طوطیا من موطیا!

اقبالؒ مرحوم کی بہت سی تعلیمات بھی ’’مرحوم‘‘ ہی ہو چکی ہیں۔ مثلاً یقین، عمل، خودی، انا، غیرت، تسخیر کائنات وغیرہ۔ غیرت کے متعلق تو اقبالؒ نے کہا تھا:

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

اور یوں دوسرے بہت سے مقامات کے علاوہ اقبالؒ سے یہاں بھی غلطی ہوگئی۔ اب سروں پر تاج غیرت کی بنیاد پر نہیں پہنائے جاتے بلکہ اس سے پہلے سر کو اچھی طرح ٹٹول کا دیکھا جاتا ہے کہ کہیں اس میں غیرت کا سودا تو نہیں سمایا ہوا! اگر اس میں سے تولہ بھر غیرت بھی برآمد ہو جائے تو ’’امیدوار‘‘ کے سارے نمبر کاٹ لئے جاتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے سر کے لئے کانٹوں کا تاج تجویز کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں بازاروں میں غیرت کا بہت مندا ہے بلکہ صورت حال تو کچھ یوں ہے کہ سمجھدار لوگ اس شخص کے قریب سے کنی کترا کر گزر جاتے ہیں جس کے متعلق شبہ ہو کہ اس میں غیرت کی کوئی رمق موجود ہے۔ گزشتہ ہفتے میں اسلام آباد میں تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک صاحب بلکہ صاحب بہادر سے ہوئی۔ انہوں نے غالباً گرمی سے بچنے کے لئے سر پر فلیٹ ہیٹ پہنا ہوا تھا۔ ان کے ہاتھ میں پائپ اور منہ میں انگریزی تھی۔ موصوف تھری پیس سوٹ میں ملبوس تھے اور عہدے کے لحاظ سے ترقی کی کئی منزلیں طے کر چکے تھے۔ میں نے ان سے ان کی ترقی کا راز پوچھا تو بولے ’’یہ سب اقبالؒ کی تعلیمات پر عمل کرنے کا فیض ہے‘‘ میں یہ سن کر بہت حیران ہوا اور پوچھا ’’وہ کیسے؟‘‘فرمایا، اقبالؒ نے ایک جگہ کہا ہے:

خوشامد ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں

پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

چنانچہ میں نے ان کے مشورے پر عمل کیا اور آج میرے سر پر تاج ہے، میں نے کہا ’’جناب آپ کو غلطی لگی ہے۔ اقبالؒ نے اپنے شعر میں خوشامد نہیں غیرت کی با ت کی ہے،’’خوشامد‘‘ سے تو ویسے بھی شعر کا وزن خراب ہو جاتا ہے‘‘۔

بولے ’’مجھے تو یہی بتایا گیا تھا کہ اس شعر میں اصل لفظ خوشامد ہے غیر حقیقت پسند لوگوں نے اسے بدل کر غیرت کر دیا ہے۔ ویسے خوشامد کے لفظ سے اگر شعر کے وزن پر زد پڑتی ہے تو غیرت سے کرسی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ لہٰذا آپ براہ کرام میری یا شعر کی اصلاح کی کوشش نہ کریں‘‘۔

مجھے اس وقت صاحب بہادر کی بات اچھی نہ لگی مگر بعد میں میں نے غور کیا تو مجھے اپنی اور اقبالؒ کی غلطی کا احساس ہوا۔ غیرت کیا ہے محض لوگوں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔ اس کے برعکس خوشامد وہ اسم اعظم ہے جس سے ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں۔ خوشامد خواہ ملکی حکمرانوں کی ہو یا غیر ملکی حکمرانوں کی،یہ انسان کی وہ خفیہ قوتیں بیدار کرتی ہے جن کے فوائد کا اسے علم ہی نہیں ہوتا مثلاً اس کے بے شمار فوائد میں سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ اس کے ذریعے جہاں ترقی کے زینے طے کرسکتے ہیں وہاں اپنے بدترین دشمن کا قلع قمع بھی اس کی خوشامد کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ یہ نسخہ میرا آزمایا ہوا ہے میں نے اپنے ایک دشمن کو جس کی ناک ٹیڑھی، آنکھیں بٹن جتنی اور رنگ تارکول سے ملتا تھا، یہ یقین دلا دیا کہ روئے ارض پر اس سے حسین شخص آج تک پیدا نہیں ہوا اور حسینانِ جہاں اس پر مرتے ہیں جس کی اسے خبر ہی نہیں ہے‘‘ اس نے پوچھا ’’نسرین بھی مرتی ہے‘‘ میں نے کہا ’’ہاں وہ تو تمہارے فراق میں دن رات آہیں بھرتی ہے مگر اسے جرأت نہیں ہوتی کہ وہ تم سے حال دل کہے، تمہارا رعب ِحسن اسے حال دل کہنےمیں رکاوٹ ہے‘‘ اس پر یہ ’’خوبرو‘‘ نوجوان اگلے ہی روز اپنے اس کشتہ حسن کی خدمت میں حاضر ہوا اور کھل کر اظہار عشق فرمایا۔ چنانچہ یہ جو اس کی ٹانگ اور بازو کا فریکچر ہے وہ اس واقعہ کے بعد کا ہے۔

یہ جو خوشامد ہے اس سے دشمن ہی کانہیں، دوستوں کابھی قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔یہ تو وہ ہتھیار ہے جو سپر پاور بھی اپنے ’’دوست‘‘ کو نیچے لگانے، اس سے اپنے سارے مقاصد پورے کرانے اور پھر اس کے بعد ڈسپوزیبل اشیا کی طرح کوڑے کے ڈبے میں پھینکنے کے لئے استعمال کرتی ہے۔ دنیا کے کئی پسماندہ اور ترقی پذیر ملکوں کے حکمران سپر پاور سے اپنے ملک کی بجائے اپنی تعریف سن کر اس وقت تک خوش ہوتے رہتے ہیں جب تک وہ اپنے انجام کو نہیں پہنچ جاتے۔ خوشامد اگر تخت تک پہنچاتی ہے تو یہ اپنے وصول کنندہ کو تختہ دار تک بھی لے جاتی ہے۔

تاہم اس گفتگو کا یہ مطلب نہیں کہ خوشامد سے بچا جائے کیونکہ اس سے بہرحال بہت سے وقتی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں، بچنے کی اگر کوئی چیز ہے تو وہ غیرت ہے جس پر اقبالؒ ایسا غیر حقیقت پسند شاعر اپنی شاعر ی میں زور دیتا چلا آتا ہے کیونکہ غیرت میں جان کا زیاں ہوتا ہے، اس غیرت نے ٹیپو سلطان کو کیا دیا، اچھی خاصی حکومت کے مزے لوٹ رہا تھا۔ غیرت کا سودا سر میں سمایا اور انگریز کے خلاف لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کرلیا ۔یہ کشمیری، یہ فلسطینی ایک نکی جئی ہاں کہہ کر اپنے جسم سلامت رکھ سکتے ہیں مگر ان نادانوں کے سروں میں بھی غیرت کا کیڑا سلگتا رہتا ہے اور یہ اپنے سروں پر کفن باندھ کر گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سے پہلے ویت نامیوں نے، ایرانیوں نے، چینیوں نے، فرانسیسیوں نے، روسیوں نے اور دوسری بہت سی اقوام کے سر پھروں نے بادشاہوں کو ان کے پرتعیش محلات سے نکال باہر کیا اور یہ نہیں سوچا کہ وہ اپنے کل کے لئے اپنا آج برباد کر رہے ہیں تاہم خدا کا شکر ہے کہ نائن الیون کے بعد سے اس سوچ کے مضر اثرات پر بہت کام ہو رہا ہے اور لوگوں کو سمجھ آنا شروع ہوگئی ہے کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا اصول ہی ٹھیک ہے۔ اس اصول کےمطابق اگر جنگلوں کا نظام پوری کامیابی سے چل رہا ہے تو شہروں میں کامیابی سے کیوں نہیں اپنایا جاسکتا، سو برادران وطن سے میری درخواست ہے کہ وہ چھوٹے موٹے مفادات کے لئے جہاں خوشامد ایسے مجرب نسخے کو بروئے کار لائیں وہاں مفادات کے فل پیکیج اور اپنی ستر اسی سالہ زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے غیرت وغیرہ کے چکر میں کبھی نہ پڑیں۔ یہ ایک فضول سی چیز ہے ، اپنے بچوں کو بھی وصیت کریں کہ وہ اپنی آئندہ نسلوں کو بھی یہی وصیت کریںکہ طوطیا من موطیا توں ایس گلی ناں جا۔ ایس گلی دے جٹ برے. . . . . . .۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: