طوفان گلاب: کراچی کے لیے خطرہ ٹل گیا، طوفان کا بلوچستان کی جانب رخ

طوفان گلاب کا رخ اب کراچی اور سندھ کے جنوبی علاقوں سے مڑ کر مغرب سے شمال مغرب کی طرف ہو گیا ہے یعنی اب اس طوفان کا رخ بلوچستان کی طرف مڑ گیا ہے۔

اس سے سندھ میں سمندری طوفان اور موسلا دھار بارش کے امکانات کم ہو گئے ہیں تاہم خطرہ ٹلنے کے باوجود محکمہ موسمیات نے کراچی میں جمعے کو کہیں کہیں معتدل اور تیز بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جبکہ بلوچستان کے ساحلی علاقوں میں تاحال شدید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے کیونکہ ڈیپ ڈپریشن جنوب مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

خراب موسم کی پیشگوئی کے بعد کراچی کے سمندر میں نہانے پر بھی پانچ اکتوبر تک پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ جمعے کو شہر میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ صوبہ سندھ میں تمام تعلیمی ادارے بند کردیے گئے ہیں۔ کراچی یونیورسٹی میں امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمنٹے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کے ساحلی علاقے حالیہ برسوں میں ہونے والی بارشوں کے سبب بار بار اچانک آنے والے سیلابی ریلوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چھ گھنٹوں میں یہ ڈپریشن سائیکلون جیسے طوفان میں بدل جائے گا اور یہ مغرب شمال کی طرف مکران کوسٹ کو رخ اختیار کر سکتا ہے۔

کراچی سے 160 کلو میٹر دوری پر گذشتہ بارہ گھنٹوں میں اس گہرے ڈپریشن میں بدلتے طوفان نے پندرہ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے نئی سمت اختیار کر ہی۔

موسم

طوفان گلاب کی صورتحال

ماہرین کا کہنا ہے کہ ستمبر عام طور پر ایسا مہینہ نہیں ہوتا جس میں سائیکلون بنتے ہیں کیونکہ جنوب مغربی مون سون کا موسم اپنی واپسی کے مرحلے میں ہے۔ انڈیا کے محمکہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر میں 1891 اور 2020 کے درمیان صرف 50 سمندری طوفان تشکیل پائے جبکہ اکتوبر میں 124 اور نومبر میں 145، جو کہ طوفان پیدا کرنے والے اہم مہینے ہیں۔

50 میں سے 41 خلیج بنگال میں اور نو بحیرہ عرب میں بنتے ہیں۔ ستمبر میں 1975 کے بعد سے 11 سمندری طوفان آئے ہیں، جب سے مصنوعی سیاروں نے موسم کے رجحان کی نگرانی شروع کی۔ ان میں سے چھ خلیج بنگال میں اور پانچ بحیرہ عرب میں تھے۔

حکومتِ سندھ کے اقدامات

محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کی گی تنبیہ میں ماہی گیروں کو 30 ستمبر سے تین اکتوبر تک سمندر میں جانے سے گریز کی ہدایت کی گئی تھی۔

اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر برائے محکمہ بحالی و امداد غلام رسول چانڈیو نے جمعرات کو کو بتایا تھا کہ سمندری طوفان گلاب کے باعث طوفانی بارشوں کے خطرے کے پیش نظر پی ڈی ایم اے سندھ کے تمام افسران اور عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی ہیں۔

افسران کو عملے سمیت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو عملے اور سامان کے ساتھ الرٹ رہنے، تیزبارشوں کے نتیجے میں نکاسی آب کے لیے ضروری تمام تر اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔

محکمے کے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ تمام عملہ موسلادھار بارشوں کے خطرے کے پیش نظر ہیڈ کوارٹرز اوردفاتر میں 24 گھنٹے موجود رہنے کو یقینی بنائے۔

کراچی ڈویژن سمیت صوبے کے دیگر مختلف اضلاع میں 18 ڈی واٹرنگ پمپ مشینز بھیج دیے گئے ہیں۔

سیلابی صورتحال سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر

  • سب سے پہلے اپنے گھر کی انگیٹھی، پانی و بجلی کے ہیٹر اور بجلی کے پینل کو اونچا کر کے لگائیں۔ گھروں میں بجلی کی ناقص وائرنگ بھی حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔ بجلی کی وائرنگ کو چیک کریں، اگر کوئی نقص ہو تو دور کریں۔
  • ضرورت کی ایسی اشیا جو پہلی منزل پر ہونے کی وجہ سے پانی سے خراب ہوسکتی ہیں ان کو اونچا کر کے اور اگر گھر کی دوسری منزل ہو تو وہاں رکھیں
  • سیلاب کے پانی کو اپنے گھر کے اندر، صحن، نالیوں میں جمع ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کریں۔ ممکن ہو تو سیلاب کے پانی کو عمارت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے باڑ بنائیں، اگر کسی کو تہہ خانے کی سہولت حاصل کرنی ہو تو اس کی دیواروں کو واٹر پروف بنائیں
  • جن علاقوں میں اب پانی کھڑا ہے وہاں سے اس کو نکلنے میں وقت لگ سکتا ہے اس لیے اگر ممکن ہو تو زیادہ پانی والے مقام سے فی الفور نقل مکانی کر لیں
  • جس عمارت میں رہائش پزیر ہیں اس کے بارے میں تعین کریں کہ وہ کتنی محفوظ ہے۔ اگر محفوظ نہیں ہے تو محفوظ بنانے کے اقدامات کریں ورنہ عمارت خالی کر دیں
  • بارشوں کے باعث ہونے والے نقصان کی صورت میں طویل مدت کے لیے بجلی بند ہونے کا بھیا امکان ہوتا ہے اس لیے سامان کی ایسی کٹ پاس ہونا ضروری ہے جس میں خراب نہ ہونے والا کھانا، پانی، بیٹری پر چلنے والا یا ہینڈ کرنک والا ریڈیو، اضافی فلیش لائٹ اور بیٹریاں شامل ہوں۔
  • ہنگامی صورتحال کے لیے محلے کے اندر اور باہر ان جگہوں کی منصوبہ بندی کریں جہاں آپ کے گھر والے اور محلے والے ملیں گے اور سیلاب کی صورت میں اونچی جگہ کی طرف جائیں۔

باہر جانا ناگزیر ہو تو کیا کریں؟

ایسی صورتحال میں اگر شہریوں کو انتہائی ضرورت کے تحت باہر نکلنا پڑے تو ان کو چند احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کرنی چاہییں۔

  • ہاتھ میں کوئی ٹھوس چیز رکھیں۔ عموماً ایک چھڑی جو کہ بزرگ افراد استعمال کرتے ہیں، فائدہ مند رہتی ہے۔ یہ سہارا بھی دیتی ہے اور چلتے ہوئے اس کی مدد سے گڑھے وغیرہ کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے۔
  • تیز بہتے ہوئے پانی میں کچرا اور ملبہ بھی آ رہا ہوتا ہے، جس میں ٹھوس اور تیز دھار اشیا بھی ہو سکتی ہیں، ان سے بھی ٹکرانا انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہوتا ہے۔ پاؤں میں مضبوط جوتے پہنیں، عموماً لانگ شوز کہلائے جانے والے جوتے پانی میں زیادہ حفاظت کرتے ہیں۔
  • چھتری سے بہتر ہے کہ اچھی کوالٹی کی برساتی پہنی جائے۔
  • موٹر سائیکل، چھوٹی گاڑیاں بالکل استعمال نہیں کرنی چاہییں کیونکہ یہ عموماً پانی میں بند ہوجاتی ہیں جس سے زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
error: