طوائف الملوکی اور ریاستی مجرا

ہم اکثر افغانستان کو طعنہ دیتے ہیں کہ اس کا نسلی اور جغرافیائی ڈھانچہ کبھی بھی ایک وفاقی جمہوریت میں ڈھلنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔

وہ زیادہ سے زیادہ ایک ایسی ڈھیلی ڈھالی کنفیڈریشن کی صورت میں برقرار رہ سکتا ہے جس میں توازنِ طاقت کا انحصار اس پر ہے کہ کون سا گروہ کن حالات میں کب تک اقتدار پر اپنی گرفت قائم رکھ سکے۔

گویا ایک مسلسل پیکار ہے جس نے افغان سماج کو جکڑ رکھا ہے اور اس جکڑ بندی کے سبب اجتماعی ترقی ممکن نہیں۔

اور ہم خود کو ایک ایسی وفاقی ریاست کہتے ہیں جو ایک متفقہ آئین کے تابع ہے، جہاں ایک منتخب پارلیمانی نظام کام کر رہا ہے، عدلیہ کا وجود ہے، ایک مضبوط افسر شاہی اور انتہائی منظم فوج ہے۔

اس ملک کو ایک نظریاتی مملکت بھی کہا جاتا ہے۔ جمہوریت جیسی کیسی سہی چل تو رہی ہے۔ اس اعتبار سے تو اس ریاست کو بہت پہلے ان ممالک کی صف میں آ جانا چاہیے تھا جہاں آئینی ڈھانچہ نہ صرف فعال ہے بلکہ اس کے سہارے سیاسی، معاشی و سماجی ترقی کی رفتار بھی مسلسل ہے اور عام شہری ہر وقت یہ بھی نہیں سوچتا کہ کل کیا ہوگا؟

مگر یہ کیا کہ ہم 75 برس بعد بھی انسانی ترقی کے معیار میں گنے چنے پسماندہ ایشیائی اور بہت سے افریقی و لاطینی ممالک کے ہم پلّہ ہیں، جو یہ دعویٰ بھی نہیں کرتے کہ ان کے ہاں ایک اچھا خاصا قابلِ عمل آئینی نظام ہے جس میں ہر ادارہ اپنے اپنے دائرے میں کمزور سہی مگر فعال ہے۔

لیکن ہم نہ صرف ان ممالک سے اپنا تقابل کرتے ہوئے اتراتے ہیں بلکہ بزعمِ خود عالمِ اسلام کے امام بھی ہیں اور اپنے حالات پر کڑھنے کے باوجود ان سے پیچھا چھڑانے کے بجائے خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اپنے سے بھی کمزور ممالک کے مقابلے میں غنیمت رکھا ہوا ہے۔

ایسا نہیں کہ جب ہم آزاد ہوئے تو قلاش تھے۔ ہمیں ایک فعال جیتا جاگتا نوآبادیاتی ڈھانچہ، بنیادی ادارے، مواصلاتی نیٹ ورک، بہت اہم جغرافیہ اور مباحثے کا کلچر ورثے میں ملا۔

مگر ہم نے اس ڈھانچے کو اور معیاری بنانے کے بجائے محض گنے چنے اداروں اور طبقات کی مضبوطی و پائیداری پر تمام وسائل جھونک دیے اور مملکت کی فلاح کا یہ اصول اپنایا کہ جس ادارے یا وفاقی یونٹ میں جتنا دم ہے وہ اتنے وسائل اڑا لے جائے۔

وسعت اللہ خان کا کالم بات سے بات

جن جن ممالک نے آزادی کے بعد ترقی کی ان کی اشرافیہ یا تو خود روشن خیال تھی یا پھر اس سوچ کی مالک تھی کہ جب سب ترقی کریں گے تو ہمارا حصہ بھی بڑھے گا۔

مگر ہماری اشرافیہ نے جتنا میسر ہے اسے سمیٹنے اور دیگر امورِ مملکت رواں رکھنے کے لیے قرض کو آمدنی جانا۔ یوں خود غرضی سکہ رائج الوقت ہوتی گئی اور پھر سب ہی کا جھاکا کھل گیا۔ جس میں جتنا دم تھا اتنا ہی وہ لے اڑا اور پھر ان ہی وسائل کو ملک کی قیمت پر خود کو اور طاقتور بنانے کے لیے استعمال جاری ہے۔

ایک آئین اور آئینی اداروں کی دعوے داری ہوتے ہوئے جب بھی کوئی کہتا ہے کہ اگر یہ ملک قائم ہے تو صرف فوج کی وجہ سے (ورنہ تو یہ ملک افغانستان، شام، لیبیا اور صومالیہ بن چکا ہوتا) تو اس ایک جملے سے ہمارے پورے آئینی ڈھانچے کی اوقات الف ہو کر سامنے آ جاتی ہے۔

گویا اس ملک کو باہمی رضامندی یا نظریے یا آئین یا وفاقی نظام نے نہیں بلکہ طاقت نے ایک لڑی میں پرو رکھا ہے اور طاقت ہی وہ سورج ہے کہ جس کے اردگرد باقی ادارے طفیلی سیاروں کی مانند گردش میں ہیں۔

مگر طاقت کا مذہب یہ ہے کہ یہ کسی ایک گروہ یا ادارے کی گرفت میں مستقل نہیں رہ پاتی، بٹتے بٹتے غیر ریاستی گروہوں اور افراد کے ہاتھوں میں تقسیم در تقسیم ہوتی جاتی ہے۔

یہی طوائف الملوکی کہلاتی ہے کہ جس میں جس بھی طاقتور کا جب بھی بس چلے ریاست اس کے اشاروں پر مجرا شروع کر دیتی ہے اور فیصلے کھلے ایوانوں میں نہیں بلکہ بند کمروں، کھلی شاہراہوں اور اوطاقوں پر ہوتے ہیں۔

تیغ اس کی ہے شاخِ گل اس کی

جو اسے کھینچتا ہوا لے جائے (رسا چغتائی)

مگر ہمارا اترانا برقرار رہنا چاہیے کیونکہ ہم افغانستان، صومالیہ یا شام نہیں ہیں۔ اس میں ہماری اپنی کوششیں کتنی دخیل ہیں یا پھر یہ بھی قدرت کا کرشمہ ہے؟ اس کا جواب آپ پر چھوڑتا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.