طالبان کابل پہنچ گئے

امریکی افواج کے افغانستان میں داخل ہونے کے تقریباً 20سال بعد افغانستان کی حالت ایسی ہوگئی کہ حکومت مؤثر طریقے سے گر چکی ہے اور صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں۔ فوج لڑنے کے لیے اپنی مرضی کھو چکی ہے۔ طالبان کی پیش قدمی جاری ہے، جس نے پہلے ہی سخت قانونی نظام قائم کیا ہواہے اور اب اس نے کابل پر قبضہ کر لیا ہے۔ لوگ خوف زدہ ہوکر ائیر پورٹ پر جمع ہیں اور وہ کسی طرح سے ہوائی جہاز پر سوار ہونے کے لئے بیقرار ہیں۔ افغانستان میں طالبان کے لوٹنے سے جہاں ایک طبقہ خوش ہے تو وہیں کچھ لوگوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔خوش وہ طبقہ ہے جو طالبان کے اسلامی طرز کی حکومت کو پسند کرتے ہیں جبکہ وہیں وہ طبقہ مایوس ہے جنہیں مغربی ثقافت پسند ہے اور ممکن ہے طالبان کے دورِ حکومت میں ان کا جینا محال ہوجائے۔خیر اب یہ معاملہ اتنا پیچیدہ ہے کہ اس پر اگر بحث کی جائے تو اس میں سوائے حجت و تکرار کے کچھ نہیں حاصل ہونے والا ہے۔اور پچھلے کئی سالوں سے یہی دیکھابھی جارہا ہے۔تاہم مغربی طاقتوں اور امریکہ کا افغانستان پر قبضہ یوں بھی غیر اصولی اور زیادتی تھا۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو افغانستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قبایلی لوگوں نے اپنی طاقت کے بل بوتے پر ہمیشہ جنگیں لڑی ہیں۔ پٹھانوں کے بارے میں عام طور پر لوگوں کا یہی قیاس ہے کہ پٹھان ایک جنگجو قوم ہے جو اپنی طاقت پر حکمرانی کرنا فخر سمجھتے ہیں۔ اگر آپ برطانیہ یا امریکہ کے باشندے ہیں تو انہیں یہ بات گوارا نہیں کہ افغانستان پر قبضہ کریں۔ البتہ مغربی اور امریکی طاقتیں اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ ان کی زبان، ثقافت، شراب،بے حیائی اور انفرادی زندگی وغیرہ پر پیر اعمل ہو کر زندگی بسر کریں۔چاہے اس کے لئے مغربی طاقتوں کو اپنی فوج کا ہی استعمال کیوں نہ کرنا پڑے۔ویسے یہ معاملہ ہے بڑا پیچیدہ، کیونکہ مغربی ممالک میں رہ کر جن اچھائیوں کو ہم نے اپنایا ہے وہیں یہاں کی برائیوں سے بھی ہمیں اتنا ہی خوف لگا رہتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی ممالک کی آزادی اور انفرادیت کا جو مزہ ہے، وہ مجھے نہیں لگتا کہ اگر میں افغانستان جا کر رہوں تو مجھے میسر ہوگا۔مثلاً مذہبی آزادی، عزت، جان و مال کی حفاظت، روزگار کی سہولت، انسانیت، مرد اور عورت میں برابری،تعلیم، وغیرہ ایسی

بنیادی چیزیں ہیں جس کے لئے میرے جیسا آدمی برطانیہ آنے کے بعد واپس جانے کا اردہ ہی ترک کر دیا۔ اسی طرح میرے جیسے لاکھوں لوگ جو برطانیہ آئے انہوں نے اسی آزادی اور بہتر زندگی کی خاطر اپنی جائے پیدائش کو خیر آباد کر کے یہاں کے باشندہ ہونے کا فیصلہ کیا۔

اتوار 15/اگست کو جب ہندوستان اور پاکستان اپنی آزادی کا جشن منارہے تھے تو میرے ایک رفیق نے ویمبلی، لندن سے مجھے فون کر کے بتایا کہ طالبان کابل پہنچ گئے۔میں نے کہا، کوئی نئی بات بتائے۔ بڑی عجیب بات ہے، بھائی طالبان اور افغانستان کا کافی پرانا رشتہ ہے۔ طالبان ہیں ہی افغانی اور اگر افغانی اپنے ہی ملک میں بر سر اقتدار ہوگئے تو اس میں حیرانی کی کیا بات ہے۔ہاں حیرانی انہیں یہ ہورہی کہ اگر طالبان افغانستان میں بر سر اقتدار رہ گئے تو پھر اسلامی طرز حکومت کی مثالیں دنیا بھر میں عام ہوگی اور پھر اس بات کو مغربی طاقتیں کیسے ہضم کریں گی۔ طالبان کو 2001ء میں امریکی قیادت والی افواج نے افغانستان سے اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ یہ گروپ جارجیت کا شکار رہا ہے اور اب دوبارہ اقتدار کرنے کے دہانے پر ہے۔ جیسا کہ امریکہ نے دو دہائیوں کی جنگ کے بعد 11ستمبر تک اپنا انخلا مکمل کرنے کی تیاری کی، جس کے بعد طالبان نے بڑے شہروں پر قبضہ کر لیا اور اب انہوں نے دارالحکومت کابل پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ طالبان 2018ء میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں داخل ہوا اور فروری 2020میں دونوں فریقوں نے دوحہ میں ایک امن معاہدہ بھی کیا۔ جس نے امریکہ کو انخلا کا عزم کیا اور طالبان نے امریکی افواج پر حملوں کو روکنے کا عزم کیا۔طالبان افغانستان سے سویت فوجیوں کے انخلا کے بعد شمالی پاکستان میں 1990ء کی دہائی کے اوائل میں ابھرے تھے۔ ٹیلی ویژن پر ان ویڈیو کو دیکھ کر حیرانی ہوئی جس میں ہزاروں افغانی امریکی ائیر فورس کے طیارے کے ساتھ دوڑتے ہوئے نظر آئے۔ اس کے علاوہ کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر ایسے بھی دکھے جس میں افغانی ہوائی جہاز کے باہر جھولتے ہوئے نظر آئے۔ ان ویڈیو کو مغربی میڈیا نے دکھا کر افغانستان کی ابتر حالت کو بیان کیا۔ سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ ان لوگوں کو اتنا علم نہیں کہ ہوائی جہاز کوئی سڑک پر چلنے والی بس نہیں کہ جس پر جھول کر یا چھت پر بیٹھ کر سفر کیا جا سکتا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے طالبان کے ملک پر قبضے کے باوجود افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا ’مشن‘ کبھی بھی قوم کی تعمیر کے بارے میں نہیں تھا۔تاہم جو بائیڈن نے اعتراف کیا کہ واقعات تیزے سے تبدیل ہوئے جو انہوں نے سوچا نہیں تھا اور انہوں نے ا س تباہی کا ذمہ دار افغان رہنماؤں کو ٹھہرایا۔امریکی صدر نے مزید یہ بھی کہا کہ افغان حکومت ان کے مشورے لینے میں اور طالبان کے ساتھ سیسی تصفیہ کرنے میں ناکام رہی۔ مسٹڑ غنی نے اصرار کیا کہ افغان فورسز لڑیں گی۔ لیکن ظاہر ہے کہ وہ غلط تھا۔امریکی اس جنگ میں مر رہے ہیں اور وہ اس طرح نہیں لڑ سکتے جبکہ افغان اپنے لیے لڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد امریکہ کے لیے چار اہم سوالات ہیں جس پر آنے والے دنوں میں دنیا کی نظر ہوگی۔ امریکی فوج یا دیگر امریکی تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افغانوں کا کیا ہوگا؟ کیا امریکہ طالبان حکومت کو تسلیم کرے گا؟امریکی قومی سلامتی کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟کیا امریکی انٹیلی جنس ناکام ہورہی ہے؟ خیر طالبان کابل پہنچ چکے ہیں۔ دنیا بھر میں طالبان کے دوبارہ افغانستان واپسی پر ملا جلا رد عمل پایا جارہا ہے۔میں طالبان کے دوبارہ آنے سے نہ ہی تو امید افزا ہوں اور نہ ہی مایوس ہوں۔ مجھے اس بات سے حیرانی بھی نہیں ہوگی کہ کچھ ہی برسوں میں ایک بار پھر امریکی یا مغربی طاقتیں دوبارہ افغانستان پر حملہ کریں گی۔بلکہ امریکی اور مغربی طاقتوں کی دنیا بھر میں اسلامی طرز کے حکمرانوں سے نوک جھونک چلتی رہے گی چاہے وہ ممالک مشرق وسطیٰ کی ہوں یا ایشیا کی ہوں۔ طالبان کو اگر افغانستان میں اپنی حکومت کو قائم رکھنی ہے تو انہیں اپنے رویوں میں تبدیلی لانی ہوگی۔ امریکہ اور مغربی ممالک سے دوستانہ تعلقات بہتر بنانے ہوں گے۔عورتوں کے حقوق کا پامال نہیں کرنا ہوگا اور پڑوسی ممالک سے تال میل اچھا رکھنا پڑے گا۔ تبھی طالبان اس بات کو ثابت کر پائیں گے کہ وہ اسلامی طرز حکومت کی ایک اچھی مثال ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *