وزیراعظم عمران خان کی امن کی کاوشوں کی تعریف

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ترجمان طالبان حکومت نے امن، استحکام اور جامع افغان حکومت کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔

ان کا کہنا تھا کہ گروپ نے افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم کے مثبت بیانات کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھا۔

رپورٹ کے مطابق ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان، قطر، چین کے فعال کردار کو تسلیم کیا اور اپنا کردار ادا کرنے کے خواہشمند دیگر ممالک کا خیرمقدم کیا۔

طالبان ترجمان نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پاکستان اور کچھ دیگر ممالک کے افغانستان کے ساتھ سیاسی رابطے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *