طلحہ طالب سمیت چھ پاکستانی ویٹ لفٹر ڈوپنگ کی وجہ سے معطل

ڈوپنگ سے متعلق بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی ( آئی ٹی اے) نے پاکستان کے چھ ویٹ لفٹروں کو معطل کردیا ہے۔ معطل ہونے والوں میں نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب بھی شامل ہیں۔

طلحہ طالب اور ابوبکر غنی کو معطل کیے جانے کی وجہ ان کے ڈوپ ٹیسٹ میں ممنوعہ شے کا پایا جانا بتایا گیا ہے جبکہ دیگر چار ویٹ لفٹر شرجیل بٹ، عبدالرحمن، غلام مصطفیٰ اور فرحان امجد کی معطلی ڈوپ ٹیسٹ کے سیمپلز جمع کرانے سے انکار کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی دنیا بھر میں ڈوپنگ کا خود مختار ادارہ ہے۔

اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ طلحہ طالب کا پہلا ڈوپ ٹیسٹ کسی مقابلے کے باہر 29 نومبر 2021 کو لیا گیا تھا جس کے بعد ان کا دوسرا ڈوپ ٹیسٹ 10 دسمبر 2021 کو تاشقند میں ہونے والی ورلڈ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ کے موقع پر لیا گیا تھا۔

دونوں ٹیسٹ میں ممنوعہ شے کی مقدار پائی گئی تھی۔

ویٹ لفٹر ابوبکر غنی کا ڈوپ ٹیسٹ بھی 9 دسمبر 2021 کو ورلڈ چیمپئن شپ کے دوران لیا گیا تھا اور اس کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔

واضح رہے کہ عالمی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں ڈوپنگ کی ذمہ داری انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کے سپرد کی گئی تھی۔

انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی اور واڈا کی مشترکہ تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چار دیگر پاکستانی ویٹ لفٹروں نے بھی ڈوپنگ کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان قواعد و ضوابط کا تعلق ڈوپ ٹیسٹ کے سیمپلز جمع نہ کرانے یا انکار سے ہے۔

یہ ڈوپ ٹیسٹ 10 نومبر 2021 کو پاکستان میں لیے گئے تھے۔

انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کا کہنا ہے کہ ان تمام چھ ویٹ لفٹروں کو حتمی نتائج سے مطلع کردیا گیا ہے اور وہ معطلی کے دوران قومی یا بین الاقوامی سطح پر کسی بھی قسم کے مقابلے میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔

اس پورے معاملے کو انٹرنیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی دیکھ رہی ہے اس نے اس بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے تاہم غالب امکان یہی ہے کہ ان تمام چھ ویٹ لفٹروں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ان چھ میں سے تین ویٹ لفٹر وہ ہیں جنھیں اسی سال برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کرنی تھی، جن میں نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب قابل ذکر ہیں۔ دیگر دو ویٹ لفٹر ابوبکر غنی اور شرجیل بٹ ہیں۔

طلحہ طالب

طلحہ طالب کا کیریئر متاثر

طلحہ طالب نے ٹوکیو اولمپکس میں پانچویں پوزیشن پر آنے کے باوجود زبردست شہرت حاصل کی تھی۔ ٹوکیو اولمپکس میں وہ صرف دو کلو گرام کی کمی کی وجہ سے تمغہ نہیں جیت پائے تھے۔

طلحہ طالب نے گزشتہ سال دسمبر میں ورلڈ چیمپئن شپ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ ورلڈ ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ میں تمغہ جیتنے والے پاکستان کے پہلے ویٹ لفٹر بنے تھے اور اس سال کامن ویلتھ گیمز میں 67 کلوگرام کیٹگری میں گولڈ میڈل جیتنے کے لیے فیورٹ تھے۔

طلحہ طالب نے پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی جانب سے اپنی معطلی کے بارے میں مطلع کیے جانے کے بعد فیڈریشن کو ایک تفصیلی خط تحریر کیا تھا، جس میں انھوں نے یہ بتایا تھا کہ ان کے کریئر میں اب تک نو ڈوپ ٹیسٹ ہوچکے ہیں اور کبھی بھی وہ اس میں ناکام نہیں ہوئے۔

انھوں نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ پاکستان میں ہمیں ایسی سہولت میسر نہیں کہ جس سے پتہ چل سکے کہ ایک عام سا سپلیمنٹ اور وٹامنز بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ طلحہ نے یہ بات واضح کردی تھی کہ وہ اپنے بی سیمپل کے ٹیسٹ کے لیے اصرار نہیں کریں گے۔

ابوبکر غنی ورلڈ چیمپئن شپ میں 61 کلوگرام کیٹگری میں تیرہویں نمبر پر آئے تھے اور انھوں نے بھی کامن ویلتھ گیمز کے لیے کوالیفائی کیا تھا البتہ شرجیل بٹ کامن ویلتھ گیمز میں میڈل جیتنے کے لیے فیورٹ خیال کیے جارہے تھے۔

انھوں نے ورلڈ چیمپئن شپ کی 55 کلوگرام کیٹگری میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن سے جب ان ویٹ لفٹروں کی معطلی کے سلسلے میں رابطہ کیا گیا تو پی او اے کے سیکریٹری خالد محمود نے بتایا کہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن یا عالمی فیڈریشن کی طرف سے انھیں باضابطہ طور پر مطلع نہیں کیا گیا ہے جبکہ پاکستان ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کے صدر حافظ عمران بٹ سے رابطے کی کوشش کامیاب ثابت نہ ہوسکی۔